ارشاد اللہ شاد

رُموز شاد )……’’علم دشمنوں کا ایک اور وار‘‘

……..( (ارشاد اللہ شادؔ ۔۔بکرآباد چترال)………


سنبھل پایا نہیں تھا دل، دہشت گرد پھر سے لوٹ آئے۔بدھ کے روز kpkمیں دہشت گردی کا ایک نیا رُخ سامنے آیا۔ جنوری کی یخ بستہ سردی ہمیں موت کی تلخی کھٹکھٹائی ، یعنی 20جنوری کو تاریخ انسانی کا دوسرا بڑا بچّوں کے قتل کا سفاک واقعہ چارسدہ میں واقع باچا خان یونیورسٹی میں رونما ہوا۔ یعنی یہ بھی کوئی فرعون کی نسل کے لوگ تھے۔ یوں لگتا ہے جیسے پے در پے دل کے تار ٹوٹ جاتے ہے، کیفیت کچھ ایسی ہے کہ نہ ہمت التجا ہے اور نہ ہی ضبط کا حوصلہ ہے۔
شہداء کے دیس میں دل خون کے آنسو روتا ہے اور جہاں قدم قدم پر رحمتیں برستی ہے اور رحمتوں کا نزول ہوتا ہے۔ نئے سال کے ابتدائی ایّام ، کئی گھروں میں کہرام مچ گئی، قوم سوگ میں ڈوب گئے، اور پرچم سر نگوں ہیں۔ باچا خان یونیورسٹی پر حملہ حقیقتاً پاکستان پر حملہ ہے۔ ان حملوں میں تا دم تحریر ایک پروفیسر سمیت 21 افراد شہید اور 60 سے زائد زخمی ہونے کی اطلاعات آرہی ہے ، اسلئے ہلاکتوں کی تعداد زیادہ بھی ہو سکتی ہیں۔ یہ انسانوں کا نا حق قتل عام ہے جو انسانیت کا قتل ہے، اس کی جتنی بھی مذّمت کی جائے کم ہے۔ وطن عزیز میں آج کل جو حالات ہے اس میں لگتا یہی ہے کہ جان بوجھ کر بعض قوتّیں حالات خراب کر رہی ہیں۔ تادم تحریر ان حملوں کی ذمہ داری کسی گروپ نے قبول نہیں کی ہے لیکن یہ منظّم حملے کسی تنظیم ہی نے تو کئے۔ اطلاعات ہے کہ 4دہشت گرد اس واردات میں ملوّث تھے، جن کی عمریں 15سال سے 25سال تک بتائی جاتی ہیں۔ یہ حملے منصوبہ بندی کے تحت کئے گئے ۔ امید کی جاتی ہے کہ ان ہنگامی حالات کے دوران ہی پاک فوج ، حساس ادارے اور سیکیورٹی پر مامور ادارے ان حملہ آوروں کے ٹھکانوں ، ان کے سہولت کاروں اور محرکین کا سراغ لگا لیں گے۔
میں کس کے نام لکھوں جو الم گزر رہے ہیں
میرے شہر جل رہے ہیں میرے لوگ مر رہے ہیں
تعلیم دشمنوں کی ایک اور وار سے آہ! اک دیا اور بجھا ااور تاریکی بڑھی ، وہ ایک شجرسایہ دار، ابر گوہر ، شہر علم کے مینار اور میدان شباب کے شہسوار تھے۔ ان کا وجود کیا گیا ، ایک دور چلا گیا ، ایک تاریخ رخصت ہو گئی ، ایک عہد گزر گیا ، ایک تحریک اجڑ گئی، ایک ہنگامہ اوجھل ہو گیا ، اب فضا ساکن، ہوا ساکت، صبا دم بخود، اور وقت اداس ہے، اور ہر آنکھ میں لہو ، ہر جان میں کرب، ہر دل میں نوحہ، اور ہر لب پہ دعائیں اور پوری امّت مسلمہ سوگوار ہے، کونسی آنکھ ہے جو پُرنم نہیں ، کونسا دل ہے جس میں غم نہیں ، آہ! مگر وہ شہید نوجواناں ہم میں نہیں رہے۔۔
چارسدہ باچا خان یونیورسٹی کے بچّوں پر جو ظلم ہوا اس کی مذّمت کے لئے کوئی الفاظ ہے اور نہ ہی ایسی بربریت کی کوئی نظیر ملتی ہے۔ ا س سانحے نے کتنی ماؤں کی گودیں جاڑ دیں، اور کتنے ہی والدین کے خوابوں کو چکنا چور کر دیا۔ ایک درسگاہ علمی میں نمو پانے والے خوبصورت طبع نوجواناں پاکستان جن کو کھل کر پھول بننا تھا، گولیوں اور بارود سے بکھیر دی گئیں۔ ان شہید بیٹوں کو اس بات کا علم بھی نہ تھا کہ انہیں کیوں مارا جا رہا ہے۔20جنوری کے ساتھ وہ خون آشام مناظر دوبارہ آنکھوں کے سامنے آجا تے ہیں تو روح پھر سے کانپ اٹھتی ہے۔
اس وقت سب سے بڑا مسئلہ جو درپیش ہے وہ دہشت گرد کے نام پر کھیلی جانے والی خون کی ہولی ہے، جس نے پوری دنیا کے امن کو تہس نہس کر دیا ہے۔ دہشت گردی کے اصل محرکات جاننے اور اس کو جڑ سے ختم کرنے کیلئے پوری دنیا کے رہنما ؤں کو انتہا پسندی، دہشت گردی کے ان واقعات کے پیچھے چُھپی اس نفرت پر غور کرنا ہوگا۔ جس کے سبب انسان وحشت پر اتر آیا، دہشت گردی کے خاتمے کیلئے سب سے پہلے ایسے اقدامات کئے جانے چاہیءں جن سے پوری دنیا میں نا انصافی اور نفرت کا خاتمہ ہو ۔ دوسروں کے جذبات و نظریات کے احترام اور آپس میں مل بیٹھ کر بات چیت کرنے ہی سے نفرت اور دہشت گردی کو ختم کیا جا سکتا ہے۔
امید کی جاتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی سطح پر موثّر اقدامات کئے جائیں گے، دہشت گردی کہیں بھی ہو قابل نفرت اور قابل مذمت ہے۔۔۔۔!!

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق