تازہ ترین

لواری ٹنل کی موجودگی میں ان کو ذلیل وخوار ہونا ریاست اور اس کے حکمرانوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے

چترال (شاہ مراد بیگ سے) گزشتہ دنوں کی برفباری اور لواری ٹاپ روڈ کی بندش کی وجہ سے اہالیان چترال کی ابتلاو ازمائش کا دور پھر شروع ہوگئی ہے جس سے وہ طویل موسم سرما کے پانچ مہینوں میں ہر سال دوچار ہوتے ہیں اور لواری ٹنل کی موجودگی میں ان کو ذلیل وخوار ہونا ریاست اور اس کے حکمرانوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے ۔ چترالی عوام کی شدید مطالبے اور اصرار پر اگرچہ ہفتے میں جمعہ اور منگل کے دن ٹنل سے پبلک گاڑیوں کے گزرنے کی اجازت دی گئی ہے مگر یہ قطعی طور پر ناکافی اور نامناسب ہے جس سے آمدورفت کا مسئلہ خاطر خواہ طور پر حل ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔دی نیوزکو حاصل معلومات کے مطابق مسافروں اور مال بردار گاڑیوں کو ٹنل سے گزرنے کے لئے شیڈول میں چترال کی ضلعی حکومت اور انتظامیہ کی تجاویز کو کوئی اہمیت نہیں دی جارہی ہے اور خود تینوں اداروں پاک آرمی، نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور کورین کنسٹرکشن کمپنی سامبو کے درمیاں اختلافات پائے جاتے ہیں۔ پاک آرمی کا اصرار ہے کہ پندرہ جنوری تک ٹریفک کو لواری ٹاپ سے ہی گزار دی جائے جہاں برف کی صفائی کی جارہی ہے لیکن یہ زمینی حقائق کے سراسر برخلاف ہے کہ 10ہزار فٹ کی بلندی پر اس موسم میں برفیلی راستے سے موٹر گاڑیوں کی ٹریفک دینا کسی بڑے حادثے کو دعوت دینے کے مترادف ہے اور کسی بھی ایک افسوسناک سانحہ رونما ہوکر کئی قیمتی انسانی جانوں کی ضیاع کا باعث بن سکتی ہے۔ لواری ٹنل کے دیر سائڈ پر متعدد ڈرائیوروں نے راقم کو بتایاکہ ٹنل پانچ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے اور دیر شہر سے یہاں آتے آتے کئی گاڑیاں پھسلن کے باعث حادثات کا شکار ہوتے ہیں اور یہاں سے بھی مزید بلندی پر جانا موت کے منہ میں خود چھلانگ سے کم ہر گز نہیں ہے۔ ایک ڈرائیور بشیر گل نے بتایاکہ خود وہ گزشتہ ہفتے چترال سے آتے ہوئے لواری ٹاپ کے مقام پر حادثے کا شکار ہوتے ہوتے معجزانہ طور پر بچ گئے جبکہ اس وقت ان کی گاڑی میں چھ خواتین سمیت اٹھارہ افراد سوار تھے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کو ہوش شاید ا س وقت ہی آئے گا جب یہاں کوئی انسانی المیہ واقع ہوجائے اور درجنوں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ لواری ٹنل پراجیکٹ سے منسلک ایک انجینئر نے رازداری کے شرط پر دی نیوز کو ایک قابل عمل حل پیش کرتے ہوئے کہا کہ صبح اور شام کے وقت دن میں دو مرتبہ شفٹ کی تبدیلی ہوتی ہے اور سات بجے سے لے کر نو بجے تک کام بند ہوتا ہے ۔ “اگر اس وقفے سے فائدہ اٹھا کر صبح کے وقت چترال سے پشاور جانے والی گاڑیوں کے قافلے کو اور شام کے وقت چترال آنے والی گاڑیوں کی کانوائی کو ٹنل سے گزرنے کی اجازت دی جائے تویہ مسئلہ غیر محسوس طور پر حل ہوگا اور ہفتے میں دو دن کام کو مکمل طور پر بند کرنے سے وقت کا ضیاع بھی نہیں ہوگا”۔ انہوں نے کہاکہ ٹنل سے گزرنے والی گاڑیوں کی تعداد ریکارڈ کے مطابق سو کے لگ بھگ ہے جوکہ دو گھنٹے کے وقفے کے دوران آسانی سے پار کرسکیں گے جبکہ کئی دنوں تک ٹریفک کو بند کرنے سے کئی سو گاڑیاں کا رش ہوتا ہے اور ان کے گزر نے کی وجہ سے دھواں بھی جمع ہوتا ہے۔ دروش چترال کے سماجی کارکن حاجی محمد شفا نے بھی روزانہ صبح شام شفٹ کی تبدیلی کے وقت گاڑیوں کو گزرنے کے لئے شیڈول کا مطالبہ کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان، وفاقی وزیر مواصلات سمیت دوسرے حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ چترال کی آٹھ لاکھ محصور آبادی کے حال پر رحم کھاتے ہوئے زمینی حقائق پر مبنی شیڈول ترتیب دی جائے۔


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق