محمد جاوید حیات

دھڑکنوں کی زبان…..’’ عظیم قربانی کا عظیم قصہ‘‘

………محمد جاوید حیات …….


یعقوب خا ن ایک جہا ند ید ہ اور تجربہ کار شخصیت ہیں ہمارے سکول میں ملازم ہیں۔ زندگی کی نشیب وفراز بہت دیکھے ۔ عمر کا فی گذاری بہت سارے کاموں کا تجر بہ رکھتا ہے ۔زمانے کو قریب سے دیکھا محسوس کیا ۔ غربت دیکھی ،پسماند گی دیکھی ۔ پھر ترقی دیکھی ۔ زندگی کے تجربات افسانوں کی ہیت میں سناتے ہیں ۔ خود لہکتے ہیں دوسروں کو جھومنے پر مجبور کرتے ہیں ۔گفتگو کرتے ہوئے الفاظ پر اتنے زور دیتے یں کہ الفاظ دل میں بیٹھتے ہی نہیں دماغ میں گھس جاتے ہیں ۔مہمان نواز بہت ہیں۔ شکار کھیلنے کے شوقین ہیں ۔پھول کا مزاج رکھتے ہیں ۔اپنے گھر آنگن کو اس شوق میں پھولوں کے گھملوں سے سجا ر کھا ہے ۔موسم بہار کو ان کا ہاں مہمانوں کا سیزن ہوتا ہے۔مہمان پھولوں کے رنگوں اور خوشبو ؤں سے لطف لیتے ہیں ۔سکول میں بہت ترت پھرت سے کام کرتے ہیں ۔ اس لئے سب کو دھائی دیتے ہیں ۔کبھی کبھی اس کو ہلکا ساغصہ بھی دلا یا جاتاہے ۔ وہ بھپرتا ہے تو لوگ ہنستے ہیں۔اس لئے کہ یہ اس کے احترام کا ایک انداز ہے ۔اس نے سب کی کماحقہ خدمت کی ہے۔
یعقوب خان انکل ایک چشم دید واقع کو بڑے سوز او ردردسے بیاں کرتے ہیں۔جوقربانی کی ایک عظیم داستان ہے اور کسی کے قوم کے عظیم بننے کا تعارف ہے ۔یہ قصہ نہیں بلکہ چترالی قوم کا ایک معیار ہے ۔ ایثار اور بہادری کی ایک بے مثال کہانی ہے۔
انکل کا کہنا ہے کہ جون 1979 ء کو چیو پل بن رہا تھا ۔ میں وہاں پر مستری کا کام کرتا تھا ۔شیٹرنگ بچھائی گئیں تھیں اوپر کنکر یٹ کا کام ہورہا تھا ۔ مزدور بھانت بھانت کے تھے ۔چترال کے کونے کونے سے لوگ تھے ۔نیچے دیر وغیر ہ علاقو ں کے لوگ تھے ۔ سب اپنے کام میں مصروف تھے ۔نیچے دریا بپھر رہا تھا ۔ موج موج پہاڑ یکا یک پل ٹوٹ پڑا ۔ اوپر موجود لوگ سیمنٹ کے بڑے بڑے سیلوں کے ساتھ دریا میں گر گئے ۔ کناروں پر موجود لو گ دیکھتے رہ گئے ۔ ڈوبنے والوں پر قیامت ٹوٹی ۔ کنارے پر لو گ اپنی مجبور بھائیوں کو دریا کی موجوں میں بہتے دیکھا ۔آہ وبکا کا منظر تھا ۔ بے بسی کا عالم تھا ۔ خون آشام لمحے تھے ۔ دریا کے درمیاں 5 مزدور ایک دوسرے کو پکڑ ے بچ گئے تھے ۔ تلا صم خیز موجوں میں ان کی جان پر بنی تھی ۔ بچنے کی اُمید نہیں تھی ۔زندگی سے مایوسی تھی ۔ان کو بچانے کے لئے دریا کے اوپر تار باندھی گئی تھی۔تارمیں سے ایک ڈولا نیچے ڈالا گیا تاکہ باری باری اس میں بیٹھ جائیں ۔ اور ان کو کھینچ کر بچا یا جاسکتے ۔ڈوبنے کو تنکے کا سہارا تھا ۔ نفسا نفسی کا عالم تھا ۔ لوگ سب دل تھام کر یہ منظر دیکھ رہے تھے ۔ ان لوگوں میں دو چترالی تین پٹھان تھے ۔اللہ اللہ کر کے پہلا ڈول ڈال گیا ۔ڈول پہلے بندے تک پہنچا ۔وہ جھٹ سے چھڑا اس کو بچایا گیا ۔دوسری بارڈالا گیا مگر چشم فلک نے عجیب منظر دیکھا ۔ جس کی باری تھی وہ چھڑ نے سے انکار کیا ۔ اپنے ساتھی کو بٹھا یا ۔پھر تیسرے کو پھر چوتھے کو اور اخر میں بٹھ گیا ۔ آسمان عش عش کر اُٹھا ۔ لوگ چیخنے لگے یہ اپر چترال کا ایک مزدور تھا ۔ ایک پسماند ہ علاقے کے غریب مزدور کی دلیر ی ، قربانی او ر بہادری مثالی ہے۔اس سے ثابت ہوتاہے کہ چترالی قربانی ،خلوص ،وفا اور محبت کے پیکر ہوتے ہیں ۔انکل یعقوب خان کو اس بہادر انسان کے نہ گاؤں کا پتہ ہے نہ نام کا حرف اتنا پتہ ہے کہ وہ سب ڈویژن مستوج کے کسی علاقے کا باشند ہ تھا ۔میرے خیال میں قوم کے ان عظیم سپوتوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر ان کی بے مثال بہادری اور کارناموں کو محفوظ کرنا چاہیے ۔ یہی قوم کے اصل سرمائے ہیں۔ْانہی سے قوم کا تعارف ہوتا ہے ۔ ان کی زندگیاں زندہ جاوید ہوتی ہیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق