ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

داد بیداد…..ویلج کونسل اور گائیڈ لائین

……..ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ


لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013کو پاکستان تحریک انصاف کا بڑا کارنامہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اور اس ایکٹ میں ویلج کونسل کی بنیادی اکائی کو سب سے زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔ ایک ہفتہ پشاور، نوشہرہ، مردان اور چارسدہ کے ویلج کونسلوں میں گزارنے کے بعد ایک نارمل اور ٹھیک ٹھاک بندہ پاگل ہو جاتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ اس مثالی نظام کے مثالی کونسل کا مستقبل کیوں نہیں ہے؟ سوالیہ نشان کیوں ہے ؟مئی 2015ء میں کہا گیا تھا کہ ویلج کونسل اور نیبر ہوڈ کونسل کو سال بھر کے لئے 33لاکھ روپے کا فنڈ دیا جائے گا۔ انتخابات کے 8مہینے بعد اس میں کٹوتی کر کے 25لاکھ روپے تک نیچے لایا گیا ہے۔ 25لاکھ روپے کے خرچ کے لئے جو گائیڈ لائین دئے گئے ہیں ان گائیڈ لائین کے مطابق 30جون 2016ء تک اس فنڈ کی ایک پائی خرچ نہیں ہوگی۔ ووٹروں کے ساتھ کونسلروں کی بحث و تکرار اب شروع ہو گئی ہے۔ یہ بحث و تکرار 30جون تک لڑائی مارکٹائی میں بدل جائیگی اور منتخب نمائندوں کا جینا دوبھر ہو جائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صوبائی قیادت نے فنڈ کو خرچ کرنے پر ناجائز، ناروا اور ناقابل عمل پابندیاں لگائی ہوئی ہیں۔ مثلاً ویلج کونسل کی سکیم ایک لاکھ روپے سے لے کر 3لاکھ روپے تک ہوگی۔ بڑا پراجیکٹ نہیں دیا جائے گا۔ ایک شعبے کا پیسہ دوسرے شعبے پر خرچ نہیں ہوگا۔ ہر سکیم کا پی سی ون ہوگا۔ تحصیل کونسل کی سکروٹنی کمیٹی اسکا جائزہ لے کر منظوری دے گی۔ اس کے بعد ٹینڈر ہوگا۔ ٹینڈر کے بعد ورک آرڈر دیا جائے گا۔ چارسدہ، نوشہرہ اور مردان کی ایک تحصیل یا ٹاؤن کونسل میں کم از کم 100ویلج اور نیبر ہوڈ کونسل ہیں۔ کوہستان، چترال اور دیر کی تحصیل کونسل میں کم از کم 50ویلج اور نیبر ہوڈ کونسل ہیں۔ ہر کونسل کے اندر سات یا 8 چھوٹی سکیموں کا پی سی ون تیار کرنا کم از کم دو مہینے کا کام ہے۔ اس کے لئے مطلوبہ سٹاف اور سہولیات موجود نہیں ہیں۔ نہ انجینئر ہے، نہ گاڑی ہے، نہ ڈرائینگ روم ہے، نہ ڈرافٹس مین ہے۔ شہری کونسلوں میں منظوری اور سکروٹنی کے لئے کم از کم ایک ہزار سکیمیں آئیں گی۔ دیہی اور پہاڑی علاقوں میں کم از کم 500سکیمیں آئیں گی۔ ان کی سکروٹنی اور منظوری میں دو مہینے سے زیادہ لگیں گے۔ مالی سال گزر جائے گا۔ بلکہ اگلا مالی سال بھی اس مشق کی نذر ہو جائے گا۔ کاغذوں کے گھوڑے دوڑائے جائیں گے۔ زمین پر کوئی کام نہیں ہوگا۔ سابق بیوروکریٹ عکسی مفتی کی کتاب “کاغذ کا گھوڑا”اس سلسلے میں قابل ذکر ہے۔ کتاب کے صفحہ 125پر بڑے صاحب کی میٹنگ کے زیر عنوان دلچسپ واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ مصنف لکھتا ہے کہ نائن الیون کے بعد ایک سہانی صبح کو صدر مشرف نے آفیسروں کی میٹنگ بلائی۔ میٹنگ میں جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ غیر ملکی مہمانوں کی بڑی تعداد ہر مہینے آتی ہے۔ اسلام آباد سے باہر ان کو لے جانے کا موقع نہیں ملتا۔ اسلام آباد کے اندر ایک آدھ جگہ کے سوا دکھانے کے لئے کچھ نہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ سال، ڈیڑھ سال کے اندر ایک نیا ثقافتی عجائب گھر بنایا جائے۔ تاکہ غیر ملکی مہمانوں کی ضیافت کے ساتھ ساتھ ان کو پاکستان کی تاریخ اور ثقافت سے بھی آگاہ کیا جائے۔ آفیسروں نے جو آرا پیش کیں۔ ان میں 10سال سے کم کا کوئی منصوبہ نہیں تھا۔ اور 2ارب روپے سے کم کی کوئی بات نہیں تھی۔ پہلے پلاٹ کا مسئلہ، پھر نقشہ، ڈیزائن، پی سی ون، منظوری، ٹینڈر وغیرہ کے جان گسل مراحل تھے۔ جنرل صاحب پہلو بدل رہے تھے اور ناپسندیدگی کا اظہار کر رہے تھے۔ لیکن کوئی آفیسر اس گورکھ دھندے سے باہر آنے کو تیار نہیں تھا۔ میں نے ہمت کی اور کہا کہ آپ جو منصوبہ کم سے کم مدت میں کم سے کم خرچ پر چاہتے ہیں۔ اسکا بلیو پرنٹ میرے پاس ہے۔ جنرل صاحب نے اجازت دی تو میں نے شکر پڑیاں کے پاکستان مانومنٹ کا نقشہ پیش کیا۔ جنرل صاحب نے کہا کتنی لاگت آئیگی۔ میں نے کہا 5کروڑ روپے۔ جنرل صاحب نے 5کروڑ روپے دے دئے۔ اور میں نے پاکستان مانومنٹ تعمیر کر کے اسکا افتتاح کروایا۔ سرکاری چکر میں یہ منصوبہ 2ارب روپے کی لاگت سے 10سالوں میں بھی نہ بنتا۔ کاغذ کے گھوڑے دوڑانے والے کام نہیں کر سکتے۔ 5کروڑ روپے کا باقاعدہ آڈٹ ہوا۔ کوڈل فارمیلٹیز پوری ہو گئیں۔ خیبر پختونخوا کی ویلج کونسلوں کے ہاتھ پاؤں گائیڈ لائین کی زنجیروں میں باندھ دئے گئے ہیں۔ ان کے سروں پر ڈیماکل کی تلوار لٹک رہے ہے۔ چوری، غبن، کرپشن اور بے ایمانی کے طعنے دئے جا رہے ہیں۔ اس ماحول میں کس طرح کام ہوگا؟ اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے سیاست میں کرکٹ کی بے شمار اصطلاحات کو متعارف کرا یا ہے۔ ان اصطلاحات میں سے ایک اصطلاح”اوپنر” کی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ صوبائی حکومت میں عمران خان ٹیم کی اوپننگ پارٹنر شپ اچھی نہیں رہی۔ اب مڈل آرڈر پر زیادہ توجہ کی ضرورت پڑے گی۔ ایک تجویز یہ بھی ہے کہ کپتان صاحب پشاور میں قیام کا فیصلہ کریں۔ بنی گالہ سے پشاور منتقلی کے بعد اپنا شیڈول ایسا بنائیں کہ ہر ہفتے کم از کم 2ویلج کونسلوں کے ساتھ ایک تحصیل یا ٹاؤن کونسل کا دورہ کر سکیں۔ ناظمین اور کونسلروں سے ملاقات کریں۔ ترقیاتی سکیموں کا دورہ کریں۔ کام کا معائنہ کریں۔ عوام کے تاثرات معلوم کریں۔ آفیسروں سے ملاقات کریں اور زمینی حقائق کا جائزہ لیں۔ اس طرح بیورو کریسی بھی حرکت میں آئے گی۔ قوانین کی کمزوریوں کا بھی پتہ لگ جائے گا۔ عوامی مشکلات کا بھی اندازہ ہو جائے گا اور پشتو محاورے کی رو سے یہ بھی پتہ لگے گا کہ ایک سیر سے کتنا پکتا ہے۔ موجودہ گائیڈ لائین کو لے کر موجودہ اوپنرزپر انحصار کیا گیا تو خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نظام ناکامی سے دوچار ہو گا۔ ویلج کونسل کا نیا تصور پی ٹی آئی کے لئے موجب ثواب اور باعث رحمت بننے کی جگہ الٹا عذاب اور بدنامی کا باعث بنے گا۔ اس پر جتنی جلدی توجہ دی جائے پی ٹی آئی کے لئے اور صوبائی حکومت کے لئے اتنا ہی بہتر ہو گا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق