تازہ ترین

سی ڈی ایل ڈی پالیسی کے حوالے سے آگاہی ورکشاپ/ضلع نائب ناظم نے شرکت کی

دروش(نمائندہ چترال ایکسپریس)گذشتہ روز دروش میں سر حد رورل سپورٹ پروگرام نے خیبرپختونخوا صوبائی حکومت کی طرف سے جاری کردہ CDLD پالیسی میں عوامی شمولیت کے حوالے سے آگاہی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا جس میں ضلع نائب ناظم مولانا عبدالشکور مہمان خصوصی تھے جبکہ اس ورکشاپ ممبران ضلع و تحصیل کونسل، ویلج کونسل ناظمین و نائب ناظمین اور کونسلرز کی بڑی تعداد کے علاوہ ٹی ایچ کیو ہسپتال دروش کے سربراہ، ہائی سیکنڈری سکول اور ہائی سکول کے پرنسپلز سمیت سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کیں۔ Groupسی ڈی ایل ڈی پالیسی کے حوالے سے شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈسٹرکٹ پروگرام منیجر منیر احمد سید اور منیجر ہیومن ریسورس کمال عبدالجمیل نے کہا کہ صوبائی حکومت کی طرف سے یورپی یونین کے مالی معاونت سے جاری کردہ اس پالیسی کے دور رس نتائج آئینگے اور اسکی کامیابی کا دارومدار اسمیں عوام کی بھرپور شمولیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ SRSPکا اس تمام عمل میں محدود کردار متعین ہے جس کے تحت ہم گاؤں کی سطح پر لوگوں کے تنظیمات بناکر یا پہلے سے موجود تنظیمات کو لیکر انمیں عوام کی کم از کم 70فیصد شمولیت کو یقینی بناتے ہیں، ان تنظیمات کو مختلف تربیت فراہم کرکے انکی استعداد کار بڑھا کر انہیں دیہی ترقی کے منصوبوں کو چلانے کے قابل بناتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس پالیسی کے تحت ترقیاتی اسکیمیں لینے کے لئے باقاعدہ طریقہ کار وضع ہے اور اسکے مطابق ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں قائم کمیٹی اسکیموں کے حتمی منظوری کا مجاز ہے۔ انہوں نے شرکاء کے مختلف سوالات کے جوابات دئیے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ضلع نائب ناظم مولانا عبدالشکور نے کہا کہ موجودہ ضلعی حکومت چترال کی ترقی کے لئے جامع پروگرام ترتیب دے رہی ہے اور مختلف شعبوں کے لئے منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی ڈی ایل ڈی ایک اہم پروگرام ہے مگر اس سے صرف اسوقت کماحقہ استفادہ کیا جا سکتا ہے جب اس کے طریقہ کار کی بابت صحیح معلومات دستیاب ہوں۔ انہوں نے SRSPکی طرف سے اس پروگرام کے انعقاد کو عوامی مفاد میں قرار دیتے دیگر علاقوں میں بھی ایسے آگاہی پروگراما ت کے انعقاد کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہاکہ سی ڈی ایل ڈی کے فنڈ سے چترال میں سیلاب زدہ انفراسٹرکچر کی بحالی کے لئے خاطرخواہ اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ا نہوں نے ضلعی حکومت کی طرف سے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى