کھیلوں کی خبریں

پی ایس ایل کتنی کامیاب؟

متحدہ عرب امارات کے میدانوں میں پاکستان سپر لیگ کا رنگا رنگ میلہ اختتام پذیر ہوگیا اور فتح کا تاج اسلام آباد یونائیٹڈ کے سر پر سجا۔


قومی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق نے ایک بار پھر اپنی فٹنس اور کارکردگی سے مختصر ترین دورانیے کی کرکٹ میں اپنا لوہا منوایا۔

لاہور اور کراچی کی مضبوط اور مہنگی ترین ٹیمیں ٹورنامنٹ میں کسی خاطر خواہ کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرسکیں تاہم کوئٹہ کی نسبتاً کمزور سمجھی جانے والی ٹیم نے شاندار پرفارمنس دکھا کر ناقدین کے منہ بند کردیے۔

پی ایس ایل کے افتتاحی ایڈیشن سے جہاں پاکستان سپر لیگ کے انعقاد کا وہ خواب پورا ہوا جو سابق چیئرمین پی سی بی ڈاکٹر نسیم اشرف نے سنہ 2007 میں اپنے دور میں دیکھا تھا وہیں مقامی کھلاڑیوں کو بین الاقوامی کھلاڑیوں کے ساتھ گراؤنڈ اور ڈریسنگ روم شیئر کر کے ایک نیا تجربہ بھی حاصل ہوا۔

پاکستان سپر لیگ کے سنسنی خیز اور دلچسپ مقابلوں میں جہاں تجربہ کار اوورسیز کھلاڑیوں نے اپنی اپنی ٹیموں کے لیے فتح گر پرفارمنس دی وہیں مقامی کھلاڑیوں میں چھپا ٹیلنٹ بھی کھل کر سامنے آیا۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے محمد نواز ہوں، اسلام آباد یونائیٹڈ کے رومان رئیس یا پھر پشاور زلمی کے محمد اصغر۔ ان سبھی نوجوان کھلاڑیوں نے جہاں بہترین انفرادی کارکردگی دکھائی وہیں ایشیا کپ اور ورلڈ ٹی 20 ٹورنامنٹ کے لیے سلیکٹرز کی نظروں میں بھی آگئے۔

Image copyrightAFP

محمد نواز اور رومان رئیس کو تو فوری طور پر میگا ایونٹ کے حتمی سکواڈ میں شامل بھی کر لیا گیا تاہم رومان فٹنس مسائل سے دوچار ہونے کے باعث یہ جگہ برقرار نہ رکھ سکے۔

پاکستان سپر لیگ کا ایک اور اہم پہلو یہ بھی رہا کہ چند وہ کھلاڑی جو پہلے پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں لیکن ایک عرصے سے سلیکٹرز کی نظروں سے اوجھل تھے، وہ بھی اپنا لوہا منواتے ہوئے ایک بار پھر قومی ٹیم کا حصہ بنے۔

ان میں ایک نام محمد سمیع کا ہے جو رومان رئیس کی جگہ ٹیم میں شامل ہوئے جبکہ ان کے علاوہ پی ایس ایل کے واحد سنچری میکر شرجیل خان نے بھی ایسی پرفارمنس دی کہ سلیکٹرز کو انھیں ٹیم میں جگہ دیتے ہی بنی اور یہ دونوں اب ایشیا کپ اور ورلڈ ٹی 20 میں گرین شرٹس کی نمائندگی کریں گے۔

قومی ٹی 20 ٹیم کے کپتان شاہد آفریدی کے مطابق پی ایس ایل کے ابتدائی ایڈیشن سے نوجوان بولرز کی تو اچھی خاصی تعداد سامنے آئی ہے تاہم پاکستان ٹیم کو ایک طویل عرصے سے جس شعبے میں ناکامی کا سامنا ہے یعنی بیٹنگ اس میں کوئی نیا کھلاڑی ان کی نظروں کو بھا نہیں سکا۔

شاید اسی وجہ سے سٹار آل راؤنڈر نے بھی ورلڈ ٹی 20 کے بعد ریٹائرمنٹ کے اپنے فیصلے پر نظر ثانی شروع کر دی ہے۔

Image copyrightAFP

پاکستان سپر لیگ کے مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ لیگ اس حوالے سے کوئی خاص کامیابی حاصل نہ کرسکی کہ انفرادی طور پر شاندار کارکردگی دکھانے والے سبھی کھلاڑی یا تو پہلے پاکستان کی طرف سے بین الاقوامی کرکٹ کھیل چکے ہیں یا پھر وہ اوورسیز کھلاڑی ہیں جو دنیا بھر میں ٹی20 لیگز کھیلتے رہتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ جس مقصد کے لیے اس لیگ کا انعقاد کیا گیا تھا یعنی نئے ٹیلنٹ کی تلاش، پی ایس ایل کے پہلے ایڈیشن سے کم از کم وہ مقصد پورا نہیں ہوا۔

دوسری جانب ٹورنامنٹ کے منتظمین اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق پی ایس ایل بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوئی ہے اور باقاعدگی سے اس کے سالانہ بنیادوں پر انعقاد سے جہاں پاکستان کے ان علاقوں میں کرکٹ کو فروغ ملے گا جہاں باقاعدہ کرکٹ کھیلنے اور دیکھنے والوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے تو وہیں نئے کھلاڑی بھی سامنے آنا شروع ہوجائیں گے۔

پاکستان سپر لیگ کے دبئی اور شارجہ میں کامیاب انعقاد سے سامنے آنے والا مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ بنگلہ دیش میں شیڈول ایشیا کپ اور بھارت میں کھیلے جانے والے ورلڈ ٹی20 کے لیے جہاں قومی کھلاڑیوں کو بھرپور میچ پریکٹس میسر آئی وہیں برصغیر کی پچوں سے مانوس بلے بازوں اور بولرز کا ایک اچھا کمبی نیشن بھی تیار ہوگیا۔

شائقین کرکٹ کو توقع ہے کہ قومی کھلاڑی پاکستان سپر لیگ سے حاصل ہونے والے تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے ایشیا کپ اور ورلڈ ٹی20 میں شاندار پرفارمنس دکھائیں گے اور عالمی مقابلوں میں روایتی حریف بھارت کے خلاف کامیابی حاصل نہ کرنے کی روایت کو بھی ختم کریں گے۔

بشکریہ بی بی سی اردو ڈاٹ کام

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق