ارشاد اللہ شاد

(رُموز شادؔ )…..’’حقیقی آزادی کے تصّور‘‘

 ( ارشاد اللہ شادؔ ۔۔بکرآباد چترال)


اسلام نے دنیا پر جو عظیم ترین احسان کیا ہے وہ ہے انسان کو حقیقی آزادی کے تصّور سے آشنا کرنا۔ اسلام کے ظہور سے پہلے دنیا میں انسان کی اصلاح کیلئے بہت سی مذہبی او ر غیر مذہبی تحریکات جاری ہو چکی تھیں۔ لیکن اسلام نے انسان کو حقیقی آزادی سے روشناس کرکے جو زبردست کارنامہ انجام دیا ہے ، دنیا کی کوئی مذہبی یا غیر مذہبی تحریک اسے انجام دینے کا دعوی نہیں کر سکتی۔ اسلام کے اس خصوصی کارنامہ کا تذکرہ کرتے ہوئے ایک جرمن عالم نے لکھا ہے:
اسلام نے ظاہر ہو کر دنیا سے غلامی کی شرمناک رسم کو اس خوبصورتی سے عملاََ مٹا دیا کہ غلام آقاؤں کے ہم رتبہ ہو گئے ، اس نے انسانی تہذیب اور تمدّن کی تاریخ میں پہلی بار عورت کے حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے اسے مردوں کی غلامی سے آزاد کرایا۔ اس نے انسان کے بے شمار خداؤں کے رو برو سر بسجود ہونے کو نا جائز قرار دے کر خدائے واحد کی پرستش کی دعوت دیااور اس طرح اس کی روح کو غلامی سے نجات دلائی ۔ اس نے انسان کو فکر وفہم اور ضمیر و بیان کی آزادی عطا کی اور اس طرح سے اسے توہّمات اور غلط اندیشی سے آزادی دلائی، اور سب کے بعد اس نے رنگ و نسل اور قومیت و وطنیّت کی بندشوں سے نجات دلا کر اسے خود انسان بننے اور دوسروں کو انسان سمجھنے کی تعلیم دی اور اس کی ذہنی اور فکری آزادی کو پایہ تکمیل کو پہنچایا۔۔ اس جرمن عالم نے اسلام کے تاریخی اور اصلاحی کردارکو جن الفاظ میں پیش کیا ہے اسے پیش کرنے کیلئے ان سے بہتر الفاظ کا انتخاب ممکن نہیں ہو سکتا تھا ۔ لیکن ایک انگریز عالم نے اس جرمن عالم کے مذکورہ بالاخیالات کو نقل کرنے کے بعد لکھا ہے:
اسلام نے دنیا کو آزادی کے حقیقی مفہوم سے آشنا کرکے بنی نوع انسان پر جو عظیم ترین احسان کیا ہے، اس کی اہمیت اور عظمت اس وقت اور بھی بڑھ جاتی ہے ۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ نہ تو ظہور اسلام کے وقت دنیا میں کوئی ایسی اصلاحی تحریک موجود تھی جسے پیغمبر اسلام نے دنیا کو تہذیب و تمدّن کی جس راہ پر چلنے کی دعوت دی تھی وہ کوئی ایسی راہ نہیں تھی جو پہلے سے موجود ہو ، وہ اسلام ہی کی راہ تھی ۔ اور اس نے اسے خود ہی تعمیر کیا تھا۔
’’ میں مذکورہ بالا دونوںآراء کی تصدیق کرتا ہوں ، میں اپنی جگہ اسلام کے ماضی سے بحث نہیں کرنا چاہتا، بلکہ میں اسے حال کے آئینے میں دیکھتا ہوں ۔ اسلام دنیا کیلئے جس انقلابی تہذیب کا پیغام لے کر آیا تھا، اس کی روح میں آج بھی وہی بنیادی پیغام موجود ہے، اور چودہ سو سال کی طویل مدّت گزر جانے کے باوجود اس پیغام میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی۔ اسلام آج بھی ضمیر اور عمل کی آزادی کا داعی ہے اور اگر چہ آزادی کے اسی تصور نے خود مسلمانوں کو بہت سے گروہوں میں تقسیم کردیا ہے لیکن ان کے درمیان آزادی کا یہ تصور برابر چلا آرہا ہے ۔ آزادی کے اسی تصور کے ماتحت وہ ہمیشہ مذہبی رواداری کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں ، اور غیر مسلم ملکوں میں اس طرح زندگی بسر کرتے ہیں کہ ان سے کسی کو کبھی شکایت کا کوئی موقع نہیں ملتا۔ اور وہ آج بھی رنگ و نسل کے امتیازات اور سماجی اونچ نیچ پر یقین نہیں رکھتے اور باتوں کی شدّت کے ساتھ مخالفت کرتے رہتے ہیں‘‘۔
یہاں دو عیسائی عالموں کے جن خیالات کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے ، اس میں ظہور اسلام سے لیکر اس وقت تک اس عظیم مذہب کے کردار کی پوری تاریخ محیط ہوگئی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اس واضح اور روشن تاریخی کردار کے باوجود اسلام کو ہمیشہ ہدف اعتراضات کیوں بنایا جارہا ہے۔
میر اپختہ خیال ہے کہ اسلام کا یہ روشن کردار ہی اس کیلئے وبال جان بنا رہا ہے ، اس نے انسان کو انسانیت کی جن قدروں سے روشناس کرایا ہے وہ دوسرے مذہبوں اور اصلاحی تحریکات کی پیش کی ہوئی قدروں سے بالکل مختلف ہیں، اور انہیں قبول کر لینے سے انسان ہر قسم کی غلامی سے خود کو یکسر آزاد محسوس کرتاہے، اور لئے دوسری تحریکات اور خصوصاََ مسیحیت جسے دنیاوی اقتدار بھی حاصل رہا ہے ، اس کی مخالفت میں مصروف رہی ہے ۔ اور چونکہ خود مسلمانوں نے لفظی جنگ کے مقابلے میں تعمیری کاموں کو ترجیح دی ہے، اسلئے ان کی مخالفت پر مبنی تحریرات کا ایک انبار جمع ہو گیا ہے اور ہم ہندوستان کے باشندے بھی اسلام کو اس کے مخالفین کی عینک سے دیکھنے کے عادی ہو گئے ہیں۔
بہر حال اسلام کے حقیقی خدوّخال اس تصویر سے بالکل مختلف ہے جو اس کے مغربی مخالفین پیش کرتے رہے ہیں۔ اور جو شخص بھی اسلام کا مطالعہ کرتارہے گا وہ اس کی عظمت ، بے تعصبّی اور رواداری سے انکار کی جراٰت نہیں کر سکے گا اور یہ ماننا پڑیگا کہ اسلام میں کچھ ایسی جاذبیت ہے جو غیر مذہب کے ماننے والوں کو آسانی سے اپنی طرف کھینچ لیتی ہے اور اسی جاذبیت کا یہ نتیجہ ہے کہ کسی تبلیغ یا کوشش کے بغیر اسلام دن بدن دنیا کے دور دراز خطّوں میں پھیلتا چلا جا رہا ہے اور اسے حیرت انگیز مقبولیت حاصل ہو رہی ہے۔۔۔۔۔!
قلم ایں جا رسید و سر بشکست۔۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق