تازہ ترین

تریچ وریمون جاتے ہوئے ڈاٹسن گہری کھائی میں جاگری ،ایک جاں بحق متعدد زخمی

تریچ (نمائندہ چترال ایکسپریس )تریچ وریمو ن جاتے ہوئے ذوندرانگرام (دیروٹیک )میں مسافر گاڑی حادثہ کا شکار ہوگئی ۔ جس کے نتیجے میں ایک مسافر (مولاناعبدالستارشاگروم والے )جاں بحق اورکئی افراد زخمی ہوئے ہیں ۔ تازہ ترین اطلاع کے مطابق زخمیوں کو بی ایچ یو ہسپتال ذوندرانگرام منتقل کرکے ان کی طبی امداد ایمرجنسی طور پر جاری ہے ۔ تاہم تمام زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے ۔ تفصیلات کے مطابق ایک مسافر گاڑی چترال سے موڑتریچ پہنچی جہاں پر ڈسٹرک انتظامیہ کی عدم توجہی اورلاپرواہی کی وجہ سے روڈ کئی ہفتوں سے بلاک ہے ۔وہاں سے گاڑی تبدیل کر کے مسافر بالائی تریچ کی طرف روانہ ہوگئے تھے ۔بدقسمتی سے اتوار عصر کے ٹائم بدقسمت ڈاٹسن جس کو ڈائیورتاج محمد چلا رہا تھا ذوندرانگرام سے ایک کلومیٹر وریمون کی طرف شوجغال کے سامنے روڈ کی خستہ حالی کی وجہ سے ڈائیور سے بے قابوہوکر گہری کھائی میں جا گری جس کے نتیجے میں ایک قیمتی جان مسمی مولانا عبدالستار ساکنہ شاگروم جان بحق ہوگئے ۔باقی تمام زخمیوں کو بی ایچ یو ہسپتال ذوندرانگرام منتقل کر دیاگیاجہاں پر ہنگامی طور پر ان کی طبی امداد جاری ہے ۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق تمام مسافروں کی حالت تسلی بخش ہے ۔ بعض زخمیوں کو طبی امداد کے بعد گھر روانہ کر دیا گیا۔ڈرائیور تاج اورڈرائیور قاسم بھی معمولی طور پر زخمی ہیں ۔یاد رہے کہ حکومت کی عدم توجہی اورعدم دلچسپی کی وجہ سے تریچ کی کئی جانیں پہلے ضائع ہوچکی ہیں ۔تاہم عوام نے ڈرائیور قاسم اورڈرائیور تاج کی خدمات کو سراہاہے ۔ان کا کہنا تھا کہ وہ شدید برف باری اورسڑک کی خستہ حالی کے باوجود لوگوں کی خدمت کررہے ہیں ۔وادی تریچ کے عوام نے ڈسٹرک انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔ انہوں نے حکومت کو وارننگ دی ہے کہ اگر سڑکوں کی یہی حالت رہی تو وہ چترال کی طرف مارچ کرنے پر مجبور ہوجائیں گے ۔ جن کو روکنا حکومت کے لئے مشکل بن جائے گا۔
گاڑی نمبر ps667۔ڈرائیور تاج محمد ولد وور زادی خان ساکنہ وریمون تریچ زخمیوں کے نام ولی الرحمن ولد ولی زار خان ساکنہ شوچ ،عبدالحمید ولد عبدالفتاح ساکنہ وریمون ،تاج محمد ولد وورزادی خان ساکنہ وریمون ،محمد قاسم ولد ارندوی ساکنہ وریمون ،سخی ولد صائب شاہ ،ذوجہ فرید شاہ ساکنہ وریمون ،شیر احمد ولد علیم خان ساکنہ شوچ،محمد آصف ولد شیر احمد ساکنہ شوچ،جاوید ولد میر صوات ساکنہ شاگروم



اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

اترك تعليقاً

إغلاق