ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

صدا بصحرا……ڈاکخانہ الوداع !

………ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ؔ ……



حکمران طبقہ، سرمایہ دار، جاگیردار، وزیر، ایم این اے، سینیٹر کبھی ڈاکخانے سے کام نہیں لیتا۔ اس لئے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں ڈاک خانے پر کوئی بات نہیں ہوتی۔ بڑوں کی کسی میٹنگ میں ڈاکخانے کا ذکر نہیں ہوتا بلکہ کوریئر سروس کا ذکر ہوتا ہے۔ ہماری حکومت، ہماری عدلیہ، ہمارے اخبارات اورہمارے احتساب والوں نے ڈاکخانے کو بھلا دیا ہے۔ مگر غریب لوگ اب بھی ڈاکخانے کے محتاج ہیں۔ ایک بیوہ خاتون کے بیٹے نے اپنی ماں کو سردیوں کے لئے کوئٹہ سے کمبل خرید کر چترال بھیجا۔ 14اکتوبر کو پارسل کیا۔ 18تاریخ کو پارسل پشاور پہنچا۔ 24اکتوبر کو پارسل بٹ خیلہ پہنچا۔ 28اکتوبر کو بٹ خیلہ سے روانہ ہوا۔ اس کے بعد پارسل کا پتہ نہیں لگا۔ 4فروری کو ڈاکخانہ والوں نے بتایا کہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی کتابوں کے 4000پارسل اور دیگر لوگوں کے 2500پارسل بٹ خیلہ میں پڑے ہیں ۔ ٹھیکہ دار کی تحویل میں ہیں۔ محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔ سردیوں کا کمبل جون کے مہینے میں مل جائے گا۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے خزاں سمسٹر کی کتابیں امتحانات ختم ہوکر بہار سمسٹر شروع ہونے کے بعد ملیں گی۔ وجہ یہ ہے کہ ڈاکخانہ لاوارث ہے۔ ڈاک کا ٹھیکہ فلائنگ کوچ، مزدا، لینڈ کروزر یا ڈاٹسن پِک اَپ کی جگہ موٹر کار والی پارٹی کو اوپر کے تعلقات کی وجہ سے ملا ہوا ہے۔ موٹر کار میں 6سواریوں اور ان کے سامان کے ساتھ ایک تھیلہ آ سکتا ہے۔ اس ایک تھیلے میں خطوط ہوتے ہیں۔ ٹھیکہ دار نے بٹ خیلہ میں گودام لیا ہوا ہے۔ چترال کے پارسل گودام میں رکھے ہوئے ہیں۔ 14اکتوبر کا پارسل 4فروری تک کیوں ڈیلیور نہیں ہوا؟ اس کا حساب کتاب کوئی نہیں رکھتا۔ اچھی حکومتوں میں پوسٹل سروس کا آفیسر سپرنٹنڈنٹ ہواکر تا تھا۔ ان کے اوورسیئر ہوتے تھے۔ پوسٹ آفس کا عملہ ہوتا تھا۔ بٹ خیلہ، چترال، مردان اور پشاور کے درمیان ڈاک کی ترسیل ایک قاعدہ قانون کے تحت ہوتی تھی۔ ٹھیکہ دار اگر ڈاک پہنچانے میں غفلت کرتا تو اس کا بِل روک لیا جاتا تھا۔ کیونکہ ڈاک ملنے یا نہ ملنے کا پتہ لگتا تھا۔ 1916ء میں انگریز کی حکومت تھی۔ یہ 100سال پہلے کا واقعہ ہے۔درگئی سے پارسل مرزا خانمان کے نام مستوج کے پوسٹ آفس بھیجا گیا۔ پارسل 12فروری کو درگئی سے نکلا۔ 22فروری کو مرزا خانمان نے رپورٹ دی کہ پارسل نہیں ملا۔ انکوائری ہوئی تو پتہ لگا کہ لواری ٹاپ پر برف کی وجہ سے 3دن ٹاپ پیدل کے لئے بند ہوا تھا۔ اس وجہ سے ایک دن کی تاخیر ہوئی۔ اس تاخیر پر مردان پوسٹ آفس کے سپرنٹنڈنٹ کی طرف سے مرزا خانمان کے نام معذرت کا خط آیا۔ 100سال پہلے ڈاک ملنے یا نہ ملنے کا حساب رکھا جاتا تھا۔ رپورٹ پر انکوائری ہوتی تھی۔ ایک دن کی تاخیر پر معذرت کا خط لکھا جاتا تھا۔ پیدل ہرکارے ڈاک لے کر آتے جاتے تھے۔ درگئی سے مستوج تک ڈاک پہنچنے کے لئے 10دن مقرر تھے۔ مستوج کے پوسٹ آفس میں تار گھر تھا۔ ایک دن لیٹ ہونے پر بذریعہ تار اطلاع بھیجی جاتی تھی۔ آج 2016ء ہے۔ بنکاک، ہانک کانگ، نیو یارک ، لندن، پیرس اور ٹوکیو سے ڈاک یا پارسل 7دنوں میں پشاور پہنچ جاتا ہے۔ بٹ خیلہ سے ایک پارسل کو چترال پہنچنے میں 7مہینے یا 8مہینے لگتے ہیں۔ رپورٹ کا کوئی سسٹم نہیں ہے۔ شکایت کا کوئی طریقہ کار نہیں ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ وجہ وہی ہے جو تمہید میں بیان کی گئی ۔ ملک پر حکمرانی کرنے والے لوگ ڈاک خانہ سے کوئی کام نہیں لیتے۔ ان کی ساری ڈاک کوریئر سروس کے پرائیویٹ سسٹم سے آتی ہے۔ بینکوں نے اپنا بزنس ڈاک خانوں سے لے کر پرائیویٹ کوریئر سروس والوں کو دے دیا ہے۔ سرکاری ڈاک بھی پرائیویٹ کورئیر کے ذریعے تقسیم ہوتی ہے۔ کسی ایم این اے، ایم پی اے، سینیٹر، وزیر یا کسی بڑے آفیسر کا ڈاک خانے سے کبھی پالا نہیں پڑتا۔ سچی بات یہ ہے کہ ڈاکخانے کے بڑے آفیسر بھی اپنی ڈاک پرائیویٹ کوریئر سروس کے ذریعے منگواتے ہیں۔ اس وجہ سے ڈاک خانہ کے ساتھ صرف غریب، کسان، مزدور یا مجبور لوگوں کا تعلق رہ گیا ہے یہ غریب غرباء شہر کی کچی بستیوں میں رہتے ہیں۔ یا دیر، شانگلہ، کوہستان اور چترال جیسے پہاڑی علاقوں میں رہتے ہیں۔ دیر کے منتخب ایم این اے صاحبزادہ طارق اللہ عوام میں سے ہیں۔ ان کو دیر اور چترال کے عوام کی تکالیف کا احساس ہے۔ یہ بات نشان دار سوال کی صورت میں قومی اسمبلی سیکریٹریٹ سے محکمہ ڈاک خانہ کے بڑے آفیسروں کے پاس جانی چاہیئے۔ سوال یہ ہے کہ محکمہ ڈاک خانہ کے حکام وضاحت کریں کہ ڈاک کی ترسیل کا ٹھیکہ کس بنیاد پر دیا جاتا ہے؟ ٹھیکہ دار کو بل کی ادائیگی کس بنیاد پر ہوتی ہے؟ بٹ خیلہ سے چترال تک ڈاک پہنچانے کے لئے کتنے دن مقرر ہیں؟ اسکی نگرانی کون کرتا ہے؟ بلوں کی ادائیگی کا ذمہ دار کون ہے؟ اہم پارسل 7مہینے تک ٹھیکہ دار کے گودام میں پڑا رہے تو نقصان کی تلافی کون کرے گا؟ اگر سینیٹ میں عوام کا کوئی نمائندہ ہو تو یہ سوال سینیٹ میں بھی اٹھایا جا سکتا ہے۔ عوام اس مسئلے پر وفاقی محتسب سے بھی رجوع کر سکتے ہیں۔ مگر وفاقی سطح پر محتسب کا دفتر عوام کے لئے بالکل اجنبی اور ڈاک خانے سے بھی زیادہ سرد مہری دکھانے والا دفتر ہے۔ غریبوں کے علاوہ ڈاک خانے سے استفادہ کرنے والا واحد پاکستانی ادارہ پاک فوج ہے۔ فوجی چھاونیوں میں تمام ڈاک پاکستان پوسٹ کے ذریعے ہوتی ہے۔ اے جی برانچ پرائیویٹ کورئیر کمپنیوں کو ڈاک تقسیم کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ اس حوالے سے جی او سی ملاکنڈ بٹ خیلہ چترال سیکشن پر ڈاک کی ترسیل کو مربوط اور منظم کروانے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ چترال سکاؤٹس کے کمانڈنٹ بھی اس سلسلے میں عوام کی مدد کر سکتے ہیں۔ پوسٹ ماسٹر جنرل پشاور کا بھی فرض بنتا ہے کہ ساڑھے چھ ہزار پارسلوں کے گم ہونے کا نوٹس لے لیں۔ اور اس بات کی انکوائری کرائیں کہ ڈاک کا ٹھیکہ موٹر کار والی پارٹی کو کس وجہ سے دی گئی؟ پارسلوں کے گم ہونے کی رپورٹ کیوں نہیں بھیجی گئی؟حکمرانوں نے ڈاک خانے کو الوادع کہا ہے۔ مگر غریب عوام کا اب بھی ڈاک خانے پر انحصار ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

اترك تعليقاً

إغلاق