تازہ ترین

سیاسی قبلہ

چترال وسائل کے اعتبار سے غریب اور رقبے کے لحاظ سے صوبے کا بڑا ضلع ہے،صوبہ وسائل اور رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا چھوٹا صوبہ ہے۔اسطرح ملکی وسائل اور وفاقی محاصل میں صوبہ خیبر پختونخواہ کا حصہ کم ہے جس کے نتیجے میں صوبائی محاصل اور وسائل میں چترال کا حصہ’’حصہ بقدرے جوسہ‘‘ اُن کو ملتا ہے۔یہی وجہ ہے صوبائی ترقیاتی بجٹ میں چترال کو تعلیم کے شعبے میں سال میں صرف دو سکول ملتے ہیں جبکہ کئی سالوں سے چترال میں ایک بھی نیا ہسپتال نہیں بن سکا۔اور نہ ہی پانج کلومیٹر کا کوئی نئی سڑک بن سکی۔80کی دہائی تک چترال کے باسیوں کے لئے ملک کے دوسرے حصوں تک رسائی کے لئے موسم سرما کے نومبر سے لیکر مئی تک زمینی راستہ کی سہولت بھی میسر نہیں تھی۔ افغانستان میں ڈاکٹر نجیب کی حکومت ختم ہونے کے بعد چترالی عوام کے لئے براستہ کنڑ یہ سہولت میسر آئی۔2008میں لواری ٹنل پر ابتدائی کام مکمل ہونے پر لوگ سردیوں کے مہینوں میں لواری ٹنل استعمال کرتے ہیں۔جب تک افغانستان میں ڈاکٹر نجیب کی حکومت قائم تھی تب تک چترال برصغیر کے اس حصے میں ایک مقتل تصور کیا جاتا تھا۔چترال قدرتی وسائل سے مالامال ہے۔یہاں پر قیمتی پتھر ہے،اعلیٰ قسم کا لوہا ہے،اٹامیک انرجی کے لئے یورنیم موجود ہے۔قدرتی گلیئشرز اور دریا ہیں۔پاکستان اسٹیل میل کے لئے اعلی قسم کا لوہا فراہم کیا جاسکتا ہے ،بجلی گھروں کے لئے پانی کا استعمال کیا جاسکتا ہے،سیاحت کی ترقی کے لئے کہو اور کالاش ثقافت موجود ہے۔جہاں چترال اورلوگ اپنے محل وقوع ، ثقافت ،امن پسندی اور سہل پسندی کے اعتبار سے دوسرے علاقوں اور لوگوں سے منفردہیں۔وہاں چترال کا سیاسی تاریخ اور شعور بھی دوسرے علاقوں سے مختلف ہے۔جہاں ایک چترالی احسان شناس اور صابر ہے وہاں وہ قانع بھی ہے اور ساتھ ہی متحرک سیاسی شعور بھی رکھتا ہے۔مگر یہ سیاسی شعور جذبات کی بنیاد پر ہے۔چترال کا گذشتہ ساٹھ سالہ سیاسی تاریخ اس بات کا گواہ ہے۔کہ چترال کی تعمیر وترقی میں مرکزی حکومت کا بڑا عمل دخل رہا ہے۔اور آئیندہ بھی مرکزی حکومت کا عمل دخل نظر آئیگا۔چترال آئیرپورٹ سے لیکر واپڈا تک مرکزی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔پشاور چترال روڈ وفاقی ادارہ نیشنل ہائی وے کا تعمیر کردہ ہے۔پاکستان ٹیلی ویژن وفاقی حکومت کا قائم کردہ ہے،لواری ٹنل پر کام مرکزی حکومت کررہی ہے۔پی آئی اے وفاقی ادارہ ہے۔گولین گول پراجیکٹ بھی وفاقی حکومت کا ہے،آغا خان ڈولپمنٹ نیٹ ورک (اے کے ڈی این )کے ادارے وفاقی حکومت کے اجازت اور سرپرستی میں چترال کی تعمیر وترقی کے لئے سرگرم عمل ہیں۔انٹرنیشنل فنڈ فار ایریاڈیولپمنٹ (ایفاد)بھی وفاقی حکومت کی طرف سے تھا۔جس کی بلڈنگ میں اس وقت چترال کی بچیوں کے لئے ڈگری کالج کا قیام ہوا ہے اور چترال بونی روڈ بھی اسی کا تعمیر کردہ ہے۔تاجکستان چترال روڈ مرکزی حکومت تعمیر کروارہی ہے۔چکدرہ چترال روڈ ،چترال شندور روڈ،چترال بمبوریت روڈبھی وفاقی حکومت تعمیر کروارہی ہیں۔پاکستان اسٹیل ملز کے لئے لوہابھی چترال سے مہیا کرنے کا پروگرام ہے۔پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے پاس بھی ایٹمی انرجی کے لئے یورنیم چترال سے مہیا کرنے کا پروگرام ہے۔چترال کے دریاؤں میں بجلی گھرواپڈا تعمیر کریگی۔بجلی رائلٹی وفاقی حکومت کی طرف سے ملیگی۔چترال کو وسطی اشیائی ممالک سے سڑک کے ذریعے لنک کیا جارہا ہے۔ڈرائی پورٹ مرکزی حکومت بنائے گی ۔ان ممالک سے تیل اور گیس پائپ لائن بچھانے کا منصوبہ زیر غور ہے یہ کام بھی مرکزی حکومت کے دائرہ کار میں آتا ہے۔نیشنل بنک اور محکمہ ڈاک بھی وفاقی ادارے ہیں۔اور تو اور چترالی مسلمان مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے اعلان پر روزہ رکھتے ہیں اور عید مناتے ہیں۔صوبائی وسائل میں چترال کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔قدرتی آفات سیلاب ،زلزلہ کے موقع پر صوبے کے پاس وسائل نہیں ہوتے۔اُس وقت بھی ہمیں مرکزی حکومت ،این ڈی ایم اے اور پاک فوج کی مدد اور تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔لیکن الیکشن کے وقت چترالی ووٹرز ان سب زمینی حقائق کو بھول جاتے ہیں جذبات یا مذہب کی بنیاد پر اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہیں۔اس کا لا محالہ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مرکزی حکومت کسی دوسری پارٹی کی ہوتی ہے چترال کا ممبر قومی اسمبلی حزب اختلاف میں بیٹھا ہوتا ہے۔صوبے میں حکومت کسی تیسری پارٹی کی ہوتی ہے چترال کا ممبر صوبائی اسمبلی حزب اختلاف میں بیٹھا ہوا ہوتا ہے۔2005میں مرکز میں مشرف کی حکومت تھی ہمارا ممبر قومی اسمبلی حزب اختلاف میں تھا۔2008میں مرکز میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی اور ہمارا ممبر قومی اسمبلی حزب اختلاف میں تھا۔2013میں مرکزی حکومت پاکستان مسلم لیگ (ن) کی بنی ۔چترال کا ممبر قومی اسمبلی حزب اختلا ف کا بنا۔یہی حال صوبائی اسمبلی کا ہے۔2005،2008اور2013کے الیکشن کے وقت چترالی ووٹر کو بخوبی علم تھا کہ مرکز اور صوبے میں کس پارٹی کی حکومت آنی تھی باوجود چترالی ووٹر جذبات کی بنیاد پر ایسی پارٹیوں کے افراد کو ممبران اسمبلی چُن کر اسمبلیوں میں بھیجے جنہیں حزب اختلاف ہی میں بیٹھنا تھا۔آئندہ سال 2018میں عام انتخابات ہونے والے ہے۔اب بھی چترالی عوام اور جدید دور کے جدید ووٹر کو بخوبی علم ہے اُس الیکشن میں مرکزاور صوبے میں کس کی حکومت بنے گی اور کے پی کے میں بھی کس پارٹی کی حکومت آئیگی۔تعمیر وترقی کے لئے چترال اور وفاق کا تعلق چولی دامن کے ساتھ ہے۔چترالی ووٹر اور سیاسی کارکن یہ بھی جانتا ہے کہ روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ صرف ایک نعرہ ہے، خوشحال پاکستان اور اسلامی پاکستان کا نعرہ صر ف ایک خواہش ہے ،نیا پاکستان کا نعرہ بھی ایک نعرہ ہی ہے۔ان نعروں اور خواہشوں کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہ ہے اور نہ ہی ان خواہشوں کو ترقی کا ویژن یا تصور کہا جاسکتا ہے۔اس کے مقابلے میں مسلم لیگ (ن) کا اقتصادی ویژن ترقی کا ویژن ہے ،خوشحالی کا ویژن ہے،اسلام کا ویژن ہے، تبدیلی کا ویژن ہے اورجب چترال کے قدرتی وسائل کو استعمال میں لایا جائیگا، جب تاجکستان روڈ تعمیر ہوگا،جب لواری ٹنل مکمل ہوگا،جب چترال چکدرہ روڈ چار رویا بنے گا،جب پاک چائنہ اقتصادی کوری ڈورکے فوائد چترال تک پہنچے گے،جب قوم کے بچے اور بچیوں کو اعلیٰ تعلیم مفت ملے گی،جب اُن کو لیپ ٹاپ ملے گا، جب نوجوانوں کو روزگار ملے گا،جب نوجوان انجینئر اور ڈاکٹروں کو روزگار ملے گا،جب مفت صحت پروگرام چالو ہوگا،جب ضرورت اور تکلیف کے موقع پر گھر گھر لاکھ روپے ملے گا،جب بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام بیس آرب سے بڑھاکر 120ارب کردیا جائیگا،جب شاہرات کا نیٹ ورک پھیلایا جائیگا۔تب ہی روٹی کپڑا اور مکان کی خواہش ایک حقیقی ویژن بن کر زمین پر موجود لوگوں کو اُن کی زندگی میں میسر آئیگی اس لئے چترال کا سیاسی کارکن اسی ویژن اور ڈیلورینس کی بنیاد پر اپنا ووٹ کاسٹ کریگا اور چترالی ووٹرز جذباتیات اور مذہب کی بنیاد پرنہیں بلکہ عقل اور دلیل کی بنیاد پر ووٹ دیگا یہی چترالی ووٹر کا سیاسی قبلہ ہوگا۔



اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

اترك تعليقاً

إغلاق