تازہ ترین

جنگلات ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں ۔ ان کا تحفظ ہماری زندگی اور ماحول کیلئے انتہائی ضروری ہے ۔ضلع ناظم حاجی مغفرت شاہ

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس ) ضلع ناظم چترال مغفرت شاہ نے کہا ہے کہ جنگلات ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں ۔ ان کا تحفظ ہماری زندگی اور ماحول کیلئے انتہائی ضروری ہے ۔ ہمیں ان کے فروغ اور تحفظ کیلئے حتی المقدور کوشش کرنی چاہیے ۔ اور صوبائی حکومت کا افزائش جنگلات کیلئے بلین ٹر یز سونامی پروگرام قابل تحسین ہے ۔ تاہم شجر کاری کی یہ مہم عوامی تعاون کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتی ۔ اس لئے علاقے کی عمارتی اور سوختنی ضروریات پوری کرنے کیلئے مصنوعی جنگلات پر بھر پور توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز محکمہ فارسٹ چترال کی طرف سے ایون میں بلین ٹریز سو نا می پراجیکٹ کے تحت لوگوں میں پودوں کی فری تقسیم کے موقع پر بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ جس میں کنونئیر ضلع کونسل چترال مولانا عبد الشکور ، کنزر ویٹرملاکنڈ سرکل مشتاق احمد ، ڈی ایف او وسلیم مروت ، ایس ڈی ایف او آصف احمد ممبران ضلع و تحصیل کونسل ،ناظمین اور علاقائی معززین بڑی تعداد میں موجود تھے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ جنگلات کے تحفظ کیلئے ایون کے لوگوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں اوربہت مصائب جھیلے ہیں ۔ تاہم اب مزید مشکلات کے دن ختم ہو گئے ہیں ۔ بعض اوقات ایک مثبت کام کو منفی طریقے پر عمل میں لانے سے اُس کے نتائج منفی نکل آتے ہیں ۔ اور ایون والوں نے بھی جنگلات کے تحفظ کے اچھے کام کو غلط طریقے سے پیش کیا ۔اور نتیجتا ایون کے لوگوں پر بہت مصائب آئے ۔ ۔ تاہم وہ کامیاب ر ہے ۔ جس مافیا نے اپنے مفاد کیلئے نہتے لوگوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند کرایا ۔ وہ آج ہار چکے ہیں ۔وہ مزید کوئی قدم اُٹھانے کے متحمل نہیں ہو سکتے ۔ اور میرے ہوتے ہوئے وہ کوئی بھی منفی قدم نہیں اُٹھا سکتے ۔ انہوں نے کہا ۔کہ ڈپٹی کمشنر چترال ایک مثبت سوچ کے مالک ہیں ۔ انشا ء اللہ ایون کے تنازعے کے سلسلے میں ایک مثبت فیصلے پر ضرور آئیں گے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ فارسٹ کی موجودہ پالیسی ناکام ہو چکی ہے ۔ ایک مکان کی تعمیر کیلئے پچاس فٹ عمارتی لکڑی کی پرمٹ جاری کرنا لوگوں کو چوری کرنے پر مجبور کرنے کے مترادف ہے ۔ اس لئے اس میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے ۔ تاکہ لوگوں کی ضرورت بھی ہو ۔ اور چوری پر بھی کنٹرول حاصل ہو ۔ ضلع ناظم نے بلدیاتی نمایندگان کو ہدایت کی ۔ کہ ایون میں سیلاب سے متاثرہ نہروں کی بحالی اور آراضی کے تحفظ اور ایون نالے اور دریا کے چینلائزیشن پر بڑے پیمانے پر فنڈ خرچ کئے جارہے ہیں ۔ جس میں ڈسٹرکٹ گورنمنٹ ،سی ڈی ایل ڈی اور ایریگیشن کے فنڈ شامل ہیں ۔ اس لئے ان فنڈ زکے بہتر استعمال کو یقینی بنانے کیلئے مقامی نمایندگان اُن پر نگاہ رکھیں ۔ اس موقع پر کنزر ویٹر ملاکنڈ سرکل مشتاق احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا ۔ کہ درخت لگانا ایسا صدقہ جاریہ ہے ۔ جس پر بہت زیادہ سرمایہ خرچ نہیں کرنا پڑتا ۔ اور درخت اپنے فائدے کے لحاظ پیدائش سے لے کر قبر تک انسان کا ساتھی ہے ۔ اس لئے اسکی حفاظت اور افزائش کی سب سے بڑی ذمہ داری ہم پر فرض ہوتی ہے ۔ انہوں نے چترال میں پرمٹ کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ۔ کہ موجودہ نظام میں 90فیصد لوگ پرمٹ سے محروم رہتے ہیں ۔ اور اس سے صرف مافیا کے لوگ فوائد حاصل کر رہے ہیں ۔ اس لئے ہماری کوشش ہے ۔ کہ اس کو ہر ضرورت مند تک پہنچانے کیلئے پالیسی بنائیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ جنگل میں موجود کٹائی شدہ مواد کو مقامی مارکیٹ میں مناسب قیمت پر فروخت کیا جائے گا ۔ اور 200سے250مکسر فٹ کے حساب سے پرمٹ جاری کئے جائیں گے ۔ تاہم اگر مقامی مارکیٹ میں یہ ٹمبرکوئی خریدنے والا نہ ہو ۔ تو پھر ضلع سے باہر لے جاکر اوپن مارکیٹ ریٹ پر فروخت کیا جائے گا ۔ اور رائیلٹی متعلقہ کمیونٹی کو دی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ایون میں ایف ڈی سی کا تنازعہ خوش اسلوبی سے حل کرنے کی کو شش کر رہے ہیں ۔ پہلے جو معاہدے ہوئے ۔ اُن میں اداروں کو شامل نہیں کیا گیا ۔ جس کی وجہ سے مسئلہ صحیح طریقے سے حل نہ ہو سکا ۔ اب جرگے میں تمام ذمہ دار ادرے بیٹھیں گے ۔ اور انشاء اللہ بہتر فیصلہ ہو گا ۔ انہوں نے چترال میں مصنوعی جنگلات کی افزائش پر زور دیا ۔ اور کہا ۔ کہ پودوں کی ابتدائی نشو نما کیلئے پانی اور نگہداشت کی اشد ضرورت پڑتی ہے ۔ اس لئے محکمہ فارسٹ نے ان تمام ضروریات اور اخراجات کو پیش نظر رکھا ہے ۔ اور اس سلسلے میں متعلقہ افراد محکمہ فارسٹ سے تعاون حاصل کر سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ اپر چترال میں شجر کاری کی انتہائی ضرورت ہے ۔ تاکہ لوئر چترال کے جنگلات پر عمارتی اور جلانے کی لکڑی کے بوجھ کو کم کیا جا سکے ۔ نائب ناظم ضلع کونسل چترال مولانا عبدالشکور نے اپنے خطاب میں اسلامی پہلو سے شجرکاری کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالی ۔ اور عوام کو ادار ے کے ساتھ تعاون کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ ڈی ایف او سلیم مروت نے بلین ٹریز سونامی پراجیکٹ کے حوالے حاضرین کو آگاہ کیا ۔ اور کہا ۔ کہ جو لوگ نرسری لگانا چاہتے ہیں ۔ محکمہ فارسٹ اُن کو 25فیصد ایڈوانس آدائیگی کرے گا ۔ اور بالترتیب مختلف اقساط میں اُن کو ادئیگی کی جائے گی ۔ اس سے کم روزگار والے لوگوں کی ٹھیک ٹھاک آمدنی ہوگی ۔ اس لئے لوگوں کو چاہیے ۔ کہ اس موقع سے فائدہ اُٹھائیں ۔ تقریب سے ایس ڈی ایف او محمد آصف ، ممبر تحصیل کونسل قاضی فضل معبود ، کمیونٹی کی طرف سے آصف رضا ، ریٹائرڈ صوبیدار محمد عمر نے بھی خطاب کیا ۔


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق