ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

دابیداد…..اسلحہ کی سب سے بڑی مارکیٹ

……….ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ؔ ……


ایک بڑی خبر کو چنداں اہمیت نہیں دی گئی ۔جدہ میں او آئی سی کا اجلاس ہوا ۔اجلاس میں قطر ،کویت ،سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک نے تجویز پیش کی کہ باہمی اتفاق واتحاد کے ذریعے روایتی اسلحہ کے ساتھ ساتھ جوہری اسلحہ بھی خرید لیا جائے تاکہ ایران کی طرف سے ممکنہ جارحیت کا مقابلہ کیا جاسکے ۔خبر میں یہ بات چنداں اہمیت نہیں رکھتی کہ او آئی سی 1978ء تک اسلامی ملکوں کی تنظیم تھی ۔1978ء میں او آئی سی نے افغانستان کے خلاف جنگ میں ہر اول دستے کا کردار اداکرکے اپنی حیثیت کو مشکوک بنادیا ۔1978ء سے 1990ء تک 12سالوں میں او آئی سی کے 14اجلاس منعقد ہوئے جن میں 10بار سربراہ اجلاس بھی بلائے گئے ۔بعض غیر معمولی اجلاس بھی بلائے گئے ۔1990ء سے 2016 ء تک مشرقی وسطیٰ اور خلیجی ممالک میں عالمی طاقتوں نے 16فوجی اڈے حاصل کئے ۔دوحہ کے مقام پر سنٹرل کمانڈ کاہیڈ کو ارٹر قائم کیا ۔اس حوالے سے او آئی سی کا ایک بھی اجلاس نہیں بلایا گیا ۔صاف نظر آتا ہے کہ او آئی سی کی ڈوریاں کہاں سے ہلائی جا رہی ہیں ۔کون اجلاس بلاتا ہے اور کس کے مفاد میں اجلاس بلاتا ہے ۔اب یہ بات اپنی اہمیت کھو چکی ہے ۔اہم بات یہ ہے کہ قطر، کویت، بحرین ،سعودی عرب اور تیل کی دولت سے مالامال دیگر خلیجی ممالک کو مہلک ہتھیاروں کی سب سے بڑی مارکیٹ کا درجہ دیا گیا ہے ۔تیل کی دولت والے ان بدقسمت ممالک میں کوئی سکول ، کالج ، یونیورسٹی اور تعلیمی ادارہ بنانے کی کوئی تجویز نہیں ہے ۔اگر کوئی تجویز ہے تو مہلک ہتھیار خرید نے کی تجویز ہے ۔ایک بڑا واقعہ 13 سال پہلے گزراہے ۔مغربی ممالک اور عالمی طاقتوں نے عراق پر حملے کے لئے سب سے بڑا بہانہ یہی تراش لیا تھا کہ عراق کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہیں ۔ انگریزی میں ان کے لئے ڈبلیوایم ڈی کا مخفف استعمال ہوتا تھا ۔عراق پر حملہ ہوا۔عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی ۔عراقی تیل کے ذخائر پر دشمن کا قبضہ ہوا۔ عراق سے 10کھرب ڈالر کی دولت کو لوٹ کر مال غنیمت کے طور پر مغربی ممالک میں منتقل کیا گیا۔مہلک ہتھیاروں کا کوئی ذکر سننے میں نہیں آیا۔ یہ وہ ہتھیار تھے جو 1979ء سے لیکر 1990ء تک 11 سالوں کی دوستی کے دوران ایران کے خلاف جنگ کے لئے عراق کو فروخت کئے گئے تھے ۔مغربی کمپنیوں نے جو ہتھیار ایران کے خلاف جنگ کے لئے عراق کو فروخت کئے ۔ وہی ہتھیار عراق کے لئے اور عراقی قیادت کے لئے غلامی کا سبب بنے۔صدام حسین کو پھانسی دی گئی ۔عراق پر دشمن کا قبضہ ہوا۔ مہلک ہتھیار دشمن کے ہاتھوں میں چلے گئے۔ایک کھڑکی سے ہتھیار فروخت کیا ۔قیمت وصول کی ،دوسری کھڑکی سے حملہ کر کے ہتھیاروں پر قبضہ جمایا اور واپس لے گیا ۔اس کانام مارکیٹنگ ہے ۔کیولری گراونڈ لاہور میں کرنل (ر)محمد ایوب رہتے تھے ۔بڑے عالم وفاضل آدمی تھے ۔دفاعی تجزیہ نگار تھے ۔سفارتی امور پر ان کی گہری نظر تھی۔انہوں نے کئی اہم کتابوں کے تراجم اردو میں شائع کئے ۔اُن میں سے ایک کتاب ’’ہمیفرے کے اعترافات ‘‘ ہے۔ہمیفرے کو انسویں صدی میں جاسوس بنا کر فرقہ ورانہ فسادات کی آگ بھڑکانے کے لئے عراق بھیجاگیا تھا ۔انہوں نے عراق کے بعد حجاز میں کام کیا ۔بعد میں ان کی کتاب شائع ہو ئی جس میں انہوں نے اپنی کہانی بلاکم وکاست بیان کی او ر جرائم کا برملا اعتراف کیا ۔کرنل ایوب کے تراجم میں سے ایک اور کتاب “صیہونی پروٹوکال” ہے کتاب کا انگریزی نام’’پانز ان دی گیم ‘‘ہے۔ اردومیں موٹے موٹے جو اصول دئیے گئے ہیں ۔وہ تین اصول ہیں سب سے پہلے یہ بات لکھی گئی ہے کہ پروپیگنڈہ ، سرمایہ اور اسلحہ کے ذرائع اپنے ہاتھ میں رکھو۔پروپیگنڈاکر کے دویادو سے زیادہ ملکوں کو لڑاؤ ۔ لڑائی کے لئے ہتھیار فروخت کرو ۔سرمایہ کی کمی ہو توہتھیار خریدنے کے لئے سود پر قرض دیدو۔ یہ تینوں اصول خلیجی ریاستوں پر آزمائے جارہے ہیں۔کیوں آزمائے جارہے ہیں ؟دو وجوہات کی بناء پراس جگہ آزمائے جا رہے ہیں ؟پہلی وجہ یہ ہے کہ ان ریاستوں میں جاگیرداری نظام ہے۔وڈیرہ شاہی ہے۔ چوہدری اور سردار کی حکمرانی ہے ۔عوام پس چکے ہیں یا پس رہے ہیں ۔کوئی اخبار ، کوئی ریڈیو، کوئی ٹی وی ، یا سوشل میڈیا آگاہی پھیلانے والانہیں ہے ۔دوسری وجہ یہ ہے کہ ا ن ملکوں میں تعلیم کی اجازت نہیں۔تعلیمی اداروں کی اجازت نہیں ۔جہالت کا دور ہے جہالت کا فائدہ دشمن کو پہنچتا ہے ۔تیل کی ریفانری ہو ۔تعمیراتی کمپنی ہو یا تجارتی ادارہ ہو اس کا سربراہ یا چیف ایگزیکٹیو کوئی امریکی ،برطانوی ، جرمن ، فرانسیسی یا بھارتی باشندہ ہو گا۔عرب ہر گز نہیں ہو گا ۔مسلمان ہر گز نہیں ہوگا ۔تیل اور گیس کی دولت اللہ پاک نے دی ۔اس دولت کو مائع سونا (لیکوڈگولڈ)کا نام دیکر اس پر مغربی ملکوں نے اپنے علم ،اپنی مہارت اور اپنی بصیرت کے ذریعے قبضہ کر لیا ۔چوہدریوں اور وڈیروں سے کہا ۔تم عیاشی کرو ۔حکومت کرو ، علم سے کام نہ رکھو ، مہارت سے دور بھاگو ۔یہ شعبہ ہم سنبھال کر رکھیں گے ۔باچاخان یونیورسٹی پر حملے کی خبروں نے پورا ہفتہ ہمارے اخبارات کو مصروف رکھا۔ اس وجہ سے جدہ میں او آئی سی کے اجلاس کی خبروں کو وہ اہمیت نہیں ملی جو ملنی چاہیے تھی۔او آئی سی اجلاس میں تیل کی دولت سے مالامال ممالک نے ایران کے خلاف عالمی مارکیٹ سے مہلک ہتھیار خرید نے کی تجویز سے اتفاق کیا ہے ۔اب خلیجی ممالک کو اسلحہ کی منڈی میں تبدیل کیا جائے گا ۔ایک خبریہ بھی ہے کہ پاکستان سے اسلحہ خریدا جائیگا۔ مگر یہ جذباتی بات ہے ۔پاکستان کو نیوکلیر سپلائی گروپ میں رکنیت نہیں دی گئی ۔پاکستان کوئی اہم ہتھیار نہیں بیچ سکتا ۔مغربی ممالک کے علاوہ ایشیاء کے اندر روس، چین ، بھارت اور اسرائیل اس گروپ کے ممبر ہیں ۔روس اور چین سفارتی لحاظ سے اسلحے کی مارکیٹنگ سے باہر ہیں ۔اس لئے بھارت اور اسرائیل کو اس منڈی میں .’’حصہ بقدر جثہ ‘‘ مل جائے گا ۔امریکی کمپنیاں سامنے آئینگی اور اسرائیل کا اسلحہ قطر ، کویت اور بحرین وغیرہ کے ہاتھ فروخت کر کے منافع کمائیں گی۔ اس طرح اسلحہ کی فروخت سے آنے والی آمدنی میں اسرائیل کو بھی حصہ ملے گا اور یہ دولت فلسطینیوں کے خلاف نئی یہودی بستیاں قائم کرنے میں کام آئے گی۔عالمی طاقتوں کو مبارک ہو۔ او آئی سی نے خلیجی ریاستوں کی صورت میں اسلحہ کی سب سے بڑی مارکیٹ اُن کی خدمت میں بصد آداب پیش کی ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق