تازہ ترین

خیبرپختونخواکے زیراہتمام (آر ۔آئی ۔سی ۔ایچ)ٹوورزم ڈیپارٹمنٹ خیبرپختونخواکے تعاون سے چترال میں محفل مشاعرہ منعقد

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس)ڈی اے ڈی آر ایس خیبرپختونخواکے زیراہتمام (آر ۔آئی ۔سی ۔ایچ)ٹوورزم ڈیپارٹمنٹ خیبرپختونخواکے تعاون سے چترال میں ایک محفل مشاعرہ منعقدہوا جس کے مہمان خصوصی ممتازماہرتعلیم پروفیسرممتازحسین جبکہ صدرمحفل (ر)پرنسپل سینئر شاعرمولانگاہ نگاہ تھے ۔نظامت کے فرائض محبوب الحق حقی نے انجام دی۔ڈی اے ڈی آر ایس کے صدرڈاکٹراعجازعلی شاہ اورمہربان نے کہاکہ صوبائی حکومت تمام اضلاع میں ثقافتی ورثے کے احیاء کاپروگرام شروع کیاہے اس لئے ہم چترال کے شعراء اورادباء کے کلام آڈیواورویڈیو ریکارڈنگ کی صورت میں محفوظ کر کے متعلقہ حکام تک پہنچائیں گے ۔انہوں نے کہاکہ چترال کی ثقافت پورے پاکستان کیلئے امن کی نشانی ہے اور یہ ایک منفرد ثقافت کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔معاشرے میں برائی کوختم کرنے کے لئے ہرطبقے کے لوگوں کو کام کرنے کی ضرورت ہے ادیب اورشعراء انتہائی سوچ سمجھ کرکلام لکھتے ہیں اورمعاشرے میں ہونے والی برائیوں کوانتہائی قریب سے دیکھتے ہیں اوران برائیوں کوختم کرنے میں بھی عام لوگوں سے شعراء و ادباء کاکردار زیادہ ہوناچاہیے۔انہوں نے کہاکہ اس سلسلے میں جلد مزید ایسے نئے پروگرامزبھی ترتیب دئیے جائینگے جس کامقصدآنے والی نسلوں کواپنی ثقافت کے بارے میں معلومات فراہم کرناہے ۔
صوبائی حکومت نے صوبہ بھرمیں ثقافت،کھیل ،سیاحت،آثارقدیمہ اورامورنوجوانان کی ترقی اورفروغ کے لئے ہمیشہ اقدامات کئے ہیں اوراس سلسلے میں مستقبل میں بھی محکمہ ثقافت ہرفورم پرخدمات اور سرگرمیاں جاری رکھے گا۔انہوں نے مزیدکہاکہ اس قسم کے پروگرامات چترال کے تمام ادب سے وابستہ لوگوں کے لئے سودمندثابت ہوں گی ۔اورپاکستان میں زیادہ سے زیادہ لوگ چترال کے تمدن سے واقفیت پائیں گے اورخطے کے بارے میں تاثرمزیدبہترہوجائے گا۔ا س موقع پر مولانگاہ نگاہ،صادق اللہ صادق،حسن بصری،جناح الدین پروانہ ،سیدنذیرحسین شاہ نذیر،سیدالرحمن سعیدی،وارث شاہ وارث،سعادت حسین مخفی،شہزادہ مبشرالملک،ثناء اللہ ثانی،محمدنواز رفعی،جعفرحیات ذوقی،عطاحسین اطہر،قرارالدین خسرواوردیگرشعراء نے کلام پیش کئے اور خوب داد وصول کیں۔ آخرمیں مہمان خصوصی پروفیسرممتازحسین اورصدرمحفل مولانگاہ نگاہڈی اے ڈی آر ایس خیبرپختونخوا کی طرف سے ثقافتی ورثے کے احیاء کاپروگرام شروع کرنے پر اُن کا شکریہ ادا کیا۔



اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

اترك تعليقاً

إغلاق