تازہ ترین

آئیں میاں محمد نوازشریف صاحب کا ہاتھ مظبوط کرکے چترال کو دنیا کے لیے ہانکانک اور دوبئی جیسا علاقہ بنائیں

تحریر: محمد کوثر(ایڈوکیٹ) صدر مسلم لیگ(ن) سب ڈویژن چترال/سابق نامزد امیدوار براۓ صوبائ اسمبلی,/مرکزی چیرمین کھوار اھل قلم.

Advertisements

قومین وہی ترقی کرتے ہیں جنکے حکمران وژن رکھتے ہوں اور اپنے مفادات کو بھتر طریقے سے تحفظ کرنا جانتے ہوں.دور حاظر میں ترقی کے لئے اقوام عالم کے ساتھ زمینی روابط کو استوار کرکے مسائل کو حل کرنا اشد ضروری هے.قائد مسلم لیگ (ن) وزیراعظم میاں محمد نوازشریف جس وژن کو لیکر ملک کو آگے لے جارهے ہیں یقینا دشمن بھی اب معترف هو چکے ہیں.آج سے 25 سال پهلے اپنے پهلے دورحکومت میں سویت یونین کے بکھرے مسلم ریاستوں کے اهمیت کو بھانپتے ہوۓ “ایکو”تنظیم کا قیام اور ملک میں موٹروے کا منصوبه شروع کرکے 1991 میں چترال تاجکستان روڈ کا سروے شروع کرایا.مگر ناعاقبت اندیشون نے حکومت کی مدت پوری نه ھونے دی.1997 میں قوم ایک بار پھر نوازشریف صاحب پر بھرپور اعتماد کا اظھار کیاتو میاں صاحب قوم کے اعتماد کو مدنظر رکھتے هوۓ ایک طرف دفاعی طور پر جے ایف تھنڈر وغیره معاھدات کرنا شروع کیا تو دوسری طرف ملک کو پہلا اسلامی ایٹیمی طاقت بنا ڈالا,مگر ایک طرف ملک کی معیشت کو بھتر بنیادون پر بھی استوار کرنا شروع کیا تھا که ایک بارپھر اٹھاره کروڑ کے عوام کے حقوق پر ڈاکه ڈالا گیااور نتیجتا ملک دھشتگردی قتل وغارت کے ایسے دلدل مین پھنس گیا که سیاح بھی پاکستان آنا چھوڑدئے.
نیت صاف منزل آسان کے مصداق 2013 مین قوم نے ایک بار پھر نوازشریف اور اس کی جماعت پر اعتماد کا اظھار کرکے ملک کی منزل درست سمت تعین کر دیا. کسی کے وہم وگمان میںبھی نہتھا که فلسطین اور آفغانستان کا منظر پیش کرنے والا پاکستان صرف ڈہائی سالمیں امن کا گہواره بنے گا.صوبه خیبر کے پہاڑون میں چین کی نیند کراچی کے گلیون مین امن کا رقص بلوچستان کے صحراون مین پاکستانی پرچم کا بھار یقینا میاں محمد نوازشریف کے مدبرانہ سیاست کا منہ بولتا نمونہ ہے.
پاک چائنا کاریڈور اپنی جگه مگر میرے نزدیک اس سے بھی اہم اکنامک کاریڈور چترال تاجکستان اکنامک کاریڈور هے جو ملک کو براہ رااست سنٹرل ایشیا تا ماسکو اور ترکی کے ساتھ لنک کرتا هے. یه منصوبہ اگر کامیاب ہوا تو چترال پاکستان کا ڈرائ پورٹ اور دوسرا کراچی هوگا انشاءالله.
اس سلسلے میں چترال کے عوام قائد میان نوازشریف صاحب کا جتنا بھی شکریه ادا کریں کم ہے.
2016 مین لواری ٹنل کا عام ٹریفک کے لیے کھولنے کا اعلاں,چکدره تا شندور ہائی وے,گرم چشمه,بمبوریت لنک روڈز گولین گول ھائڈل سے چترال کے لیے 30 میگاواٹ کی بجلی کا مختص کرنا وغیره دراصل چترال اکنامک کوریڈور کی تکمیل کی جانب اھم قدم ہیں.شندورہائیوے پاک چائنا اکنامک کوریڈور کے لیے ہی لنک روڈ ہےچترال کے عوام سے اپیل ہے کہ آئیں میاں محمد نوازشریف صاحب کا ہاتھ مظبوط کرکے چترال کو دنیا کے لیے ہانکانک اور دوبئی جیسا علاقہ بنائیں.

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى