ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

صدا بصحرا…..گلگت بلتستان کی نئی بحث

……ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ ….



گلگت بلتستان کے بزرگوں نے پاکستان کے لئے لازوال قربانیاں دی ہیں۔ ان قربانیوں کے صلے میں 1949ء اور 1950ء کے دوران اس علاقے کو وطن عزیز پاکستان کا الگ صوبہ بنا کر قومی دھارے میں شامل کرنا چاہیئے تھا۔ بہت سی دیگر کوتاہیوں کے ساتھ گلگت بلتستان کے حوالے سے بھی اس وقت کی حکومتوں سے کوتاہیاں سرزد ہوئیں۔ دشمن ملک کو مختلف حیلوں، بہانوں سے گلگت بلتستان کو کشمیر کے مسئلے کے ساتھ نتھی کرنے کا بہانہ مل گیا اور مسئلہ طول پکڑنے لگا۔ 1949ء سے اب تک گلگت بلتستان کے حوالے سے مختلف قوانین، مختلف پیکج اور مختلف نظام ہائے حکومت سامنے آئے۔ موجودہ حالات میں گلگت بلتستان کو خود مختار اسمبلی اور خود مختا ر حکومت دے دی گئی ہے۔ تاہم صوبے کا درجہ دیا جانا ابھی باقی ہے۔ عوام کا مطالبہ یہ ہے کہ خطے کو باقاعدہ صوبے کا درجہ دے کر قومی دھارے میں شامل کیا جائے۔ سپریم کورٹ کا دائرہ کار گلگت بلتستان تک بڑھا یا جائے، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں گلگت بلتستان کو نمائندگی دی جائے۔ وفاقی کابینہ میں گلگت بلتستان کے نمائندے کو لیا جائے اور اس علاقے کو وہی حقوق اور مراعات دئے جائیں۔ جو حقو ق و مراعات پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کو دئے گئے ہیں۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ماضی میں بھی گلگت بلتستان کو حقوق دینے میں سب پر سبقت لی تھی۔اب بھی وفاقی حکومت نے مشیر خارجہ سرتاج عزیز کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی ہے ۔کمیٹی اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ گلگت بلتستان کو عبوری صوبے کا درجہ دیا جائے ۔عبوری صوبہ بننے کے بعد اس کے باقاعدہ صوبہ بننے کی راہ بھی ہموار ہو جائیگی اور وطن عزیز پاکستان کے لئے جو قربانیاں دی گئی ہیں وہ قربانیا ں رنگ لا ئینگی ۔تاریخی تناظر میں اگر دیکھا جائے تو گلگت بلتستان کو معاہدہ امر تسر کے ساتھ جوڑ کر گھمبیر مسئلہ بنایا گیا ہے۔ یہ 1843ء کا واقعہ ہے۔برطانوی حکومت نے کشمیر کی ریاست 75 لاکھ نانک شاہی سکّوں کے عوض مہاراجہ گلاب سنگھ کے ہاتھ فروخت کیا ۔اس بیع نامے کو معاہدہ امر تسر کیا جاتا ہے ۔وجہ یہ ہے کہ مشرقی پنجاب کے شہر امر تسر میں اس معاہدے پر دستخط ہوئے ۔اُس وقت کشمیر بر طانوی عمل داری میں شامل تھا ۔ بلتستان اور گلگت انگریزوں کی عملداری میں نہیں تھے ۔مہاراجہ نے اپنی سرحد یں بلتستان ،کر گل ،استور ،چلاس ،گلگت ،ہنزہ ، گوپس تک بڑھانے کے لئے فوج کشی کی۔ طویل جنگوں کے دوران ڈوگر ہ فوج کو برطانوی سرکار کی کمک بھی ملتی رہی ۔1862ء تک گوپس یاسین کے راجہ گوہرامان خوش وقتیہ نے ڈوگر ہ فوج کی مزاحمت کی ۔اور ڈوگرہ کو آگے بڑھنے نہیں دیا۔ 1862ء میں گوہر امان کی وفات کے بعد ملک امان اور میر ولی نے مزاحمت جاری رکھی ۔1869ء میں ایک جاسوس ہیوارڈ کو گلگت سے واخان کے راستے افعانستان جاتے ہوئے درکھوت کے درے پر قتل کیاگیا۔ اس واقعے پر نیو بولٹ کی نظم بہت مشہور ہوئی۔ رائل ایشیا ٹک جرنل میں اس پر مضامین شائع ہوئے ۔برطانوی پارلیمنٹ نے اس کا نوٹس لیا ۔وائسرائے ہند کے حکم سے یاسین ، گوپس کوبھی ڈوگرہ عملداری میں شامل کرنے پر غور ہو۔ تاہم 1895 ء میں چترال پر برٹش عملداری قائم ہونے تک یہ منصوبہ ادھورا رہا ۔1895 ء میں بارسد سے نیچے کا علاقہ ڈوگر ہ عملداری میں دیدیا گیا ۔چترال کی ریاست اور گوپس کے درمیان بارسد کے مقام پر چمرکھن نالہ کو حد بندی قرار دیاگیا۔ مہتر چترال کے جو بیٹے گوپس ، یاسین اور اشکومن کی حدود میں والی مقرر تھے ۔ان کی جگہ انگریزوں نے اپنے نمائندے مقرر کئے ۔اشکومن کا علاقہ واخان کے علی مردان خان کو ملا۔ گوپس میں سکردو کے مراد خان کی حکومت قائم ہوئی اور یاسین کا علاقہ نگر کے محبوب علی خان کو دیا گیا۔ اس کے بعد شاملات کو” خالصہ “قراردیا گیا ۔علاقے میں ڈوگر ہ اور انگریز وں کے خلاف نفرت برقرار رہی۔ 1946ء میں اس نفرت نے شعلے کی صورت اختیار کرلی ۔آزادی کے پروانوں نے گلگت پر دھاوا بول کر ڈوگرہ گورنر گھنساراسنگھ کا محاصرہ کیا ۔گلگت آزاد ہوا ۔چترال کے مجاہدین نے سکردو میں قلعہ کھر یچوکا محاصرہ کرکے کرنل تھا پا اور کیپٹن گنگا سنگھ کی زیر کمان ڈوگر ہ فوج کو شکست دی۔ سکردو کے سب سے بڑے قلعے پر پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہرایا۔ اور معاہدہ امر تسر کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے ۔ان قربانیوں کے نتیجے میں گلگت بلتستان کو 1949ء میں صوبہ بننا چاہئیے تھا۔اب بھی وقت ہے ۔وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے بروقت قدم اُٹھایا ہے۔گلگت بلتستان کے گورنر راجہ غضنفر علی اور وزیر اعلیٰ حافظ حفظ الرحمن دونوں تاریخ کا گہرا شعور رکھتے ہیں ۔گلگت بلتستان اسمبلی کے موجودہ سپیکر فدا محمد ناشاد میاں نواز شریف کی سابقہ حکومت میں ڈپٹی چیف ایگزیکٹیو رہ چکے ہیں۔ادیب اور شاعر ہونے کے ناطے ایک دانشور کی حیثیت سے پہنچانے جاتے ہیں ۔اگر سرتاج عزیز کمیٹی نے گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کی سفارش کی توخطے کے عوام اس فیصلے کا خیر مقدم کر ینگے ۔اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ سیاچن پر بھارتی مہم جوئی کے بعد گزشتہ 31سالوں کے اندر خطے میں دشمن ملک کی لابی کام کررہی ہے ۔یہ لابی وزیر اعظم کے منصوبے کی راہ میں روڑے اٹکائے گی ۔ما ضی میں اس لابی نے دیا میر بھاشا ڈیم، بروغیل قرمبر نیشنل پارک اور شندور میں سرحدی تنازعہ پیداکرنے کی ناکام کو شش کی ہے ۔مشیر خارجہ سرتاج عزیز کی سربراہی میں قائم کمیٹی ضرور اپنے مقاصد میں کا میاب ہو گی۔جیساکہ علامہ اقبال نے فرمایا:
سفینہ ء برگِ گل بنالے گا قافلہ مورِ ناتواں کا
ہزار موجوں کی ہو کشا کش مگر یہ دریا سے پارہو گا

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

اترك تعليقاً

إغلاق