تازہ ترین

خواتین کو اُن کے گھروں کے اندر روزگار فراہم کرنے کے مواقع فراہم کئے جارہے ہیں۔ایم پی اے فوزیہ بی بی

چترال(نمائندہ چترال ایکسپریس)چترال کی بچیاں تعلیم یافتہ اورتعلیم کی حصول کے لئے انتھک محنت کررہی ہیں ہمارے لئے پلس پوائنٹ ہے کہ ہمارے پاس اچھا پلیٹ فارم موجود ہے۔خواتین کو اُن کے گھروں کے اندر روزگار فراہم کرنے کے مواقع دیئے جارہے ہیں۔یہ باتیں ایم پی اے اور پارلیمانی سیکرٹری برائے سیاحت فوزیہ بی بی نے سی سی بی صدا بہار ہنرمند کے ہنرمندوں میں سرٹیفیکیٹ کی تقسیم کی تقریب میں کہی۔اُ67نہوں نے کہا کہ چترال میں بہت سے بچیوں کو روزگار کے لئے گھروں سے نکلنا دشوار ہوتا ہے خواتین اپنے گھروں کے اندر ہی روزگار شروع کریں اس لئے پی ٹی آئی کی گورنمنٹ ان ہنرمند بچیوں کہ اُن کو ان کی گھر کے اندر روزگار فراہم کرنے کا مواقع فراہم کریگی۔اُنہوں نے کہاوزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا بھی خصوصی ہدایت ہے کہ خواتین کے لئے خصوصی پراجیکٹس بنائے جائیں ،ابھی تک خواتین کے حوالے سے کام کرنے والے 32پراجیکٹوں کو مختلف جگہوں پر PTIکی حکومت نے خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے چترال کے اندر فنڈ دئیے ہیں انہوں نے کیاکہ میں خواتین کی سپورٹ کے لئے کوشش کررہی ہوں ،میری خواہش ہے کہ چترال کے خواتین اپنے مسائل میرے ساتھ شیئر کریں اور مجھے پروپوزل دے تاکہ میں اُن کے لئے مزید کام کرسکوں۔انہوں نے کہاکہ چترال پولیس خواتین کو درپیش رہائش کی مسائل کو پیش نظر رکھتے ہوئے اُن کے لئے علیحدہ رہائش کا بندوبست کیا جارہا ہے ہماری کوشش ہے کہ آنے والے ADPمیں چترال میں یونیورسٹی کے لئے رقم مختص کریں ۔ڈگری کالج ایون کے لئے اپرویل لے لی گئی ہے ۔پارلیمانی سیکرٹری فوزیہ بی بی نے کہا کہ چترال کی خواتین روزگار کے لئے کوشش کریں صرف نوکریوں کے پیچھے نہ پڑیں۔ خواتین کے لئے پراجیکٹ بنانے کے لئے وزیراعلیٰ نے کہا ہے مگر بدقسمتی سے خواتین کی طرف سے کوئی پروپوزل نہیں آتی۔خواتین کے لئے انڈور گیم کے لئے مواقع فراہم کرنے کے لئے کوشش کررہی ہوں۔اُ8 نہوں نے سوشل ویلفیئر افسر نصرت جبین کے کاوشوں کو سراہا اور وی سی سی صدا بہار ہنرمند سنٹر کے لئے تین لاکھ روپے فند کا اعلان کیا۔ سوشل ویلفیئر افیسر نصرت جبین نے ایم پی اے فوزیہ بی بی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایم پی اے نے ہمیشہ خواتین کی بہبود کے لئے کام کیا ہے جسے فراموش نہیں کیا جاسکتا۔آخر میں ہنرمند بچیوں میں سرٹیفیکٹ تقسیم کی گئی۔



اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

اترك تعليقاً

إغلاق