اقبال حیات آف برغزی

جو کی روٹی سے ناآشنائی

بائی پاس روڈ پر سرحد سے تعلق رکھنے والا ایک عمر رسیدہ شخص پیٹھ پرسامان اٹھائے جارہا تھا کہ اچانک قریب سے گذرتی ہوئی ایک گاڑی ان کے سامان کی گٹھڑی سے ٹکرا کربے نیازی سے گذرگئی۔وہ لڑکھڑا کر زمین پر گری۔اسے سہارا دے کرجب اُٹھایا تو کپڑے جھاڑ کر آھ بھرنے کے بعد کہا کہ ’’جب تک انسان کا پیٹ جَو کی روٹی سے آشنا نہ ہوتو اس سے انسانیت کا تقاضا کرنا حماقت کے مترادف ہے۔‘‘
اس معمر شخص نے ایک جملے میں پوری تاریخ لپیٹ دی۔جہاں اس کا سرا سر کار دوعالم ﷺ کی حیات طیبہ تک پہنچتا ہے۔وہاں یہ نصف صدی قبل تک ہماری معاشرتی زندگی کے رنگ وروپ کا عکاسی ہے۔جَوکی روٹی کو بطور خوراک اپنانے کے دوران انسان بربریت اور حیوانیت کی ذلالت سے شرافت ،اخلاق اور ایک دوسرے سے حسن سلوک کے ارفع مقام تک پہنچا۔اور باہمی مہرو محبت اور جذبۂ رواداری کی صفات فاخرہ سے مزین رہا۔آج انواع واقسام کی نعمتوں سے سرفراز انسان اخلاقی اقدار اور طرز زندگی کے اوصاف حمیدہ سے ناآشنا خدا کی زمین پرروان دوان ہے۔ایک دوسرے کا غم بانٹنے کی تاکید کے حامل مذہب کے پیروکار ہونے کے باوجود وحشیانہ اور باغیانہ طرز عمل کے حامل بنے جارہا ہے۔۔گاڑی میں سوار پیدل چلنے والے کو پرکاہ کے قابل نہیں سمجھتا۔سڑک پر کھڑے گندے پانی پر گذرتی ہوئی گاڑی غلاظت دوسروں پراُچھال کر گزرجاتی ہے۔اور اس غیر انسانی فعل کا احساس تک نہیں ہوتا۔خالی گاڑی میں موسیقی کی دھن میں مست انسان کسی دوسرے پیدل چلنے والے ہم جنس کو اپنے ساتھ بیٹھانے پر عار محسوس کرتا ہے۔الغرض ہر شعبہء حیات میں انسانی اقدار کو کچلنے اور جنگل کے قانون کی عملداری کا منظر نظر آتا ہے۔کسی کو بھی ایک دوسرے کے حقوق کا خیال اور نہ ہی کل کی جوابدی کا احساس ہے۔حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ انسان کو خود کو تولنا چاہیئے۔اُس سے پہلے کہ اُسے تولا جائے(یعنی اس کے اعمال میزان عدل میں آجائیں)۔اس سلسلے میں مسلمان پر لازم ہے کہ رات کو سرہانے پر سررکھتے ہی موت کے چھوٹے بھائی یعنی نیند کی آغوش میں جانے سے قبل گذرے ہوئے دن کا از خود محاسبہ کرے۔اور سوچ لے کہ کہیں کسی کا حق تونہیں مارا۔آنکھوں کو غرور کے پردے اپنی لپیٹ میں تو نہیں لئے۔اونچی عمارت کی چھت پرآنکھیں زمین سے ناآشناتونہیں ہوئیں۔زیب وزینت سے آراستہ گھر میں غفلت کی کیفیت تو نہ رہی۔مال ودولت کی بہتات نے خداخوفی کو دل سے نکال تونہیں دئے۔ناجائز آمدن سے حاصل چمچماتی گاڑی کی سیٹ پر بیٹھتے ہی پیدل چلنے والے انسانوں کو چیونٹی تصور تونہیں کیا۔اگر ان سوالوں کا جواب مذہب کے تقاضوں سے ہم آھنگ نہ ہوئے تو موت کے چھوٹے بھائی کی آغوش سے ہی بڑا بھائی (موت) دبوچ لے تو جواب طلبی کے مرحلے میں بچنے کی گنجائش نہ ہوگی۔نہ ناجائز آمدن سہارا بنے گا اور نہ وہ اولاد کام آئینگے جنکی آسودہ حال زندگی کے لئے اپنے عقبیٰ کی بربادی کا بھی خیال نہ رہا۔مگر مجھ کے چند آنسو بہانے اور فاتحہ خوانی کے مرحلے کے اختتام کے فوراًبعد مال خبیثہ کی بندربانٹ کا معرکہ شروع ہوگا۔ایک دوسرے پر جبرو زیادتی کے تازیانے لگنا شروع ہوں گے اور اس ہیجانی کیفیت میں اولاد کی طرف سے بددعا کے تحفے آتے رہینگے اور قبر میں پٹائی کا سلسلہ جاری رہے گا۔


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق