ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

صدا بصحرا….سیکورٹی کیلئے اپنا بندوبست

…….ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ؔ …..



نئے سال کے آغاز پر نیا ایکٹ ، نیا بِل اور نیا قانون آگیا ہے۔اس قانون کی جھلکیاں دھیرے دھیرے منظر عام پر آرہی ہیں ۔ایکٹ کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان کا آئین غلط ہے، شہر یوں کی جان ومال کا تخفظ ریاست کی ذمہ داری نہیں، تعلیمی اداروں کی سیکورٹی حکومت کا دردِ سر نہیں۔ہر ایک کو “اپنا بندوبست “کرنا چاہیے ۔جو اپنا بندوبست نہیں کرے گا اُس کے خلاف پولیس میں ایف آئی آر درج ہوگا ۔اس قانون کے تحت صوبے کے مختلف اضلاع میں 2ہزار پرنسپلوں اور ڈیڑھ ہزار ہیڈ مسٹر یسوں کے خلاف ایف آئی آر کا ٹے گئے ہیں ۔ان سطور کی اشاعت تک اس تعداد میں مزید اضافہ ہو گا ۔چند ہیڈ مسٹر یس صاحبان کے خلاف وارنٹ گرفتاری بھی ایشوکئے گئے ہیں ۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہوں نے بلا ضمانت وارنٹ پر زور دیا ہے ۔ہیڈ مسٹریس کو ضمانت قبل ازگرفتاری کا حق بھی حاصل نہیں ہوگا ۔نیز یہ بھی اس قانون میں گنجائش رکھی گئی ہے کہ جس تعلیمی ادارے پر دشمن نے حملہ کیا۔اُس ادارے کے سربراہ کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔اگر کسی ہیڈ مسٹریس کا بھائی، باپ ، بیٹا یا شوہر کسی اہم پوسٹ پر ہے یا سیاسی اثر ورسوخ یا سر مایہ ، جاگےِر وغیرہ کے لحاظ سے مضبوط آسامی ہے ۔وہ بچ جائیگی ۔اگر کوئی ہیڈ مسٹریس اپنے بوڑھے ، ماں باپ، بیمار شوہر یا کم سن بچوں کی کفالت کرتی ہے تووہ تحریک انصاف کی حکومت میں انصاف کیلئے در در ٹھوکریں کھا ئیگی ۔خون پسینے کی کمائی “انصاف “کے اصول میں لٹائیگی پھر بھی انصاف سے محروم رہے گی۔
کیا یہ نمرود کی خدائی تھی !
بندگی میں میرا بھلانہ ہوا
قابل غور باتیں چار ہیں۔پہلی بات یہ ہے کہ صوبائی اسمبلی کو پاکستان کے آئین سے متصادم قانون بنانے کی اجازت ہے۔یا نہیں ؟اگر اجازت نہیں ہے تو اس کالے قانون کے خلاف شہریوں کی انجمنیں، وکلاء کی تنظیمیں ،انسانی حقوق کے علم بردار اور پبلک انٹرسٹ لیٹی گیشن کے دعویدار عدالتوں سے رجوع کیوں نہیں کرتے ؟ عدالتیں ایسے قوانین کے خلاف از خود نوٹس کیوں نہیں لیتیں ؟دوسری اہم بات یہ ہے کہ صوبائی اسمبلی میں حزب اختلاف بنچوں پر بیٹھے ہو ئے ممبروں میں کو ئی پڑھا لکھا ممبر اس قانون کے خلاف آوازاٹھانے کیلئے کیوں نہیں اٹھا۔ کیا ایک بھی ممبر ایسا نہیں جس نے پاکستان کا آئین اس کی 21 عد د چھوٹی بڑی ترمیمو ں کے ساتھ مطالعہ کیا ہو اور جس کو قانون سازی کی ابجد سے دوفیصد بھی واقفیت ہو ،یا مفاد عامہ کا ایک فیصد بھی خیال ہو۔ تیسری اہم بات یہ ہے کہ صوبائی اسمبلی سیکریٹریٹ میں پاکستان کے آئین سے متصادم قانون کا مسودہ کیوں تیار ہوا؟صوبائی محکمہ قانون کے کسی پڑھے لکھے آفیسر نے مسودہ قانون پر اپنی رائے کیوں نہیں دی ؟اور چوتھی بات یہ ہے کہ صوبے کی مخلوط حکومت میں اگر پی ٹی آئی والے بڑے صاحب کے حکم کے پابند ہیں تو قومی وطن پارٹی اور جماعت اسلامی کے اراکین نے اس ایکٹ پر اپنی رائے کیوں نہیں دی ۔سکندر شیر پاؤ اور عنایت اللہ خان معقول لوگ ہیں ۔پڑھے لکھے بھی ہیں اور عوامی مفاد کے لئے کام کرنے کا پس منظر بھی رکھتے ہیں ۔انہوں نے اس کالے قانون کی منظوری میں برضاورغبت کیوں حصہ لیا ؟ان کے سامنے کون سی مجبوری تھی ؟چاروں باتیں قابل غور ہیں ۔اس وقت ہمارا دشمن چاروں صوبوں کے علاوہ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی حملوں کی تیاری کر رہا ہے۔ پنجاب کی حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ تعلیمی اداروں کو سکیورٹی دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔تاہم تعلیمی ادارے اس کام میں حکومت کے ساتھ تعاون کریں گے ۔سندھ اور بلوچستان کی حکومتوں نے بھی برملا تسلیم کیا ہے کہ تعلیمی اداروں کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے۔اے جے کے اور گلگت بلتستان کی حکومتیں بھی پاکستان کے آئین کی روشنی میں تعلیمی اداروں کو سکیورٹی دے رہی ہیں ۔البتہ تعلیمی اداروں سے تعاون کی اپیل کرتی ہیں ۔خیبر پختونخوامیں تبدیلی کے جھوٹے دعویداروں نے سرکاری سکولوں اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے پر نسپلوں کے خلاف ایف آئی آر ، وارنٹ گرفتاری اور دیگر اقدامات کا سلسلہ شروع کیا ہے۔وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کا کہنا ہے کہ ایکٹ کے تحت یہ کام جائز ہے لیکن قانون سے معمولی واقفیت رکھنے والے شہری کہتے ہیں کہ صوبائی اسمبلی کا نیا ایکٹ پاکستان کے آئین سے متصادم ہے۔سکیورٹی حساس کام ہے اس کا ” اپنا بندوبست ” جنگل کا قانون کہلائے گا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

اترك تعليقاً

إغلاق