تازہ ترین

بلچ میں صفائی مہم سول سوسائٹی کی بھر پور شرکت/گرین کلب کا قیام عمل میں لایا گیا

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس) بلچ چترال میں علاقے کے معززین نے مقامی غیر سرکاری تنظیم ’’ چیپس چترال‘‘ کے زیر انتظام آگاہی واک کے ساتھ ایک صفائی مہم کا اہتمام کیا جس میں علاقے کی معززین ،نوجوان طلباء اور مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ صفائی مہم کا آغاز گورنمنٹ ہائی سکول بلچ سے شروع کیا گیا اور مختلف روٹس کی صفائی کرتے ہوئے بلچ ائیر پورٹ میں آگے اختتام پذیر ہوا۔ اس مہم کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر چترال کے آفس میں ایک ہنگامی میٹنگ گزشتہ دنوں منعقد ہوئی جسمیں چترال ائیر پورٹ کے ساتھ کوڑا کرکٹ ڈالنے کے حوالے سے تشو یش کا اظہار کیا گیا تھا کیونکہ ائیر پورٹ کے ساتھ ہی کوڑا کرکٹ ڈالنے سے گندگی کے ڈھیر میں کوؤں کا بسیرا ہوتا ہے اور اس وجہ سے کسی بھی ہوائی حادثے کا امکان خارج از امکان نہیں ہے۔ اس حوالے سے chepsیہ واک اور مہم انتہائی اہمیت کا حامل تھا۔ واک کے اختتام پر’’ چیپس‘‘ کے چیئرمین رحمت علی جعفر دوست نے کہاکہ بلچ کو صاف ستھرا رکھنے کے لیے یہ مہم ہمیشہ جاری رہے گا اور ہر اتوار کو ہمیں صفائی کا یہ مہم تسلسل سے کرنا ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ گرین کلب سوسائٹی کا قیام عمل میں لایا گیا جسکی سربرا ہی گلاب الدین کریں گے۔ ٹی ایم او آفس ڈسٹ ڈسپوزبل کے حوالے سے کوئی جامع منصوبہ بندی کریں ۔ رحمت علی جعفر دوست نے تمام کلب سے یہ اپیل کی کہ ہفتہ صفائی نہیں بلکہ یہ مہم پورا سال جاری رہے۔ معروف سماجی شخصیت لیاقت علی خان نے کہا کہ میں یہاں موجود یوتھ کے ذریعے گھروں میں موجود ماں بہنوں کو ایک پیغام دیتا ہوں کہ گھروں میں خالی بوتلیں ،شیشے اور ضائع نہ ہونے والی چیزیں ،کاغذ اور پلاسٹک کے ریپر جمع کرکے سنبھال رکھیں ان کو گلیوں اور نالوں میں نہ پھینکیں ہم ہفتہ وار ویلیج کونسل ، ٹی ایم او اور گرین کلب کے ذریعے ان کو ٹھکانے لگانے کا بندوبست کریں گے۔ اگر سرکاری فنڈ نہ ہوا تو ہم خود چندہ کرکے ان کو ڈسپوز کرنے کا بندوبست کریں گے۔ تمام لوگوں نے متفقہ طور پر یہ قرارداد منظور کیا جس میں ڈسٹرکٹ گورنمنٹ سے مطالبہ کیا گیا کہ ڈسٹ ڈسپوز کرنے کے حوالے سے جامع منصوبہ بندی کرنے اہلیان بلچ کا یہ درینہ مطالبہ پورا کیا جائے۔ معززین علاقہ نے چترال کی صفائی کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر کی کاوشوں بھی خراج تحسین پیش کیا۔


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق