ارشاد اللہ شاد

(رُموز شادؔ )سیلف فنانس کا مطلب

…… تحریر۔۔(ارشاد اللہ شادؔ ۔۔ بکرآباد چترال….


سیلف فنانس اسکیم کا سادہ الفاظ میں یہ مطلب ہے کہ وہ طالبعلم جس کے پاس دولت ہے لیکن صلاحیت اور ذہانیت نہیں اور میرٹ سے نمبر کم ہیں وہ صرف دولت کے بل بوتے پر اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلہ لے سکتا ہے لیکن وہ طالب علم جس کے پاس ذہانیت و صلاحیت ہے لیکن رقم نہیں وہ پیچھے رہ جاتا ہے یعنی تعلیمی اداروں کے دروازے سرمایہ داروں کیلئے کھولنا اور غریب مگر محنتی طلباء کیلئے دروازے بند کرنا صریحا ظلم ہے اور آئین کے خلاف ورزی ہے کیونکہ آئین میں لکھا ہے کہ میٹرک تک تعلیم مفت اور اعلیٰ تعلیم اہلیت کی بنیاد پر ہوگی اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ اس معاشرے کے اندر جہاں لسانی معاشی اور مسلکی تفاوت موجود ہے وہاں ہم طبقاتی کشمکش کو بھی تعلیمی اداروں کے اندر داخل کردیں تو یہ پاکستان کے مستقبل کیلئے انتہائی خطرناک ہوگا۔ جبکہ انٹری ٹیسٹ کا نظام ہی کچھ اور ہے ، اسی طرح ایک طالب علم کو بارہ سال تک ایک طریقہ امتحان سے گزارا جاتا ہے پھر اس کے بعد انٹری ٹیسٹ کی صورت میں بالکل مختلف اور نئی طرز کا امتحان لیا جاتا ہے جبکہ کئی سال تک اردو میں امتحان دینے والے طالب علم کیلئے چونکہ انٹری ٹیسٹ انگریزی میں ہوتا ہے انتہائی مشکل بالکل نیا اور انوکھا ہوتا ہے اسلئے ذہانیت اور صلاحیت کے باوجود پیچھے رہ جاتا ہے جبکہ او لیول کے طلبہ نے چونکہ اس طریقہ امتحان دیا ہوتا ہے وہ آگے بڑھ جاتے ہیں لہذا یکساں امتحانی نظام رائج کیا جائے تو معاشرے میں انصاف کا علم لہرائے گا اور حقدار کو اس کا حق مل جائے گا۔
پاکستان کے موجودہ نظام تعلیم میں آزادی کے بعد جو سب سے بڑی پیشرفت ہوئی ہے وہ اسلامیات کے مضمون کا اضافہ ہے باقی تمام چیزیں وہی ہیں جو انگریز کے دور میں پڑھائی جاتی تھیں۔ لیکن محض اسلامیات کی پیوند کاری کرنے سے نظام تعلیم کبھی بھی اسلامی نہیں بن سکتا جب تک کہ تمام اجزاء میں اسلامی روح موجود نہ ہو اوراوپر سے لیکر نیچے تک اور تمام پہلوؤں کو اسلام کے رنگ میں رنگا نہ جائے اسی طرح سائنس ، معاشیات، بزنس اور سوشل سائنسز سمیت تمام مضامین کو اسلامی نظریے کے مطابق نہ ڈھالا جائے ۔ پاکستان میں نظریاتی تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے غیر نظریاتی افراد تیا ر ہو رہے ہیں جن میں نہ امانت، نہ دیانت ہوتی ہے ، نہ حب الوطنی اور قوم کی خدمت کا جذبہ اور نہ ہی اپنے اسلاف اور آباؤ اجداد کو سمجھنے کی جذبہ پیدا ہوتاہے ایسے افراد جس شعبہ میں جاتے ہیں سب سے زیادہ کرپٹ ہوتے ہیں اور ملک کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ میں تو یوں کہوں گا کہ پاکستان کو سب سے زیادہ نقصان ان پڑھ لوگوں نے نہیں ،ان پڑھے لکھے ان پڑھوں نے پہنچایا ہے جو سولہ سترہ سال زندگی کے تعلیمی اداروں میں بسر کرنے کے بعد معاشرے میں مجرمانہ زندگی گزارتے ہیں اور خرابیاں پیدا کرتے ہیں ۔اسلئے ایسے نظام تعلیم کو جو ڈاکو کو ہیرو اور ہیرو کو ڈاکو بنادے اسلامی و نظریاتی لوگ پیدا نہیں کر سکتے ، موجودہ نظام تعلیم غلامانہ ذہنیت کے لوگ تیار کر رہا ہے جس کی وجہ سے گزشتہ ۶۵ برسوں میں پاکستان کو بہت نقصان پہنچ چکا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسا نظام تعلیم رائج کیا جائے جس سے معاشرے کی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کرنے والے افراد تیار ہوں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق