تازہ ترین

وزیر اعظم اور وزیراعلیٰ چترال میں سیلاب زدہ انفراسٹرکچروں کی بحالی میں غیر معمولی تاخیر کا سخت نوٹس لے۔سردار حسین

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس) چترال سے صوبائی اسمبلی کے رکن سید سردار حسین شاہ نے صوبائی حکومت پر زور دیا ہے کہ اس سال محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کے مطابق چترال میں موسم گرماکے دوران آنے والی مون سون بارشوں کی آمد اور گزشتہ سال کی طرح سیلابوں کی تباہ کاریوں سے بچاؤ اور متاثرین کی فوری ریلیف کے لئے ابھی سے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں جبکہ گزشتہ سال کے تباہ شدہ انفراسٹرکچروں کی بحالی اور حفاظتی پشتوں کی تعمیر کے لئے فنڈز ریلیز کئے جائیں جن کا ابھی تک نہ ہونا قابل افسوس بات ہے۔ چترال کی مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ گزشتہ سال مون سون بارشوں نے چترال کے طول وغرض میں تباہی وبربادی پھیلادی تھی جس کے ممکنہ خطرات سے ابھی سے بچاؤ کے لئے اقدامات کی ضرورت ہے اور پی ڈی ایم اے کو مناسب مقدار میں اشیائے خوردنوش ، خیمے ، بستر اور ادویات کا اسٹاک مختلف وادیوں میں ابھی سے پہنچانے کا انتظام کرنا چاہئے جن کی ترسیل سیلاب کی آمد کے بعد ممکن نہیں رہتی۔ ایم پی اے نے حکومت کو سخت خبردار کرتے ہوئے کہاکہ آنے والی سیزن میں اگر گزشتہ سال کے اسکیل میں مون سون بارشیں ہوئیں تو اس سال کی تباہی بھی خوفناک ہوگی کیونکہ اکثر سیلاب زدہ علاقوں میں ندی نالے بھر چکے ہیں اور سیلاب کا رخ سیدھا گاؤں کی طرف ہوجائے گا۔ انہوں نے اس بات پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ صوبائی حکومت نے سڑکوں اور پلوں کی بحالی اور حفاظتی اقدامات کے لئے سی اینڈ ڈبلیو اور ایریگیشن کے محکمہ جات کو مطلوبہ فنڈ ابھی تک جاری نہیں کیا ہے جبکہ چند ہفتوں بعد گرمی کی آمد پر دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کا سطح بڑھنا شروع ہوجائے گی ۔ا نہوں نے کہاکہ اگرچہ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ نے سیلاب کے موقع پر خود چترال آکر احکامات جاری کئے تھے لیکن بیوروکریسی اس سلسلے میں روڑے اٹکارہی ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ اے ڈی پی کا فنڈز کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے ۔ سردار حسین نے وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پر زور دیتے ہوئے کہاہے کہ چترال میں سیلاب زدہ انفراسٹرکچروں کی بحالی میں غیر معمولی تاخیر کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ذمہ دار افسران کے خلاف کاروائی کی جائے اور بحالی کا کام فی الفور شروع کرکے عوام میں پھیلی بے چینی کو دور کیا جائے۔



اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

اترك تعليقاً

إغلاق