مضامین

داد بیداد…..جھو ٹے پیغامات کی سزا

ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی…..

مو با ئل فون کے شارٹ میسج سروس(SMS) اور وا ئس لوپ کے ذریعے جھو ٹے پیغامات پھیلانے کا سلسلہ عام ہو گیا ہے ۔26 اکتوبر کے زلزلے کے بعد ہر روز جھوٹے پیغامات کے لئے نا دان اور نیم خواندہ لو گوں کو ، عورتوں اور بچوں کو خوف زدہ کیا جا تا ہے ۔دسمبر اور جنوری کی ٹھٹرتی سردی میں شانگلہ ، کو ہستان ، دیر اور چترال میں خوا تین اور بچوں نے کھلے میدانوں میں کئی بار رات گزاری ۔جھوٹے پیغامات پھلانے والے محکمہ مو سمیات یا کسی این جی او، یا کسی بڑے عالم کا نام لیکر پیغام دیتے ہیں کہ آج کی رات زور دار زلزلہ آئے گا ۔کچھ بھی نہیں بچے گا۔کبھی جمعہ یا پیر کی رات کا ذکر کیا جاتا ہے ۔ کھبی کسی اور رات کا نام لیا جاتا ہے۔ یہ پیغامات اگر ہزار لو گوں کو بھیجے جا تے ہیں ۔تو ایک لاکھ کی آبادی میں یہ افواہ آناً فا ناً پھیل جا تی ہے ۔اگر کو ئی پڑھا لکھا شخص یا سنجیدہ آدمی سمجھانے لگ جائے تو کتنے لوگوں کو سمجھا ئے گا ۔کتنی بار ایسا ہوا کہ جھو ٹے مسیج بھیجنے والے کا نمبر پولیس کو دیدیا گیا ۔مگر پولیس نے کارورائی نہیں کی۔ حالانکہ جھوٹا مسیج فارورڈ کرنے والے کو پکڑ کر اصل مسیج بھیجنے والے کا سراغ لگانا بہت آسان ہے۔ موبائل کمپنیوں کے پاسSMS) )بھیجنے والوں کاپورا ریکارڈ محفوظ ہوتا ہے۔ اور یہ ریکارڈ آسانی سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ لیکن یہ پولیس رولز میں سائبر کرائم کے زمرے میں آتا ہے اور بدقسمتی سے ہماری پولیس سائبر کرائم کے قانون سے آگا ہ نہیں ہے۔ ہماری عدالتوں میں سائبر کرائم کے مجرموں کو سزا دینے کا دستور نہیں ہے۔ہم اکیسویں صدی میں رہتے ہیں۔مگر ہمارے قوانین انیسویں صدی کے ہیں۔ قانون سے واقفیت رکھنے والے لوگ کہتے ہیں۔ کہ مشرف اور زرداری کے ادوار میں سائبرکرائمز کے حوالے سے قانون سازی ہوئی ہے۔ مگر یہ قانون اب تک پبلک کو معلوم نہیں ۔پولیس، مجسٹریٹ اور ماتحت عدلیہ کے علم میں نہیں۔ اس لئے موبائل فون کے ذریعے جھوٹے پیغامات ، شرانگیزمواد اور فتنہ انگیز باتیں پھیلانے والوں کو 2لاکھ روپے جرمانہ اور 5سال تک قید با مشقت کی سزا ہوسکتی ہے۔ اگر کسی شہری کے موبائل پر جھوٹا پیغام آئے کہ محکمہ موسمیات ، فوکس ، یا فلاں عالم نے خبر دی ہے۔ کہ فلاں رات زلزلہ آئے گا ۔تو ایسا پیغام بھیجنے والے کا نمبر فوراً پو لیس کو دینا چا ہیے۔پو لیس اس شخض کو گر فتار کر کے مسیج کا ریکارڈ قبضہ میں لے لے گی۔موبائل کمپنی کے دفتر پر چھاپہ دے کر معلوم کر ے گی کہ مسیج سب سے پہلے کس نے بھیجا تھا ۔اس طرح دو گھنٹوں کے اندر اس مجرم کا پتہ لگے گا جس نے مسیج بنا یا اور کسی احمق کو بھیجا ۔وہاں سے مسیج آگے پھیلتا رہا۔ یہاں تک کہ پو لیس میں رپورٹ کر نے والے کو مل گیا۔اس طرح اصل مجرم بھی پکڑا جا ئے گا ۔ چا ہے وہ 1000کلو میٹر دور ہی کیوں نہ رہتا ہو۔ مقامی پولیس اس کو اس کے گھر پر گرفتار کرے گی اور اس میسج کو جتنے نادانوں نے آگے فا رورڈ کیا ۔ان کو بھی گر فتا ر کر ے گی ۔اور قا نون کے مطابق سزا دلو ائے گی۔ ما ر کیٹینگ کے شعبے میں تجر بہ رکھنے والے لو گ کہتے ہیں کہ مو با ئل کمپنیاں اپنا سیلز بڑھا نے کیلئے بہت سارے لطیفے ، اقوال زریں اور دیگر پیغامات بھجواتی ہیں۔ شائد زلزلے کے بارے میں جھوٹے پیغامات بھی مو با ئل کمپنیوں کی ما رکیٹنگ کا حصہ ہو ۔یہ با ت قر ین قیاس ہے ۔ اس پر بھی تحقیق او ر تفتیش ہو نی چاہیے۔ اگر موبائل کمپنیاں خود اس قسم کے شر انگیز پیغامات بھیجتی ہیں ۔تو ان کے خلاف بھی قانون کو حرکت میں آنا چا ہیے۔ بسا اوقات زلزلہ کی اٖفواہ سے بھی زیادہ شر انگیز پیغامات آتے ہیں ۔مثلا SMSکے ذریعے اطلاع آجا تی ہے کہ فلاں بازار کے اندرفلاں دکان غیر مسلم شخص کی ہے ۔اس دکان کے مالک نے تو ہین رسالت کا ارتکاب کیا ہے ۔شمع رسالت کے پروانوں کو فو را باہر نکل کر دکان کو اس کے ما لک سمیت آگ لگا دینی چا ہیے ۔ اس طرح پیغام آتا ہے کہ فلاں محلے میں فلاں نمبر گھر کے اندر غیر مسلم شخص رہتا ہے۔اس کو قتل کر نے والا جنتی ہو گا ۔اس پیغام کو جتنا پھیلاؤ گے اتنا ثواب ملے گا۔ بعض اوقات ان سے بھی زیادہ شر انگیز پیغامات آتے ہیں ۔مثلا مسلمانوں کے کسی فر قے کے خلاف جہاد کی تر غیب دی جا تی ہے اور لکھا جاتا ہے کہ اس پیغام کو اگے 100 لو گوں تک پہنچا نے والا جنتی ہو گا۔ میسج کو چھپانے یا مٹانے والا دوزخی ہو گا ۔خیبر پختو نخوا کی پو لیس کے بارے میں یہ افواہ پنڈی اور اسلام آباد میں بار بارپھیلا ئی جا تی ہے ۔کہ پو لیس کا نظام بہتر ہے۔ ہمارے صو بے میں بھی یہ افواہ پھیلی ہو ئی ہے ۔اگر اس افواہ میں صداقت ہے ۔تو پشتو ضرب المثل کے مطا بق ” داگز دا میدان ” خیبر پختو نخوا پو لیس مو با ئل فون پر SMS کے ذریعے شر انگیز افواہیں اور زلزلہ کی جھو ٹی پیش گو ئیاں پھیلانے والے مجرموں کے خلاف کر یک ڈاون کرے ۔یہ ایسا مشکل کام نہیں کہ اسکے لئے فوج ، رینجر یا ایف سی کوبلا یا جائے۔ ہماری پو لیس کا سا ئبر کر ائمز ونگ اگر فعال ہو گا تو جھو ٹے پیغامات بھیج کر شر انگیزی پھیلا نے والوں کو عبر تناک سزا ئیں دی جا ئینگی ۔پھر کسی کو اس طرح شر انگیزی پھیلا نے کی جراٗت نہیں ہو گی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى