تازہ ترین

ایک مہینے کے اندرحکومتی اعلانات پرعمل درآمد نہ ہوا تو بھرپور احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔ایم پی اے سلیم خان

چترال(نمائندہ چترال ایکسپریس) پاکستان پیپلز پارٹی ضلع چترال کے صدر، ممبر صوبائی اسمبلی اور ڈیڈک کے چیئر مین محمد سلیم خان نے بڑی تعداد میں پارٹی کارکنوں کے ہمراہ چترال پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو ایک ماہ کی ڈیٹ لائن دی ہے کہ اگر چترال کے سیلاب اور زلزلہ متاثریں کے لئے وزیر اعظم میاں محمدنوازشریف اور وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے اعلانات پر عمل در آمد نہ ہوا تو عوام سڑکوں پر نکل کر شدید احتجاج کرنے پر مجبور ہوگی۔اُنہوں نے کہا کہ گزشتہ سال جولائی کے مہینے میں سیلاب اور اکتوبر کے مہینے میں زلزلہ سے ضلع چترال کا انفراسٹرکچر بڑی طرح متاثر ہوا تھا۔اس موقع پر وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اور وزیر اعلیٰ خیبرپختونخواپرویز خٹک نے چترال کا دورہ کرکے انفراسٹرکچر اور متاثرین کی مکمل بحالی کا اعلان کئے تھے جن میں سڑکوں ،پُلوں،آبپاشی اور آپنوشی اسکیموں کی بحالی زرغی قرضوں کی معافی جبکہ گھروں کے نقصانات کے ازالے کے لئے دو لاکھ اور ایک لاکھ شامل تھے۔بد قسمتی سے 8ماہ گزرنے کے باوجود اُن اعلانات پر عمل در امد نہیں ہوا۔جبکہ متعلقہ اداروں کی طرف سے سروے کے بعد دس ارب روپے نقصانات کا تخمینہ لگا کر رپورٹ حکومت کو پیش کی گئی تھی۔اب خیبر پختونخواہ کے ذمہ دار حکام نقصانات کے ازالے پر معذورت کا اظہار کر رہے ہیں۔اس طرح مرکزی اور صوبائی حکمرانوں کے اعلانات ہوائی ثابت ہوئے اُنہوں نے کہا کہ چترال ایک پسماندہ اور متاثر علاقہ ہے حکومت کو عوام کے مشکلات کی طرف بھر پور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔چترال کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔جو تھوڑا بہت فنڈ ملے ہیں اُن پر وہ لوگ بیٹھے ہوئے ہیں جوچترال کی پسماندگی کاکوئی پر واہ نہیں کرتے ہیں۔سندھ حکومت کی طرف سے دئیے گئے 5کروڑ روپے بھی منصوبوں کی نشان دہی کے باوجود خرچ نہیں کئے جا رہے ہیں۔سلیم خان نے کہا کہ ڈیڈک چیئرمیں کی حیثیت سے میں نے تمام حکومتی دروازے کھٹکٹائے مگر کہیں سے بھی حکومتی اعلانات کے عملی ثبوت نہیں ملے۔انہوں نے مزیدکہاکہ دروش ہسپتال اوربونی ہسپتال کے لئے کروڑوں روپے پاس کروایاہے مگرمتعلقہ حکام اُن میں کام شروع کرنے کی زحمت نہیں کررہے ہیں۔تمام محکماجات اپنے قبلہ دوست کرکے چترال کی پسماندگی کومدنظررکھتے ہوئے چترال میں بحالی کے کاموں کوتیزکیاجائے۔اُنہوں نے کہا کہ ایک ماہ کے اندر حکومتی اعلانات پر عمل در امد نہ ہوا تو چترال میں آل پارٹیز کے زیر سایہ ایک بھر پور احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔وزیر اعظم ہاؤس اور وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے احتجاج اور دھرنا دیا جائے گا۔

Advertisements

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى