
داد بیداد…..ہسپتالوں پر نظر
…..ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ …..
خیبر پختونخوا میں حکومت کی نظر ہسپتالوں پر ہے۔ ڈاکٹروں کوحقوق مانگنے سے روکنے کے لئے لازمی سروس ایکٹ نافذ کر دیا گیا ہے۔ ہسپتال چلانے کا کام حکومت سے واپس لے کر گورننگ باڈی کے ذریعے بیرونی لوگوں کے ہاتھوں میں دینے کا حکم نافذ ہوا ہے۔ ان مسائل پر الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں بحث جاری ہے۔ اس بحث کا نمایاں پہلو یہ ہے کہ صوبے کی حکمران جماعت پی آئی اے کے لئے گورننگ باڈی اور لازمی سروس ایکٹ کی مخالفت کر رہی ہے۔ ہسپتالوں کے لئے اس کو تریاق کا درجہ دیتی ہے لیکن آج کا موضوع یہ پہلو نہیں۔ ہسپتا ل چاہے حیات آباد میڈیکل کمپلکس ہو یا ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال، بات ٹرشری کیئر کی ہو یا بیسک ہیلتھ یونٹ کی۔ بنیادی مسائل چار ہیں۔ پہلا مسئلہ بنیادی ڈھانچہ انفراسٹرکچر کا ہے۔ دوسرا مسئلہ ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف کا ہے۔ تیسرا مسئلہ گورننس، مینجمنٹ اور نظم و نسق کا ہے۔ چوتھا مسئلہ دیہی علاقوں سے علاج معالجے کے لئے شہروں کی طرف منتقلی کے رجحان اور اسکی ضرورت پر قابو پانے کا ہے۔ تاکہ ریفرل کم سے کم ہو۔ ٹرشری کیئر سنٹرز پر آبادی کے دباؤ میں کمی آئے اور علاج معالجہ کا سسٹم بہتر ہو۔ پنجاب حکومت نے یہ کام کیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے منشور میں صحت، انصاف، تعلیم اور دیہی ترقی کو اولین ترجیحات کا درجہ دیا گیا تھا ۔صحت کے بارے میں عمران خان نے ٹاسک فورس بھی قائم کیا تھا۔ جون 2013ء میں محکمہ صحت کو دو طرح کے مسائل کا سامنا تھا۔ دونوں مسائل جوں کے توں ہیں۔ پہلا مسئلہ یہ تھا کہ محکمہ کے اندر ڈائیریکٹرجنرل کی سطح پر کام کو چار حصوں میں تقسیم کرنا تھا۔ چار ڈی جی مقرر کرنے تھے۔ تدریسی ہسپتالوں کا شعبہ الگ ہوناتھا۔ غیر تدریسی ہسپتالوں میں بڑے ہسپتالوں کا شعبہ الگ ہونا تھا۔ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر سے نیچے صحت کے مراکز کا ایک شعبہ ہونا تھا۔ ڈونر کی مدد سے چلنے والے پراجیکٹس کا شعبہ الگ ہونا تھا۔ تمام شعبے چار ایڈیشنل سیکریٹریوں کے ساتھ سپیشل سیکریٹری اور سیکریٹری کی ماتحتی میں کام کرنے تھے۔ یہ اب تک حل طلب ہے۔ دوسرا بڑا کام یہ تھا کہ بڑے ہسپتالوں میں پیتھالوجی اور سرجری کے لئے ضروری سہولیات کو دوگنا اور چوگنا کرنا چاہیئے تھا۔ 8آپریشن تھیٹروں کی جگہ 16اور دو سی ٹی سکین یا ایم آر آئی مشینوں کی جگہ چار مشینیں فراہم کرنے تھے۔ ڈویژنل اور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتالوں میں نفرالوجی، کارڈیالوجی اور پیتھالوجی یونٹ قائم کرنے تھے۔ ہر کیٹگری ہسپتال کو ڈائیلاسس، انجیوگرافی، ایم آر آئی، سی ٹی سکین وغیرہ کی بنیادی ضروریات اور سہولیات فراہم کرنے تھے۔ اس پر ایک فیصد بھی کام نہیں ہوا۔ دیہی مراکز صحت اور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتالوں میں ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرا میڈیکس کو بہتر مراعات، ترغیبات دے کر صوبے کے دور دراز علاقوں میں عوام کو ان کی دہلیز پر علاج معالجہ کی سہولت دینی تھی۔ اس پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ دور دراز دیہات میں قائم آر ایچ سی، بی ایچ یو اور تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتالوں میں علاج معالجہ کی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا تھا۔ اس بات کو بالکل اہمیت نہیں ملی۔ حکومت نے بنیادی مسائل کو چھوڑ کر یہ فرض کر لیا کہ تمام برائیوں کی جڑ ڈاکٹر ہے اور ڈاکٹروں میں سپیشلسٹ ڈاکٹر سب سے زیادہ برائیوں میں مبتلا ہیں۔ جنرل کیڈر کے ڈاکٹروں کو سبق سکھا کر نمونہ عبرت بنانا چاہیئے۔ یہ دو غلط مفروضے تھے۔ جن پر حکومت نے زور دیا اور ڈاکٹروں کے ساتھ پنگا لے لیا۔ حکومت کے اس رویے کی وجہ سے خیبرپختونخوا سے بڑی تعداد میں ڈاکٹروں نے نقل مکانی کی۔ کچھ پنجاب اور سندھ چلے گئے۔ کچھ مڈل ایسٹ اور دیگر ملکوں کو چلے گئے۔ خیبر پختونخوا کی افرادی قوت ہاتھ سے نکل گئی۔ اگلے دو سالوں میں مزید ڈاکٹر صوبہ چھوڑ کر چلے جائیں گے۔ گورننگ باڈی کسی ایم پی اے یا سیاسی کارکن کی سربراہی میں کسی بھی ہسپتال کو ڈائیلاسس، انجیو گرافی، ایم آر آئی اور سی ٹی سکین کی مشین فراہم نہیں کر سکے گی۔ پرائیویٹ پریکٹس کے لئے انفرا سٹرکچر میں اضافہ نہیں کر سکے گی۔ آپریشن تھیٹرو ں میں اضافہ نہیں ہو گا۔ پیتھالوجی کے شعبے کی مشینوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔ کیٹگری بی ہسپتالوں میں نئے یونٹ قائم نہیں ہونگے۔ تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتالوں کی حالت بہتر نہیں ہوگی۔ بی ایچ یو ہسپتالوں میں نئی سہولتیں نہیں ہونگی۔ پرنالہ وہیں رہے گا۔ اوپر سے سیکریٹریٹ اور ڈائیریکٹریٹ کی سطح پر وہی مچھلی منڈی والا سلسلہ جاری رہے گا۔ 2سال بعد نئی حکومت کو صوبے میں صحت کا تباہ شدہ شعبہ ملے گا۔ اس پر کسی نے غور نہیں کیا۔ ڈاکٹر کے ساتھ دشمنی میں سب کچھ برباد ہوکیا جا رہا ہے۔
