ارشاد اللہ شاد

(رُموز شادؔ )…..’’خوش رہنے کا راز‘‘

…….. (ارشاد اللہ شادؔ ۔بکرآباد چترال)……..
تجربے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اب تک زندگی میں جتنے بھی لوگوں سے ملا ہوں ان میں ہر دوسرا یا تیسرا آدمی مایوسی ، افسردگی ، دل شکستگی اور پست ہمتی کا شکار ہے، کوئی اس جذباتی انتشار کا کم شکار ہے اور کوئی زیادہ ۔
ٓاردو میں محاورہ ہے کہ’’ آنکھ نہ ناک بنو ں چاند سی‘‘ دیکھنے میں ظاہری حسن کے علاوہ باطنی حسن کا ہونا بھی ضروری ہوتا ہے۔ اکثر باطنی حسن شخصیت کے ظاہری خرابی کو چھپا لیتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ سمجھ لیں کہ ہمیں ظاہر کے ساتھ باطن پر بھی توجہ رکھنا چاہیے ۔ مضبوط شخصیت ، جسمانی کمزوری کے باوجود مظبوط اسی لئے کہلاتی ہیں۔ باطن کی کمزوری میں ایک عنصر بد دلی کا ایسا بھی ہوتا ہے جو اسے کمزور بنا دیتا ہے۔بقول شخصے! کہ دنیا کی کوئی مصیبت اتنی مہلک نہیں ہوتی جتنی آدمی کی اپنی سوچ اسے بڑھا چڑھا کر مہلک بنا دیتی ہے۔تاریک پہلو پر ضرورت سے زیادہ نقطہ جمانے سے بد دلی پیدا ہوتی ہے ، کسی نے اسے’’ذہنی مفلسی‘‘ کا نام بھی دیا ہوا ہے۔
دنیا میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک تو خوش رہنا جانتے ہیں ۔ دوسرے خوش رہنا نہیں جانتے ۔
میرا گفتگو من و عن ان شخصیات کے بارے میں ہے جو خوش رہنا نہیں جانتے ۔ ان کی شخصیت کمزور رہتی ہے۔ شخصیت کو اس سے پیچھا چھڑانا چاہیے۔کہتے ہیں کہ بد دلی ایک مخصوص دماغی کیفیت کی پیداوار ہوتی ہے۔ اسے آپ ’’ ڈپریشن‘‘ کہتے ہیں۔ یہ مرض اپنے آپ نہیں پیدا ہوتا ۔ یہ خود ساختہ ہوتا ہے۔ اس کے بڑے مہلک اثرات آدمی پر مرتب ہوتے ہیں۔ آج کل تو آدمیوں میں ڈپریشن عام مرض بن گیا ہے۔ ہمارے دور میں طرح طرح کے مسائل اس کا باعث ہیں۔ذیل میں بیان کردہ چند نکات سے نہ صرف آپ ڈپریشن کو شکست دے سکتے ہیں بلکہ اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو بھی اس عذاب ناک بیماری سے نجات دلا سکتے ہیں۔
وہ شخص جو مذہبی ذہن کا حامل اور اللہ رب العزت پر توکل کا عادی ہوتاہے، اسے یہ مرض مثل النّادر کالمعدوم ہی لگتا ہے۔ایسے افراد خود پر بد دلی کو طاری نہیں ہونے دیتے اور خدا سے ہر وقت اچھائی کی توقع رکھنے کے باعث یہ متحرک اور فعال رہتے ہیں، نتیجے میں ان کے کام بنتے رہتے ہیں۔
ہم جس دنیا میں سانس لے رہے ہیں وہاں ہمیں اپنی زندگی میں ہر وقت دوسروں سے مدد اور تعاون کی ضرورت رہتی ہے۔ اس سے ہمیں مفر نہیں۔ یہ صحیح ہے کہ دنیا میں مخلص لوگوں کے علاوہ خود غرض اور لالچی لوگ بھی ہوتے ہیں مگر اس کے باوجود دیانت دار، ہمدرد اور مخلص افراد بھی کم نہیں ہوتے ۔ اپنی کاوش سے ایسے لوگ بھی مل جائیں گے جو ہمدرد اور تعاون کرنے والے ہوں۔ اگر آپ نے چند اچھے دوست بنا لئے تو بد دلی سے آپ کو ضرور نجات مل جائے گی ۔ ان کی محبت اور توجہ آپ کے اندر کی مایوسی ختم کر سکتی ہے۔ اب دوسری بات سنیں۔ اچھے اوپُر تعاون ساتھیوں کے علاوہ بد دلی سے چھٹکارے کیلئے ایک کام اور کریں ۔ اپنے آپ کو کمزور ، حقیر ، بے وقعت سمجھنا چھوڑ دیں۔ احساس کمتری مت اوڑھیں۔ یہ خیال آپ کو جتنا نقصان پہنچاتا ہے اس کو آپ کو اندازہ نہیں ہو سکتا ۔ ہوتا یہ ہے ذرا سی سر زنش سے آپ کے اندر بڑھی ہوئی حساسیت آپ کو افسردہ کر دیتی ہے۔آپ کے اندر بہت سی کمزوریاں ہو سکتی ہیں۔ لیکن اچھائیوں اور لیاقتوں کی کمی بھی نہیں ہوگی۔ کسی وقت بیٹھ کر اپنی لیاقتوں اور صلاحیتوں کا شمار کریں۔ اس سے آپ کو اپنی قدر و قیمت کا اندازہ ہوگا ۔آپ دیکھیں گے کہ آپ اس قدر بے مایہ یا حقیر نہیں ، جتنا آپ نے خود کو سمجھ لیا تھا۔
اسی طرح ایک تیسری بات بھی ہے ، کبھی کبھی سوچیں کہ جن مشکلات سے آپ دوچار ہیں ان میں اکیلے نہیں ۔ آپ کو بہت سے لوگ ایسے نظر آئیں گے جو آپ سے بھی بدتر حالات میں گھرے ملیں گے۔ اگر ان میں سے کسی کی آپ مدد کر سکیں تو کریں۔ ایسا کرنے سے آپ کو ایک روحانی مسرت حاصل ہوگی جو آپ کے اندر مضبوطی پیدا کر دے گی ۔ آپ کو اپنی مایوسی اور بد دلی کم نظر آئے گی اور ان سے بہتر طور پر نمٹانے کی انرجی حاصل کر سکیں گے۔ بد دلی کا شکار افراد کے دماغ میں عمومََا منفی خیالات پیدا ہوتے رہتے ہیں ۔ اگر احساس ہو کہ آپ زیادہ تر ایسی ہی مایوس کن باتیں سوچتے ہیں جو اپنی نوعیت میں مایوس کن ہوتی ہیں تو انہیں ایک وارننگ سمجھیں۔ ان پر لاک لگائیں۔
آدمی کا دماغ ایک ریڈیو ریسیور کی طرح ہوتا ہے جس میں ٹرانسمیشن سے نشر ہونے والی آوازیں وصول کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ لٹو گھما کر آپ frequencyبدل دیتے ہیں ، کوئی دوسرا نشریہ سنائی دینے لگتا ہے سو یوں کریں کہ جب آپ پر منفی خیالات کی یلغار ہو رہی ہو ۔ تو چینل بدلیں ۔۔ انہیں خوشگوار باتوں کی سمت لے جائیں۔
اگر ماضی کی غلطیاں اور مشکلات یاد آرہی ہوں تو ذہن کو گھما کر انہیں ان یادوں کی طرف مرکوز کریں جن سے آپ کو مسرت ملی تھی ، کامیابیاں حاصل ہوئی تھیں۔اس سے آپ کو بد دلی کی دلدل سے نکلنے میں مدد ملے گی۔ ہم نے آپ کیلئے شُد بُد چند اصول سپرد قلم کئے ہیں یہ زبانی مشورے ہیں اور عملی اقدام کے محتاج۔ ۔۔۔یہ عملی اقدامات آپ ہی اٹھا سکتے ہیں ۔ ان پر عمل کر کے دیکھیں ، کس طرح آپ کے اوپر سے بد دلی کے گھنے بادل چھٹتے ہیں اور کس طرح آپ کے اندر امنگ اور حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔ یاد رکھیں شخصیت بنانے میں وقت درکار ہیں ، ایک اور محاورہ وصل کرتا ہوں کہ ’’ آدمی آدمی انتر ، کوئی ہیرا کوئی کنکر ‘‘ اس لئے شخصیت کو نکھارنے اور سنوارنے کا عمل طویل ہے، ان پر ثابت قدمی سے چل کر ہی کامیابی مل سکتی ہے۔یہ آپ پر dependکرتا ہے کہ آپ اپنی شخصیت کو نکھارنے اور سنوارنے کیلئے ان اقدامات پر عمل پیرا ہوتے ہوں یا نہیں، یہ آپ کیلئے سوالیہ نشان ہے؟؟؟
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى