نیاز اے نیازی

مجھے یونیورسٹی چاہیے

نیازیات



ملک میں اخری بار مردم شماری 1998میں ہوئی تھی۔ اِس وقت چترال کی آبادی چھ لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ لیکن یہ ایک اندازہ ہے ۔ آبادی کی صیحح تعداد مردم شماری اور خانہ شماری ہی سے ممکن ہے ۔ چھ لاکھ کی آبادی میں نوجوانوں کی تعداد کل آبادی کا 60%فیصد ہے ۔ چترال میں خواندگی کی شرح 80%فیصد سے زیادہ ہے ۔ مجموعی طور پر تعلیم کے لحاظ سے ضلع چترال صوبے بھر میں دوسرے نمبر پر آتا ہے ۔ یہاں غربت اور معاشی پسماندگی ہے لیکن یہاں کے لوگ اور خصوصاََ والدین ذہنی اور فکری طور پر امیر ہیں ،علم دوست ہیںیہاں کے باشندے نہ صرف تعلیم سے گہری محبت رکھتے ہیں بلکہ یہاں کا ہر شہری امن سے بھی والہانہ محبت رکھتا ہے ۔یہاں کا موسم سرد اور گرم ہو، بہار ہو کہ خزاں، بارش ہو کہ برسات ،برف باری ہو کہ ژالہ باری ، زلزلہ ہو کہ سیلاب، یہاں کا ہر بچہ اورہر بچی اپنا بستہ لیکر سکول جاتے ہوئے اور سکول سے واپس گھر آتے ہوئے دیکھائی دیتے ہیں۔ ان بچوں کے لئے سکول میں ڈیسک نہیں ہوتے ،نیچے ٹاٹ نہیں ہوتے ،استاد کی کمی ہوتی ہے۔ کلاس رومز نہیں ہوتے مگر استاد کی کمی کلاس رومزکی کمی، ڈیسک کی عدم دستیابی ان بچوں کے لئے کوئی معنی نہیں رکھتے، سہولیات کی عدم دستیابی ان کے تعلیمی سفر کے راستے میں رکاوٹ پیدا نہیں کر سکتی ۔ ان کے ولولے اور جذبے کو کمزور نہیں کر سکتے ۔ ان کی علم دوستی لازوال ہے ان کے ارادے پختہ ہیں۔ ان کے بستے پھٹے اور پرانے ضرور ہوتے ہیں، ان کے سکول کا سفر طویل اور دشوار گزار ضرور ہوتے ہیں، ان کے جسمانی اعضاء کمزور ضرور ہوتے ہیں۔ ان کو سکھانے اور پڑھانے کے لئے استاد ضرور کم ہوتے ہیں مگر علم کے یہ پروانے اس طرح تعلیم کے لئے مر مٹنے کے لئے تیار ہیں جس طرح ایک پروانہ چراغ کی حصولی کے لئے مر مٹتا ہے۔یہ بچے اور بچیاں پرائمری کے بعد مڈل سکول پہنچ جاتے ہیں۔ جس کا سفر اور راستہ اور بھی دشوار اور کھٹن ہوتا ہے۔ یہ بچے ہائی سکول تک پہنچ جاتے ہیں۔ سکول تک جانے کے لئے ان کے پاس کوئی ٹرانسپورٹ کی سہولت نہیں ، ان کے سکول میں کوئی کینٹین نہیں ،ان کے بستوں میں کوئی فاسٹ فوڈ نہیں ۔ لیکن صبح خوشی خوشی اس مادر علمی کی طرف جاتے ہیں اور شام کو واپسی پر بوڑھے باپ کی دست گیری کرتے ہیں۔ گھر کے کام کرتے ہیں۔ ایک دن میٹرک کا نتیجہ آجاتا ہے اور ان کا اگلا سفر گاؤں سے دور کسی پرائیوٹ یا گورنمنٹ کالج کی طرف ہوتا ہے ۔ پردیس اور ہاسٹل کی زندگی شروع ہو جاتی ہے ۔ ان کو گھروں میں ماں جو گرم نرم کھانا دیتی تھی۔ اب وہ نعمت بھی نہیں رہی ۔ دال روٹی ، چائے پہ گزارہ شروع ہو جاتا ہے ۔ انٹر پاس کرنے کے بعد بی ۔ اے ، بی ایس سی میں داخلہ مل جاتا ہے اس تمام عرصے کے دوران ان پر خرچہ ضرور آتا ہوگا۔ مگر ان کے غریب والدین کھبی بھی اپنی غریبی اور معاشی پسماندگی کو ان کے حصول علم کی راہ میں روکاٹ بننے نہیں دیتے ۔ کھبی بھی یہ غریب باپ اپنے بچے سے یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ’’ بیٹا میڑک پاس کر لیا‘‘ کوئی ملازمت اختیار کرے’’ ایف اے پاس کیا ‘‘ کوئی روزی روٹی کما کر لائے ،’’ گریجویشن کیا ‘‘کوئی روز گار سے منسلک ہو کراُن کی غریبی کے غم بانٹیں ،اُن کے کندھوں کا معاشی بوجھ کم کرے ۔ اس وقت بھی اُس غریب باپ کی ایک ہی آروز ہوتی ہے کہ ان کا بچہ اور بچی اعلیٰ تعلیم حاصل کرے ،کسی یونیورسٹی سے پڑھے مگر یہ وہ کٹھن اور مشکل مرحلہ ہوتا ہے کہ جب غریب باپ لاکھ مرتبہ چاہتے ہوئے بھی اپنے اس آرزو اور تمنا کو پورا کرنے میں وہ کمزور اور بے بس نظر آتاہے۔ اس مرحلے پر یہ بچہ اپنی حکومت سے یہ فریاد کرنے میں حق بجانب ہوتا ہے کہ کیا اس ملک کے وسائل میں ان کے لئے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے کوئی حصہ نہیں ہے ؟۔ چترال میں اس وقت پبلک اور پرائیوٹ سیکٹر میں بائیس سے زیادہ ڈگری کالجز موجود ہیں ا ن میں اوسطاََ ہر ڈگری کالج میں ایک ہزار سے زائد طلبا اور طالبات زیر تعلیم ہیں۔ جن کی مجموعی تعداد سالانہ بائیس ہزار بنتی ہے ۔ ضلع بھر میں ستر سے زیادہ انٹر کالجز ہیں۔ان پرائیوٹ اور پبلک کالجز میں ستر ہزار سے زیادہ طلبہ زیر تعلیم ہیں۔پبلک اور پرائیوٹ سکولوں میں زیر تعلیم بچوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ ہے ۔ لیکن ستم بالائے ستم یہ ہے کہ ہماری حکومت ،ہمارے ارباب اختیاراور ہمارے حکمرانوں کو یہ تعداد کبھی نظر نہیں آئی ۔ چترالی طالب علم کا تعلیم کیساتھ محبت ان کو کھبی دیکھائی نہیں دیتی ۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک ان عاشقان علم و دانش کے لئے ایک یونیورسٹی قائم کرنے کے لئے مرکزی حکومت کے پاس وسائل ہیں اور نہ ہی صوبائی حکومت کے پاس فنڈ ہے لیکن دوسری طرف ملک اور خصوصاََ خیبر پختونخواہ میں دیکھا جائے تو شہر شہر قریہ قریہ یونیورسٹیاں قائم کی جا رہی ہیں۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن(ایچ ای سی) اعلیٰ تعلیم کی ترویج و ترقی اور تحقیق کا قومی ادارہ ہے مگر چترال کے نوجوانوں کی علم دوستی ان کی ذہانت اور تعلیم سے محبت کبھی بھی ایچ ای سی کے دائرہ فکر میں کوئی مقام حاصل نہیں کر سکا ۔ ایچ ای سی چترال میں یونیورسٹی کے قیام کو غیر ضروری سمجھتی ہے ۔ مرکزی حکومت اس کو کوئی اہمیت نہیں دیتی ،صوبائی حکومت کے پاس وسائل نہیں ہیں۔ آج بھی چترال کا نوجوان طالب علم وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف، نوجوانوں کے امور کے انچارچ مریم نواز شریف ،وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اور عمران خان کے انتظار میں ہے کہ کب چترال میں ایک یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ ایکسویں صدی کا یہ طالب علم اعلیٰ تعلیم کو اپنا بنیادی آئینی حق سمجھتا ہے ۔ یہ نوجوان علم اور تحقیق چاہتا ہے، یہ نوجوان دشمن کے بچوں کو پڑھانا چاہتا ہے ۔ یہ نوجوان امن کا پیغام دنیا میں پھیلانا چاہتا ہے ۔ یہ نوجوان ملک کی ترقی اور ملکی معاملات میں حصہ دار بننا چاہتا ہے ۔ اس نوجوان کی ایک ہی فریاد ہے ۔بس’’ مجھے یونیورسٹی‘‘ چاہیے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

اترك تعليقاً

إغلاق