چترال لوئر

سیلاب اور زلزلے کی تباہ کاریوں کے بعد بحالی کے کاموں میں تیزی لائی جائے۔چیئرمین ڈیڈک سلیم خان

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس)ضلع چترال میں تمام محکمہ جات کے سربراہان سیلاب اور زلزلے کی تباہ کاریوں کے بعد بحالی کے کاموں میں تیزی لائیں۔کاموں میں کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائیگی ۔یہ بات رکن صوبائی اسمبلی اور چیئرمین ڈیڈک سلیم خان نے ضلعی سربراہان اورتمام محکمہ جات کے ایک اجلاس کی صدرات کرتے ہوئے کہی ۔انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات کے بعد چترال میں انفراسٹرکچر بُری طرح متاثر ہو چکا ہے۔جس کی بحالی کے لئے دن رات ایک کرکے کام کرنے کی ضرورت ہے۔جن جن اسکیموں کی نشاندہی پہلے کی جاچکی ہے ان پر کام ابھی تک شروع نہ ہونا افسوسناک ہے۔ڈسٹرکٹ کونسل اور تحصیل کونسلز کے لئے الگ الگ بجٹ مختص ہوچکے ہیں جن پر وہ اپنے اپنے طریقہ کار کے مطابق عمل کریں گے۔پہلے سے طے شدہ ترقیاتی اسکیموں پر کارروائی نہ ہونے سے صوبائی نمائندہ گان پر سے عوام کا اعتماد اٹھ جائے گا ۔اس موقع پر رکن صوبائی اسمبلی پارلیمانی سیکرٹری سیاحت وثقافت بی بی فوزیہ نے بھی چیئرمین ڈیڈک کی حمایت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ نشاندہی شدہ ترقیاتی منصوبوں پر کام فوری مکمل کیا جائے۔تاکہ فنڈز مقررہ وقت پر خرچ نہ ہونے سے رقم واپس نہ ہوجائے۔ایم پی اے سلیم خان نے زنانہ ہائی سکول جغورکی منظوری ایک سال قبل ہونے کے باوجود ابھی تک اس پرسی اینڈ ڈبلیو کی طرف سے کام شروع نہیں ہونے پر برہمی کا اظہار کیا ۔اُنہوں نے کہا کہ محکمہ ایریگیشن،پبلک ہیلتھ ،محکمہ تعلیم کے اہلکار اپنے قبلے درست کریں اور عوامی مسائل کے فوری حل میں اپنا کردار ادا کریں۔ترقیاتی اسکیموں اور بحالی کے لئے ۷۵کروڑ روپے کا اعلان ہوچکا تھا جن میں سے چودہ کروڑ روپے ریلزہوچکے تھے جن میں سے تین کروڑ روپے خرچ ہوئے ۔محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے ایس ڈی او نے بتایا کہ سیلاب کی مد میں ۲۲کروڑ روپے ملے تھے جن میں سے تیرہ کروڑ روپے ایف ڈبلیو او کو دئے گئے ۔سات کروڑ روپے کے کاموں کے ٹنڈرز ہو چکے ہیں۔رکن صوبائی اسمبلی سیلم خان نے کہاکہ برنس اورنشکوکے ہائی سکولوں کوہائی سکینڈری کادرجہ دیاہے ،بونی شندورروڈاوربونی بوزندروڈمیں بھی عنقریب کام شروع کیاجائے گا۔انہوں نے مزیدکہاکہ صوبائی حکومت نے اپرچترال کے لئے چارہزارسولرسسٹم کااعلان کیاہے فی پلانٹ کی قیمت 89ہزاروپے ہوگی جن میں سے 80ہزارروپے حکومت دے گی اور9ہزاروپے کمیونٹی دے گا۔ا س موقع پر سوشل ویلفئرکے ایک خاتون ذمہ دارنے چترال میں خواتین کے مسائل اورخودکشی کے حوالے سے کمیونٹی میں آگاہی پید اکرنے کے لئے کام کرنے کی درخواست کی ۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر چترال عبدالغفار،سیکرٹری ڈیڈک ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر چترال عبدالاکرم اورتمام سرکاری اداروں کے سربرہان موجود تھے ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى