ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

دادبیداد۔۔۔۔۔افغان اور افغان کرنسی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی
حکومت نے افغان کرنسی اور دیگر کرنسیوں کے کاروبار کو پشاور کی برائی قرار دے کر پشاور شہر میں لائسنس لے کر افغانی کرنسی کا کاروبار کرنے والے تقریباً100چھوٹے تاجروں کی دکانوں کو تالہ لگوادیا ہے۔ اگر یہ تالہ بندی ملکی قوانین کے تحت ہوتی تو کسی کو اعتراض یا احتجاج کرنے کی ضرورت نہ پڑتی۔ مگر واقعہ یہ ہے کہ تالہ بندی محض نفرت اور تعصب کی بنیاد پر ہوئی ہے۔ مخصوص طبقوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے ہوئی ہے۔ کرنسی کے کاروبار میں تین طبقے کام کرتے ہیں۔ ایک طبقہ پاکستان کے چھوٹے تاجروں کا ہے۔ دوسرا طبقہ پاکستان کے کروڑ پتی اور کھرب پتی خاندانوں کا ہے۔ تیسرا طبقہ افغانستان سے تعلق رکھنے والے ارب پتی مہاجرین کا ہے۔ موجودہ حکومت نے پاکستان کے کھرب پتی اور کروڑ پتی طبقے کو نہیں چھیڑا۔ افغانی طبقے کو نہیں چھیڑا۔ صرف پشاور کے چھوٹے تاجروں کے خلاف انتقامی کاروائی کا آغاز کیا ہے۔ اس کاروائی کی بنیاد خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹ نہیں۔ پشاور کے کرنسی تاجروں کی لاقانونیت نہیں۔ بلکہ اس کاروائی کی بنیاد یہ ہے کہ اسلام آباد والے ساری برائیوں کی جڑپشاور کو اور پشاور کے پاکستانی پختونوں کو قرار دیتے ہیں۔ اسلام آباد اور لاہور میں ایک طاقت ور گروہ پشاور کے خلاف اور پشاور کے پختونوں کے خلاف منظم سازش کے تحت کام کرتا ہے۔ اس گروہ کو ایف بی آر کی سرپرستی حاصل ہے۔ دیگر اداروں کی سرپرستی حاصل ہے۔ ریگولیٹری اتھارٹی کی اشیر باد حاصل ہے۔ یہ طبقہ اسلام آباد، لاہور، کراچی اور کوئٹہ کے پوش علاقوں میں کوٹھیاں لے کر کرنسی، ہنڈی اور حوالہ کا غیر قانونی کاروبار کرتا ہے۔ افغان مہاجرین بھی طاقتور لوگ ہیں۔ ان کے پاس بڑا پیسہ ہے۔ وہ بھی اپنا کاروبار ٹھیک ٹھاک طریقے سے چلا رہے ہیں۔ خفیہ اداروں کے پاس ایسی بھی رپورٹیں ہیں۔ جس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ٹیکس بچانے کے لئے اسلام آباد اور لاہور کی مضبوط پارٹیوں نے جمرود، باڑہ، میر علی اور میران شاہ جیسے علاقوں میں جا کر بینک اکاؤنٹ کھولے ہوئے ہیں۔ جہاں ٹیکس نہیں ہے۔ یہ بہت بڑا نیٹ ورک ہے۔ اس نیٹ ورک میں بڑے بڑے مگر مچھ ہیں۔ اُن پر کوئی ہاتھ نہیں ڈال سکتا۔ نزلہ ہمیشہ کمزورپر گرتا ہے۔ نزلے کی زد میں پشاور آتا ہے اور پشاور کا وہ طبقہ آتا ہے جو غریب ہے، مزدور کار ہے۔ خیبر پختونخوا کی حکومت کہتی ہے کہ صوبے میں سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع ہیں۔ وفاقی حکومت کہتی ہے کہ ملک میں سرمایہ لگانے والوں کو ہر قسم کی سہولت دی جا رہی ہیں۔ مگر جن غریب تاجروں نے حکومت پاکستان سے لائسنس لے کر افغان کرنسی کا جائز کاروبار شروع کیا ہے۔ ان کو یہ کہہ کر تنگ کیا جارہا ہے کہ تمہارے پاس بڑا سرمایہ کیوں نہیں؟ تم کھرب پتی اور کروڑ پتی کیوں نہیں ہو؟ تم افغان مہاجر کیوں نہیں ہو؟ تم کرنسی کا چھوٹا کاروبار کیوں کرتے ہو؟ بچوں کے لئے حلال روزی کی تلاش کیوں کرتے ہو؟ تم پشاور میں کیوں رہتے ہو؟ تم پختون کیوں ہو؟ خیبر پختونخوا کی حکومت کو بھی یہ مسئلہ وفاقی حکومت کے سامنے رکھنا چاہیئے۔ ایوان بالا میں خیبر پختونخوا کی نمائندگی کرنے والے سینیٹروں کو بھی یہ مسئلہ سینیٹ میں اٹھانا چاہیئے۔ قومی اسمبلی میں خیبر پختونخوا کی نمائندگی کرنے والے اراکین اسمبلی کو بھی یہ مسئلہ ایوان میں اٹھانا چاہیئے۔ ایوان میں وزیر خزانہ اور ایف بی آر حکام سے تین سوالات پوچھے جائیں۔ پہلا سوال یہ پوچھا جائے کہ حکومت نے لاہور ، اسلام آباد، کراچی اور کوئٹہ میں کرنسی مارکیٹ پر کتنے چھاپے مارے؟ کون کون گرفتار ہوئے؟ کس کس کاروبار بند کیا گیا؟ اور کس کس کو کتنا جرمانہ کیا گیا؟ دوسرا سوال یہ پوچھا جائے کہ پشاور کے اندر پوش علاقوں میں کوٹھیوں کے اندر کرنسی ، حوالہ اور ہُنڈی کا جو کاروبار ہوتا ہے اس کو ریگولیٹ کرنے کے لئے حکومت کے پاس کس طرح کا منصوبہ ہے؟ کیسا پلان ہے؟ اگر چوک یادگار پاکستان کی واحد کرنسی مارکیٹ ہے تو اس کو بے شک بند کرو۔ اگر لائسنس لے کر کرنسی کا کام کرنا جرم ہے تو لائسنس دینے والی اتھارٹی کو گھر بھیجو۔ اگر پختون ہونا جرم ہے تو ایوان میں آکر صاف بتا دو کہ پختون ہونا سب سے بڑا جرم ہے۔ وزیر خزانہ سے تیسرا سوال یہ پوچھا جائے کہ حکومت نے کراچی، کوئٹہ، اسلام آباد، لاہور اور پشاور میں کرنسی کا غیر قانونی کاروبار کرنے والے افغان مہاجرین میں اب تک کتنے لوگوں کو پکڑا ہے؟ کتنے لوگوں کو سزا ہوئی ہے اور کتنے لوگوں کا کاروبار بند کیا گیا ہے؟ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ لگ بھگ 100دکانوں کو بند کرنے کی جگہ تحقیق کی جائے ، تفتیش کی جائے ، مجرم کو سزا دی جائے اور بے گناہ کو دکان کھول کر کاروبار کرنے کی اجازت دی جائے۔ اگر گیہوں کے ساتھ گھن کو پیسنے کا عمل جاری رکھا گیا ہے تو اسکا مطلب یہ ہوگا کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا کے ساتھ بُغض رکھتی ہے اور صوبائی حکومت پشاور کے کاروباری طبقے کی جائز شکایات کا ازالہ کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ اسکا یہ مطلب بھی لیا جائے گا کہ حکومت پشاور کے تاجروں کو ان کے حقوق دلانے کی ہمت اور جر ء ت نہیں رکھتی۔ جن چھوٹے تاجروں کو کرنسی کے کاروبار کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا وہ اپنے کاروبار کو تحفظ دینے کے لئے بڑے سرمایہ داروں کی طرح پوش علاقوں کی بڑی بڑی کوٹھیوں میں منتقل ہونے کی طاقت بھی نہیں رکھتے۔ اس وجہ سے وہ شدید احساس محرومی کا شکار ہیں۔ اگر یہ لوگ ارب پتی مہاجر ہوتے یا کھرب پتی تاجر ہوتے تو حکومت ان پر کبھی ظلم نہ کرتی۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

اترك تعليقاً

إغلاق