مضامین

صدا بصحرا……حکمرانوں کے ارشاداتِ عالیہ

……..ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی ؔ

پاکستان تحریک انصاف کے چےئرمین عمران خان اور خیبر پختونخواکے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کی تقریروں کے اقتباسات اخبارات کی زینت بن چکے ہیں ۔الیکٹرانک اور سوشل میڈیا نے ان ارشادات کو شاندار طریقے سے نشر کیا ہے ۔عمران خان نے خیبر میڈیکل یونیورسٹی میں ڈاکٹروں سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ اگلے 6 مہینوں میں آپ تبدیلی محسوس کر ینگے ۔وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے پشاور میں ترقیاتی اور تعمیراتی کاموں کی تکمیل میں تاخیر پر غم و غصے کا ظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومت کے ماتحت محکموں کو ہدایت کی ہے کہ ترقیاتی اور تعمیراتی کاموں کی فوری تکمیل پر توجہ دی جائے۔ ترقیاتی منصوبوں پر کام میں تاخیرہرگز برداشت نہیں کی جائیگی ۔دونوں حکمرانوں کے ارشادات عالیہ اس قابل ہیں کہ ان کو سنہرے حروف میں لکھا جائے اور کتبے کی صورت میں خیبر پختونخوا کے قبرستان میں گزشتہ ڈھائی سالوں سے اپنی تکمیل کے منتظر چھوٹے چھوٹے منصوبوں کی قبروں پر لگایا جائے ۔میرادل چاہتا ہے کہ اس نیک کام کا آغازاپنی یونین کونسل سے کروں۔ میرا یونین کونسل لاسپور خیبر پختونخوا سے گلگت بلتستان کو جانے والی شاہراہ شندور روڈ پر چترال کے مشرق میں واقع ہے ۔جون 2013ء سے خیبر پختونخوا میں جو سکیمیں بند پڑی ہیں ان میں تین سکیمیں میری یونین کونسل میں برلب سڑک بڑی شاہراہ پر واقع ہیں ۔اور یہ صوبے کی 4ہزار ادھوری سکیموں میں سے تین نمایاں مثالیں ہیں ۔جون 2013 ء میں گورنمنٹ ہائی سکول سورلاسپور میں تعمیراتی کام مکمل ہونے کے بعد دفتری اصطلاح کے مطابق پی سی فور داخل کی گئی تھی ۔14 پوسٹوں کی منظوری جولائی یا اگست 2013 ء میں آنی چاہیے تھی۔نئی حکومت نے نئے منصوبوں پر پابندی لگائی ۔نئی پوسٹوں پر پابندی لگائی ۔ہائی سکول سور لاسپور کی فائل لٹک گئی ہے۔گورنمنٹ ہائی سکول بالیم میں پانی کا کنکشن باقی تھا ۔اس پر 50 ہزار روپے کاخرچہ آتا ہے ۔جون 2013 ء میں نئی حکومت نے حکم دیا کہ خبر دار ایک پائی کا کام بھی نہ کرو ۔چنانچہ پانی کے کنکشن کاکام ڈھائی سالوں سے نہیں ہوا۔وزیراعلیٰ کے دوسرے حکم کا انتظار ہے ۔پانی کا کنکشن لگے گا تو پی سی فور داخل کیا جائے گا اور وزیراعلیٰ نئے سکولوں کے لئے پوسٹوں کی منظوری پر لگائی ہوئی پاپندی ہٹائیں گے تو سکول میں درس وتدریس کا آغاز ہوگا ۔گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول ہر چین کی عمارت میں رنگ ، روغن، صفائی، کھڑکی ، دروازے ، شیشے اور جا لیاں لگنے کا کام جون 2013ء میں جاری تھا ۔نئی حکومت نے کام بند کروادیا۔ ڈھائی سال گذرگئے ، کام بند ہے۔گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج دروش ، ہائی سیکنڈری سکول مستوج ، ہائیر سیکنڈری سکول فیض آباد کی طرح 28 سکولوں اور کالجوں کے کام صرف ایک ضلع میں ادھورے پڑے ہیں ۔تور کھو روڈ ، مستوج روڈ، شندور روڈ ، بونی پُل اور اس طرح کے 84 چھوٹے منصوبے جون 2013ء سے صرف ایک ضلع چترال میں ادھورے پڑے ہیں ۔جون 2013ء میں خیبر پختونخوا کے اندر کسی بھی پارٹی کی حکومت آتی، نالائق سے نالائق لوگ حکومت میں آتے تو ایک ضلع میں 100 سے زیادہ منصوبے ڈھائی سالوں تک ٹھیکہ داروں اور سب انجینئر یا ورک منشی کے انتظار میں بند پڑے نہ ہوتے۔ایم ایم اے اور اے این پی کے دو ادوار میں ایک ایک ضلع کے اندر 300 سے زیادہ منصوبے مکمل ہوا کرتے تھے ۔ 100 سے زیادہ منصوبوں پر کام جاری رہتا تھا ۔2013ء کے بعد پرانے منصوبوں پر کام بند کردیا گیا ۔نیا منصوبہ کوئی نہیں آیا ۔ہمارے محبوب لیڈر عمران خان نے فروری 2013ء میں اعلان کیاتھا کہ میری حکومت آگئی تو 90 دنوں کے اندر تبدیلی محسوس کروگے ۔حکومت آنے کے بعد پھر ہمارے محبوب قائد نے تبدیلی کا ذکر نہیں کیا ۔خیبر میڈیکل یونیورسٹی پشاور میں خیبر پختونخواکے سب سے زیادہ پڑے لکھے ،سب سے زیادہ باشعور اور سب سے زیادہ متاثر ہوئے والے طبقے یعنی ایف آرسی ایس اور ایم آرسی پی سطح کے بڑے ڈاکٹروں سے خطاب کرتے ہوئے حکومت میں آنے کے 916 دنوں کے بعد مژدہ سنایا ہے کہ چھ ماہ بعد یعنی مزید 180 دنوں کے بعد تبدیلی محسوس کرو گے۔بعض حلقوں نے عمران خان کی تقریر کو سیاسی بیان قرار دیا ہے اور مشورہ دیا ہے کہ اس کو سنجیدہ نہ لیا جائے لیکن ہماری نظر میں اس کو سنجیدہ لینا بہت ضروری ہے ۔ اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں ۔پہلی بات یہ ہوسکتی ہے ۔کہ 180 دنوں کے بعد عمران خان ایک بار پھر 6 مہینے بعد تبدیلی آنے کی خوشخبری دینگے ۔دونوں سنجیدہ باتیں ہیں ۔تیسری سنجیدہ بات یہ ہے کہ چھ ماہ بعد نیا بجٹ آچکا ہو گا ۔96 ارب یا 98 ارب روپے موجودہ بجٹ میں ضائع ہو کر واپس جاچکے ہو نگے ۔نئی بارشوں اور نئے سیلابوں کے موسم میں صوبے کے اندر بنیادی ڈھانچے کو مزید نقصان پہنچ چکا ہوگا ۔ابھی 2012ء اور 2015ء کے سیلاب زدہ علاقوں میں تعمیراتی کام شروع نہیں ہوا ۔2016ء کا سیلاب مزید تبدیلی لائے گا ۔اور صوبے کے دور دراز پہاڑی اضلاع پرانے کھنڈراٹ میں تبدیل ہو جائنگے ۔سکولوں ،کالجوں اور ہسپتالوں کی حالت مزید خرابی سے دوچار ہوگی تو قدم قدم پر تبدیلی نظر آئے گی ۔لوگ اکرم درانی اور امیر حیدر خان ہوتی کو دعائیں دیں گے۔حکمرانوں کے ارشادات عالیہ سر آنکھوں پر ، مگر باتوں کے ساتھ کم ازکم دو فیصد کام بھی نظر آنا چاہیے۔

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock

اشتہارات بند کیوں ہیں؟۔

براہِ کرم ہمارے پلیٹ فارم کو سپورٹ کرنے کے لیے اشتہارات کو روکنے والی ایپ بند کر دیں۔ آپ کی معاونت ہمارے لیے اہم ہے۔