چترال لوئر

مادری زبانوں کے عالمی دن کے موقع پرانجمن ترقی کھوار کے زیر انتظام تقریب

چترال(نمائندہ چترال ایکسپریس)اتوار21 فروری 2016 کو مادری زبانوں کے عالمی دن کے موقع پر چترال پریس کلب میں ایک تقریب انجمن ترقی کھوار چترال کے زیر انتظام منعقد ہوئی۔ تقریب کے شرکاء میں چترال کی بڑی زبان کھوار کے علاوہ دیگر چھوٹی زبانوں کے بولنے والے بھی شامل تھے۔ تقریب کی صدارت انجمن ترقی کھوار کے سابق صدر محمد یوسف شہزاد نے کی جب کہ پلولہ زبان کے شاعر صلاح الدین طوفان مہمان خصوصی تھے۔اس موقع پر مقررین نے مادری زبانوں کی اہمیت اور ان کے تحفظ کی ضرورت پر اظہار خیال کیا۔  Anjuman مقررین میں پروفیسر ممتاز حسین،کھوار اہل قلم کے محمد کوثر ایڈوکیٹ، فراق عندلیب، محبوب الحق حقی، شیر اکبر صبا، گل مراد خان حسرت اور علاوالدین حیدری شامل تھے۔اجلاس میں انجمن ترقی کھوار کے مرکزی صدر شہزادہ تنویر الملک نے مندرجہ ذیل قرارداد پیش کی جو متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔

قرار داد

1.      یہ اجلاس اس عزم کا اظہار کرتا ہے کہ چترال کی تمام تیرہ زبانوں کے بولنے والے اپنی اپنی زبانوں کی  بقا، حفاظت اور ترقی کے لیے مل جل کر اور اپنی اپنی جگہ جد و جہد کریں گے۔

2.      ان زبانوں کے بولنے والے اپنی اپنی مادری زبان پر فخر کریں گے اور اپنی اولاد کو اپنی مادری زبان ایک ورثے کے طور پر منتقل کریں گے۔

3.      لسانی گروہوں سے تعلق رکھنے والے اپنی زبانوں میں ادب کی تخلیق اور لکھنے پڑھنے کو فروغ دینے کے لیے کام کریں گے، اس مقصد کے لیے ادارے قائم کریں گے اور پہلے سے موجود اداروں کو مستحکم کریں گے۔

4.      چترال کے تمام ثقافتی گروہ اپنی اپنہ ثقافت، روایات اور لوک ادب کے تحفظ کو فرض سمجھ کر اس کے لیے کام کریں گے۔

5.      اجلاس وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ سرکاری ریڈیو اور ٹیلی وژن پر چترالی زبانوں کو مناسب وقت دیا جائے۔ نیز یہ کہ چترال کے ریڈیو سٹیشن میں طاقتور میڈیم ویوز ٹرانسمیٹر نصب کیا جائے تاکہ اس کی نشریات پورے ضلع میں سنی جاسکیں۔ اس کے علاوہ ریڈیو پاکستان پشاور سے نشر ہونے والے کھوار پروگرام کا ایک گھنٹے کا دورانیہ بحال کیا جائے۔

6.       وفاقی حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا جاتا ہے کہ پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ کے زیر انتظام ‘جمہور اسلام کھوار’ کے نام سے جو رسالہ شائع ہوا کرتا تھا، اسے دوبارہ سے جاری کیا جائے۔

7.      اجلاس یہ  مطالبہ کرتا ہے کہ تمام چھوٹی بڑی علاقائی زبانوں کو قومی زبانوں کا درجہ دیا جائے۔

8.      اجلاس حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ ہر بچے کو اس کی مادری زبان میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کا حق دیا جائے۔ یہ بھی مطابہ کیا جاتا ہے کہ چترال کے ہر پرائمری سکول میں ایسے اساتذہ کا تقرر کیا جائے جو بچوں کی مادری زبان میں بات کرتے ہوں۔

9.      اجلاس  حکومت خیبر پختون خواہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ سابق حکومت کے دور میں شروغ کیے گئے اس پروگرام کو مکمل کرے جس کے تحت علاقائی زبانوں میں بارہویں جماعت تک تعلیم کے لیے نصاب سازی کا کام ہو رہا تھا۔

10.   اجلاس حکومت خیبر پختون خواہ کے اس اعلان کا خیر مقدم کرتا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ہر ضلع میں ایک آرٹس کونسل بنایا جائے گا۔ اجلاس یہ مطالبہ کرتا ہے کہ چترال میں آرٹس کونسل ترجیحی بنیادوں پر بنایا جائے کیونکہ  متنوع ثقافتوں کا حامل ہونے کی وجہ سے یہ ضلع اس کا سب سے زیادہ حق رکھتا ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى