تازہ ترین

آر آئی سی ایچ پروجیکٹ کی تعاو ن سے کیلاش کے طلباء کے لیے مطالعاتی دورے کا ا نعقاد

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس)آر آئی سی ایچ پروجیکٹ ٹورزم ڈیپارٹمنٹ خیبرپختونخواکی تعاو ن سے ڈی آے ڈی آر ایس سوسائٹی چترال نے کیلاش کے طلباء کے لیے ایک مطالعاتی دورے کا ا نعقاد کیا ۔جس میں کیلاش کمیونٹی کے مختلف سرکاری اورغیرسرکاری سکولوں کے طلباء نے شرکت کی ۔طلباء کو چترال میوزیم ،شاہی قلعہ ،اور دوسرے مقامات کا دورہ کروایا گیا۔اس موقع پرپروجیکٹ منیجرڈی آے ڈی آر ایس سوسائٹی شہلانے ثقافتی ورثے کی احیاء کاپروگرام کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ اِس دورے کا مقصد ایک دوسرے کے ثقافت سےآگاہی حا صل کرنا اور طلباء کو چترال کے ا ہم مقامات کا مطالعاتی دورہ کر وانا تھا،تاکہ ہمیں ایک دوسرے کے ثقافت سے آگاہی حاصل ہوگی اور اپنے ثقافت کو محفوظ کرنے کا موقع ملے گا۔چترال کی منفردثقافت پاکستان کوایک امن کا پیغام دیتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ چترال میں 14زبانیں بولی جاتی ہے وادی چترال کی ایک الگ پہچان ہے ۔ان زبانوں کوآنے والی نسلوں کے لئے محفوظ کرناہماری ذمہ داری ہے اس حوالے سے صوبائی حکومت خیبرپختونخوا ٹورزم ڈیپارٹمنٹ کے زیراہتما م صوبے کے تمام اضلاع میں ثقافتی ورثے کی احیاء کاپروگرام شروع کیا۔جس سے ہماری زبان ،ثقافت اورکلچرکوفروغ ملے گی۔اس موقع پرکالاش طلباء عر ب گل نے وادی کیلاش کی منفردثقافت پرمختصرروشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ وادی کیلاش چترال شہرسے تقریبا30کلومیٹرپہلے مغرب کی طرف واقع ہے ایک طرف وادی رمبور،دوسری طرف وادی بمبوریت اورتیسری طرف وادی بریرہے لیکن ان سب میں مرکزی حیثیت بمبوریت کوحاصل ہے۔انہوں نے کہاکہ وادی کیلاش کے خواتین کی مخصوص ثقافت اورتہذیب ان کی پہچان ہے خواتین کاکالالباس ،سرپرمخصوص دم دارٹوپی اورگلے میں موتیوں کے ہارانہیں پوری دنیاسے الگ پہچان دیتے ہیں۔


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
مزید دیکھائیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق