تازہ ترین

’نریندر مودی کا دورہ خیرسگالی کے لیے تھا‘

پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم نے لاہور میں ہونے والی ملاقات میں دو طرفہ روابط بڑھانے، تعلقات کی بہتری اور امن کے عمل کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔


مودی کا دورۂ لاہور

سرکاری ٹی وی نے دفترِ خارجہ کے حوالے سے خبر دی ہے کہ وزیراعظم نواز شریف اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ امن کا مقصد پاک بھارت عوام کی خوشحالی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے تعلقات کی بہتری کے لیے باہمی کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

پاکستان نے کہا ہے کہ پاک بھارت وزرائے اعظم کی ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی اور اس کے دوران امن کے قیام اور تعلقات کی بہتری کے لیے اتفاقِ رائے کیا گیا۔ اس کے علاوہ یہ اعلان کیا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے سیکریٹری خارجہ کے درمیان جنوری کے وسط میں ملاقات ہو گی۔

پاکستان کے سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے بھارتی وزیراعظم کی دہلی روانگی کے بعد ایئر پورٹ پر میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ وزیراعظم نریندر مودی کا یہ دورہ خیرسگالی کادورہ تھا۔

اعزاز چوہدری کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیراعظم کے ساتھ ان کے سلامتی کے مشیر بھی موجود تھے جس میں پاکستان کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار اور وہ خود بھی موجود تھے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ ملاقات بڑے خوشگوار ماحول میں ہوئی۔ دونوں وزرائے اعظم نے خیرسگالی کے ماحول میں ملاقات کی۔‘

انھوں نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم نے کہا تھا کہ وہ کابل سے واپسی پر پاکستان آنا چاہتے ہیں اور وزیراعظم نے اسے خوش آئند قرار دیا۔

ایئرپورٹ پر صحافیوں سے گفتگو میں پاکستان کے سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے سوالات کے جواب میں کہا کہ پاکستان کی سول اور عسکری قیادت متحد ہے

تاہم ان کے مطابق یہ دورہ نہایت مختصر نوٹس پر ہوا جس کے باعث اہم حکومتی شخصیات وزرائے اعظم کی ملاقات میں شریک نہیں ہو سکے۔

انھوں نے بتایا کہ وہ چونکہ لاہور میں موجود تھے اس لیے اس ملاقات میں شریک ہو سکے۔ ’اگر تھوڑا زیادہ نوٹس ہوتا تو ہمارے مشیرِ خارجہ سرتاج عزیز صاحب، طارق فاطمی (امورِ خارجہ کے لیے وزیراعظم کے معاونِ خصوصی)، نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر ناصر جنجوعہ صاحب اور دیگر جن کی ضرورت ہوتی وہ موجود ہوتے۔‘

کیا ساکگرہ کا کیک کاٹا گیا؟

اس سوال کے جواب میں سیکریٹری خارجہ کا کہنا تھا کہ ’یہ دورہ باقاعدہ طور پر خیرسگالی کا دورہ تھا۔ اور وہی اس کی ابتدا تھی، ہاں وزیراعظم کو انھوں نے مبارکباد دی، برتھ ڈے کی، شادی کا ان کو پتہ نہیں تھا کہ نواز شریف صاحب کی نواسی کی شادی ہورہی ہے۔ یہ کلی طور پر خیر سگالی کا دورہ تھا اور پاکستان نے اس کو ویلکم کیا۔‘

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق