ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

داد بیداد……سرکاری اور نجکاری کا جھگڑا

………ڈاکٹر عنایت اللہ فضی ؔ …….



پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائینز کے ملازمین کی ہڑتال اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے احتجاج میں قوم اور ملک کا جو نقصان ہوا اس سے زیادہ نقصان دوقیمتی جانوں کی ہلاکت ہے ۔جس کی تلافی ممکن نہیں۔ جہاں تک 10ارب سے زیادہ مالی نقصان کا تعلق ہے یہ پی آئی اے کا پرانا وطیرہ تھا۔اور جہاں تک مسافر وں کو دُکھ اور تکلیف پہنچنے کا تعلق ہے یہ بھی پی آئی اے کا پرانا وطیرہ ہے ۔ہم اس کے بھی عادی ہو چکے ہیں ۔اصل مسئلہ سرکاری اور نجکاری کی بحث سے پیدا ہو نے والا جھگڑا ہے ۔1970 کے عشرے میں بھٹو شہید نے نجی ملکیت کے اندر کام کرنے والے اداروں کو قومی ملکیت میں لے لیا۔ 24 سال بعد پتہ لگا کہ تمام ادارے خسارے میں جارہے ہیں ۔1988ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو نے نیا عمرانی معاہدہ اور پرائیویٹا ئزیشن یعنی نجکاری کا تصور دیا ۔دو بار اقتدار میں آکر اس پر عمل کیا ۔سابق صدر آصف علی زرداری نے بھی نجکاری کی پالیسی جاری رکھی ۔پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے 2012 ء میں جو منشور دیا ۔اس میں نجکاری کی حمایت کی گئی ۔دیگر بڑی جماعتوں میں سے مسلم لیگ ق کے چوہدری شجاعت حسین، آل پاکستان مسلم لیگ کے جنرل (ر)پر ویز مشرف اور عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید احمد بھی نجکاری کے حامی رہ چکے ہیں ۔ جماعت اسلامی اور جمعیت العلمائے اسلام نے بھی جنرل ضیاء الحق اور جنرل مشرف کے ادوار میں نجکاری کی حمایت کی ہے ۔ایم کیو ایم نے بھی نجکاری کی پالیسی کو ماضی میں بے حد سراہا ہے ۔یہ الگ بات ہے کہ موجودہ حالات میں سیاست کے تقاضے بدل گئے ۔مفادات بدل گئے ۔جنرل غلام عمر مرحوم کا بڑا بیٹا زبیر عمر میاں نواز شریف کی نجکاری پالیسی کا علمبر دار ہے ۔توجنرل غلام عمر کا چھوٹا بیٹا اسد عمر پی ٹی آئی کے کیمپ میں بیٹھ کر میاں نواز شریف پر گولہ باری کر رہا ہے ۔اور اینٹ سے اینٹ بجانے کی دھمکی دیتا ہے ۔”ہم سخن فہم ہیں غالب کے طرفدار نہیں ” سرکاری اور نجکاری کی حقیقت کیا ہے ۔ایک کہانی سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آئیگی ۔حاجی الف نون اینگر وکیمیکلز میں ملازم تھا ۔ڈیڑھ لاکھ روپے تنخواہ تھی ۔ اُس نے استعفیٰ دیکر پی آئی اے میں 80ہزار روپے ماہانہ کی نوکری لے لی۔ دوستوں اور رشتہ داروں نے کہا تم نے خسارے کا سوداکیا ہے ۔حاجی صاحب نے کہا یہ خسارہ نہیں ۔ایک سال بعد پتہ لگے گا کہ میں نے فائدے کا سودا کیاہے ۔ الف نون نے اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو بتایا کہ دیکھو اینگروکیمیکلز میں روزانہ 12 گھنٹے سے 14گھنٹے تک کام کر کے سال میں 18لاکھ روپے کماتا تھا ۔پی آئی اے میں روزانہ 3گھنٹے کا م کرکے سال بعد 40 لاکھ روپے کی کمائی گھر لے کے آیا ہوں ۔یہاں ڈیوٹی کم ہے، تنخواہ کم ہے مگر اوپر کی آمدنی بہت ہے ۔یہ سچی کہانی ہے ۔ محض نام بدل دیا گیا ہے۔فنی اور تکنیکی امور کے ماہرین یہ بحث بھی کرتے ہیں کہ ائیر لائین میں ایک جہاز کے لئے 125ملازمین کا عملہ ہونا چاہیے پی آئی اے میں عملہ کی تعداد فی جہاز کے حساب سے 900 سے کچھ اوپر یا 1000کے قریب تر ہے ۔یہ سراسر خسارے کا کاروبار ہے ۔اس میں فائدہ ہو ہی نہیں سکتا ۔انگریزی میں اس کو “باٹم لیس ٹینک ” کہتے ہیں ۔بغیر پیندے کا ٹینک ہے ۔جتنا پانی ڈالوگے سب ضائع ہوگا ۔یہ سرکاری تماشا ہے۔ ہر سیاسی جماعت حکومت میں آکر پی آئی اے میں ہزاروں نئے لوگ بھرتی کرتی ہے ۔ضرورت کے بغیر اور میرٹ کے بغیر لوگ آتے ہیں ۔سالانہ 30ارب اور 40ارب روپے کا خسارہ دیتے ہیں ۔پھر بھی سینہ تان کرکہتے ہیں کہ یہ ہمارا حق ہے ۔یہی حال پاکستان سٹیل ملز، پاکستان ریلوے اور واپڈاکا ہے ۔ واپڈا کی ذیلی کمپنیاں پیسکو، لیسکو، ٹیسکو وغیرہ بھی سرکاری کمپنیاں ہیں ۔نجی تحویل میں نہیں ہیں ۔اگر یہ کمپنیاں سیٹھوں کی ملکیت میں دیدی گئیں تو ایک سال کے اندر صارفین کو سہولت ملے گی۔لوڈشیڈنگ ، لو وولیٹج اور بلوں میں ہیرا پھیری کا خاتمہ ہو گا ۔سارامسئلہ “سرکاری”تحویل سے پیدا ہواہے۔میاں نواز شریف نے ڈھائی سال ضائع کر دئیے۔ اب جو ڈھائی سال رہ گئے ہیں ۔ان ڈھائی سالوں میں پی آئی اے ، پاکستان ریلوے، واپڈا اور پاکستان سٹیل جیسے 25 اداروں کی نجکاری ہونی چاہیے ۔تاکہ قومی خزانے پر بوجھ کم ہو۔ قرضوں کا بوجھ کم ہو ۔اور عوام کو سہولت ہو ۔ ٹیلیفون کے محکمے سے ہم سب تنگ تھے۔ عرب شیخ کی تحویل میں جانے کے بعدہم نے سکھ کا سانس لیا ہے ۔جنرل مشرف کو دعا دیتے ہیں ۔سرکاری تحویل سے پی آئی اے کو جس دن نکا لا گیا اُس دن پی آئی اے کی ترقی کا سفر شروع ہوگا ۔ قومی خزانے کو آمد ن آئے گی ۔عوام کو سہولت ہوگی ۔مسافروں کو سہولت ہوگی ۔پاکستانی قوم حکومت کو دعائیں دے گی ۔ملک اور قوم کے مفاد کو چند ملازمین کے ذاتی مفاد پر بہر حال ترجیح دیناہوگا۔بقول شاعر مشرق علامہ اقبال :
جس کھیت سے دہقان کو میسر نہ ہو روزی
اُس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلادو

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

اترك تعليقاً

إغلاق