اے ایم خانتازہ ترین

مبارک خان مبارک ہو

پس وپیش

Advertisements

گزشتہ دنوں  ٹاؤ ن ہال چترال میں مبارک خان کے شعری مجموعہ ’’غزینہ ‘‘ کی تقریب رونما ئی منعقد ہوئی ۔ تقریت کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سےہوا۔تقریب میں چترال کے نامور ادبی، علمی ، ثقافتی،سیاسی اور معاشرتی شخصیات نے شرکت کی۔کتاب کی اشاعت مئیر چترال نے ہاشو فاونڈیشن اور قشقار کے تعاون سے ممکن بنائی۔
کتاب  کے حوالے سے چترال کے نمایاں ادبی،تاریخی ،تحقیقی، سماجی اور سیاسی حلقوں سے تعلق رکھنے افراد نے مقالہ جات اور اپنی آرا پیش کیں اور مصنف کی ہشت پہلو شخصیت کا احاطہ کیا۔ کتاب کے  آغاز میں ہاشو فاونڈیشن کے آر پی ایم سلطان محمود، ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی، جاوید اقبال جاوید ، فرید آحمد رضا اور خود مصنف نے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔
کتاب پر مقالہ پیش کرتے ہوئے حسن بصری  حسن نے کہا کہ مصنف کھوار کے تمام اصناف میں طبع آزمائی کرنے کے ساتھ ساتھ گل و بلبل کی کہانیوں سے  باہر نکل کر معاشرتی حالات و واقعات کی عکاسی اپنی شاعری میں  کی ہے اور یہی انداز شاعر کو ’’عوامی شاعر ‘‘ نظیر اکبر آبادی سے مماثل بنا دیتا ہے۔مقالہ نگار کے مطابق’ مصنف کو نظم کا شاعر کہا جائے تو بجا ہوگا، جوکہ مزاحیہ ہونے کے ساتھ ساتھ اِصلاحی  بھی ہے‘۔
ظفر اللہ پروازؔ ،مصنف کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اِس پریشانی کے دور میں میئر’’MIER‘‘  چترال کی کاو شوں سے وہ کلام سامنے آیاجو ہر لحاظ سے بہترین ہے۔پروازؔ نے ریڈیو پاکستان کے کھوار پروگرام اور مبارک خان سے منسلک اپنی یادوں کی پٹاری کھولنے اورخیالات پر طاری ہونے کا بھی ذکر کیا۔
پروفیسر ممتا ز حسین کتاب پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کہوار ایک بہت بڑی زبان ہے اور یہ لٹریری لوگوں کی زبا ن ہے جس میں اہم شاعر،موسیقار اور فنکار ہو گزرے ہیں۔ سادہ کھوار شاعری کا ایک دور امیر گل تک آتے آتے اپنے اختتا م کو پہنچتا ہے۔ اس دور کو سادہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس دور میں دوسری زبانوں کا اثر بہت ہی کم رہا۔دوسر ا دور تعلیم یافتہ شعراء کا دور تھا۔جس میں ولی زار خان ولی، گل نواز خاکی اور دوسرے شعراء شامل تھے۔  یہ دورالفاظ،خیالات ، اور زبان  کے لحاظ سے افاقی دوررہا ہے، مقالہ نگار نے مصنف کو ان دو ادوار کا حسین امتزاج قرار دیا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ صاحب کتاب کی ایک خوبی دوسری زبان کے الفاظ کا کھوار شاعری میں استعمال ہے اور یہ الفاظ  کھوار میں بھی عام فہم نظر آتے ہیں۔ممتاز صاحب کے مطابق ہم 1975کے دور  کو بجا طور پر مبارک خان کا دور کہہ سکتے ہیں ۔ اس دور میں مصنف نے پہلی دفعہ کہوار زبان میں قوالی کے صنف  کو متعارف کیا۔ ان کے خوبصورت نظم’’مہ پاکستا ن  وطنے اےمہ کہوار ختانے ‘‘ بھی ایک تاریخ کی عکاسی کرتا ہے جس میں پاکستان اور چترال سے محبت کا ایک تاریخی پہلو اجاگرہوتا ہے۔
تقریب میں فدا محمد فداؔ نے”غزینہ” کے عنوان سے  نظم  پیش کی ۔محمد یوسف شہزاد نے مصنف کی شخصیت کی عکاسی  کرتے ہوئےکہا کہ مصنف ہشت پہلو شخصیت ہونے کے ساتح ساتح، ایک یار باش، نرم زبان، اِنسان دوست اور سادہ لوح اِنسان  ہے۔ اُردو، پشتو، اور قشقار کے شعراء کے صف میں مصنف  شا مل ہوکر حکمرانوںکو خبردار،عوام کو شعور اور نوجوانوں کی اصلاح میں نمایان کردار ادا  کیا  اور آخر میں دوبارہ انجمن ترقی کہوا ر کی توسط سے صوبائی حکومت کا living heritage کے نام پر پروگرام کا آغاز کرنے ، چترال میں پانچ شعراء کو اغزازیہ، اور ہر ضلع میں ایک آرٹ کونسل کے قیام کے ا علان پر حکومت کا شکریہ ادا کیا، اور صوبائی پارلیمانی سیکرٹری کو اِس کام پر جلدی کام شروع کرانےرخواست کی۔
مولا نگاہ نگاہ ، انگریزی، فارسی اور کہوار کے ضرب الامثال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کہوار شاعری مبارک خان کے نام کے بغیر نامکمل ہے ، شاعر یا ر باش، یورگنج اور سادہ لوح اِنسان ہے ، اور اِسی لئے وہ  ہردلعزیز شخصیت ہے۔۔آپ کے خیالات عام فہم ، سادہ ، اور شاعری دوسری زبانوں کے الفاظ کا حسین امتزاج رہا ہے۔ مصنف نہ صرف شاعر، بلکہ موسیقار اور فنکار بھی ہے۔ موجودہ شعراء کی ایک مجبوری کو بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شعر لکھتا ہے تو اسے اپنے خیال کے مطابق گانہیں سکتا اور جو گاتا ہے وہ لکھ نہیں سکتا۔مصنف کی شاعری کے بارے میں بات کرتے ہوئے مولانگاہ نگاہ نے کہاکہ اُس نے معاشرے کی حالات کا گہرائی سے مطالعہ کیا، اور اُنہیں اپنے سادہ کہوار الفاظ میں پرو دیا۔
گل مراد حسرت ، مصنف کی کتاب پر بات کرتے ہوئے کہا کہ شعراء دو قسم کے ہوتے ہیں ، ایک وہ جس کی شاعر ی سب کو سمجھ آجاتی ہے اور دوسرا وہ جس کی شاعری کو ایک مخصوص طبقہ سمجھ لیتی ہے۔ کہوار لوک صنف میں اشرو ژانگ،بشاؤنو ، اور شہری ہیں ، بشاؤنو اور شہری میں مصنف کا ایک امتیازی حیثیت ہے۔ مصنف گوکہ غزل گو شاعر نہیں تھا لیکں کبھی کبھار غزل سرائی بھی کرتا ہے ۔ کہوار میں لفظ ’مرادی‘ کا مصنف کے حوالے سے تعارف کراکے، اِسکے علاوہ بجلی گھر، ہسپتال اور شاہی محل کے حوالے سے اُن کے کلام کا احاطہ کیا۔
تقریب کی مہمان خصوصی بی بی فوزیہ ، پارلیمانی سیکرٹری برائے سیاحت و ثقافت نے ہاشو فاونڈیشن،انجمن ترقی کہوار،میئرچترال اور ادبی شخصیات کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ میں مصنف کو عوامی شاعر کے ساتھ ساتھ اصلاحی شاعر بھی کہونگی ،انہوں نے مزید کہا کہ اُسکا  کمال فن یہ ہے کہ اُس نے ہر حوالے سےشاعری کی ہے۔یہ اُس کے فن پر دسترس کا ثبوت ہےکہ اُس نے ہر موضوع پہ شاعری کی۔ شاعر ایک فرد نہیں بلکہ ایک ادارہ ہے اور نوجوان شعراء کو اُس کی شاعر ی سے رہنمائی حاصل کرنا چاہیے۔
صوبائی حکومت کا ادب سے تعلق رکھنے والے حضرات کیلئے اغزازیہ کے اعلان کے حوالے سے با ت کی اور مبارک خان کا نام صوبے کے شعراء میں شامل کرنے کے اپنی کوشش کااظہار کرتے ہوئے اپنی اور صوبائی حکومت کی طرف سے ادبی کاموں کو آگے لے جانے پر بات کی۔
صد ر محفل آر پی ایم ( RPM) ہاشو فاونڈیشن چترال سلطان محمو د مئیرچترال ، انجمن اور ادبی شخصیات کی خدمات کو سراہتے ہوئے ایسے ادبی مواقع پر خالص کہوار میں بات کرنے کی یقین دہانی کرتے ہوئے مصنف کے ریڈیو پاکستان اور ٹیپ ریکارڈر میں کلام سُن کرمحظوظ ہونے کے دور کی بات کی، اور مصنف کے شخصیت پر مختصراً بات کی، اور اِس کتا ب کی دوبارہ اشاعت اور دوسرے ادبی کاموں کو منظر عام پر لانے کیلئے ِ ادارے اور اپنی ذاتی دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے مستقبل میں ہر طرح تعاؤن کی یقین دہانی کی۔
تقریب رونمائی کے آخری گھنٹے میں غزینہ کے مصنف مبارک خان مبارک بھی تشریف لے آئے تو سفید ریش بزرگ کو دیکھ کر پورا حال جذباتی ہوا اور معروف شاعر کو اپنے درمیاں پاکر اپنی جذبات کو کنٹرول نہ کرسکے اور ہال میں موجود ان کے ہم عصر فنکار بھیگتے پلکوں کے ساتھ اس کا استقبال کیا، سب سے زیادہ چترال کے معروف موسیقار بابا فتح الدین کو دیکھ کر اُس کا مصنف کے ساتھ گہری عقیدت کے جذباتی اظہار سے دنگ رہ گیا۔ پروگرام میں مصنف کے فرزند ارجمند محمدشفیع اپنے والد محترم کی جانب سے تمام اِداروں اور اِس کتا ب کی تدوین
میں خدمات انجام دینے والوں کا تہہ دِل سے شکریہ ادا کیا،۔اِس کے علاوہ پروگرام میں جنگ بہادر،اور جناح الدین پروانہ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ پروگرام کے آخر میں جاوید اقبال جاوید مہماناں کا شکریہ اداکیا۔
مبارک خان مبارک چترال کے نامور حضرات کے نزدیک ایک عوامی شا عر ،اِصلاحی شاعر، ہشت پہلو شاعر، اور کہوار میں قوالی کے متعارف کرنے والوں میں اولیت کا درجہ رکھتے ہیں۔ میں مبارک خان مبارک کو اِن خصوصیات کے علاوہ حیاتی تنوع(Bio-diversity)کا محافظ ،نیچرلسٹ Naturalist) ( اور ہمہ گیر شا عرکہونگا۔ مصنف اپنی کتاب میں حمد، نعت ، نظم ، بشاؤنو ، غزل ،قوالی اور مرثیہ نگاری کی ،اور مختلف حالات و واقعات کو اپنی شاعری میں بیان کیا۔ جن کی تفصیل کتاب میں موجود ہے انہیں  مقالہ نگار اور دوسرے حضرات نے بھی احاطہ کیا۔ جن چند برائیوں جیسے کرپشن، نقل، تعلیم کی اہمیت ، صحت کیلئے آیوڈین ملا نمک اور دوسرے موضوع پر خالص کہوار میں شاعری کی ہے، وہ میرے لئے اُس دور کے حوالے سے معاشرتی تبدیلی کے حامل تھے۔جنہیں مصنف کو مذید پڑھنے کی آرزو ہے وہ “غزینہ ” ضرور پڑھے۔
تو اُس کی شاعری کی اہمیت کا اندازہ ہولگائے۔ اس تقریب کی خاص بات یہ تھی کہ اسے چترال سے باہر چترالیوں کے لئے براہ راست دیکھایا گیا۔ جو کہ چترال ایکسپریس کا ایک منفرد قدم ہے۔

 

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى