تازہ ترین

شندور ویلفیر ارگنائزیشن محمد علی مجاہد کا گلگت میں نوجوانوں سے ملاقات

گلگت ( نمائیندہ خصوصی) شندور ویلفر ارگنائزیشن چترال گلگت کے صدر محمد علی مجاہد دورہ گلگت۔نوجوانوں سے ملاقاتیں۔چترال اور گلگت میں سیاحت کو فروغ دینے پر سیر حاصل گفتگو ۔ چترال اور گلگت میں پائے جانے والے معدنی وسائل کے مثبت استعمال پر باہمی اتفاق رائے ۔ عالمی حدت کی وجہ سے قدرتی آفات اور نقصانات کا ازالہ ۔ تفصیلات کے مطابق شندور ویلفئیر ارگنائزیشن کے صدر محمد علی مجاہد نے پچھلے دونوں گلگت کا دورہ کیا ۔ اپنے دورے کے دوران صاحب موصوف نے زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے ولے افراد سے معنی خیز ملاقاتیں کیں ۔گلگت کے ایک مقامی ہوٹل میں گلگت کے اعلی تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ایک جماعت سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہمارا علاقہ قدرتی معدنیات ، آبی حیات ، پانی کے ذخائر کے علاوہ عالمی سیاحت کے ضمن میں ہمیشہ سے دنیا کی توجہ کا مرکز رہا ہے لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ ہمارے لوگ اب تک خواب غفلت میں مبتلا ہیں ۔ چترال اور گلگت کے پہاڑوں میں دنیا کے سب سے قیمتی معدنیات چھپے ہوئے ہیں ۔ ان معدنیات کی تسخیر ہمارے نوجوانوں کے دسترس میں ہے تاہم ہمارا نوجواں طبقہ طرح طرح کی غیر صحت مند سرگرمیوں اور مختلف قسم کے تعصبات میں کا شکار ہے اس و جہ سے اس طبقے کی توجہ قدرتی وسائل کی طرف بہت کم ہے ۔ اگر ہماری قوم تمام تعصبات سے پاک اور بالاتر ہوکر کرۂ ارض میں موجود ذخائر کے حصول کی کوشش کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم دنیا کی دوسری اقوام کے سامنے ہاتھ پھیلائیں ۔ حالیہ زلزلہ اور سیلاب کے حوالے سے گفتگو کرے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی اس وقت دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ ہے جس سے نمٹنا صرف سائنسدانوں کا کام نہیں بلکہ ہم میں سے ہر ایک کو اپنا مثبت حصہ ڈلنا ہوگا ۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ عالمی حدت کو کم نہیں کیا جاسکتا البتہ اسے روکنا ممکن ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چترال اور گلگت دنیا کے ایک ایسے خطے میں واقع ہیں جو اپنی قدرتی خوبصوری اور حسن سے مالا مال ہونے کی وجہ سے عالمی سیاحت کے لئے ایک بے مثال مقام کی حیثیت رکھتے ہیں لیکن اندرونی دشمنوں کی چال کی وجہ سے یہاں سیاحت کو فروغ دینا ایک مسئلہ بنا ہوا ہے ۔ ان علاقوں کی غربت کے پیچھے بیرنی ہاتھ کارفرما ہیں ۔ ہم سب ایک اللہ ، ایک نبیﷺ اور ایک کتاب کے ماننے والے ہیں اگر ہم میں کمی ہے تو وہ ہمارے درمیاں اتفاق و اتحاد کا فقدان ہے ۔ اب وقت کا تقاضا ہے کہ دشمنوں کے مذموم ارادوں کو سمجھتے ہوئے آپس میں بھائی چارگی کو فروغ دیں ۔ علاقے میں امن و امان کے فقدان کی وجہ سے بیرونی سیاحوں کی توجہ ہمارے علاقوں سے ہٹ چکی ہے جو کہ ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے ۔ نوجواں نسل کو وقتی طور پر جو مسائل درپیش ہیں اُن میں بے روزگاری قابل ذکر ہے ۔ بے روزگاری کا مسئلہ اُس وقت حل ہو سکتا ہے جب ہم سب مل کر چھوٹے چھوٹے اسکیموں کی تشکیل کریں اور اپنے نوجوانوں کو اُن اسکیموں اور پروجیکٹس کے زریعے بہتر روز گار فراہم کریں ۔ صحافیوں کی طرف سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چترال اور گلگت اپنی ثقافت، موسیقی ، مختلف رسومات اور تہواروں کے اعتبار سے ایک دوسرے سے اتنے قریب ہیں کہ ایک کو دوسرے سے جدا کرکے دیکھنا مشکل ہے ۔ ہمیں چاہیئے کہ ایک دوسرے کی ثقافت کو اور کلچر کو زندہ رکھنے کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھ کر اپنی روایات کو زندہ رکھنا ہوگا ۔ ہمارے علاقے کا دوسرا مسئلہ امن و امان کا ہے ۔ امن و امان کامسئلہ اُس وقت جنم لیاتا ہے جب کسی ملک یا علاقے کے نوجوانوں کے لئے صحت مند سرگرمیاں مفقود ہوتی ہے ۔ ان سرگرمیوں میں مختلف قسم کے کھیل اور تعلیمی و علمی سیمینار وغیرہ شامل ہیں۔ دنیا ایک چھوٹے سے گاؤں کی صورت اختیار گر گئی ہے اس گاؤں میں زندہ رہنے کے لئے ICT کا بڑا اہم کردار ہے ہم جب تک ICT کے فائدہ مند استعمال سے دور رہیں گے تب تک ہماری ترقی کی راہیں مسدود ہیں ۔


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق