تازہ ترین

آواز فورم چترال کے زیر اہتمام عوامی کھلی کچہری کا اہتمام

چترال ( نمائندہ چترال ایکسپریس ) ساوتھ ایشیاء پارٹنرشپ کے تحصیل آواز فورم چترال کے زیر اہتمام عوامی کھلی کچہری کا اہتمام کیا گیا ۔ جس میں ایم پی اے اور چےئرمین ڈیڈیک سلیم خان بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے اور سابق ایم پی اے اورضلعی صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) سید احمد خان نے پروگرام کی صدارت کی۔جبکہ پروگرام میں وکلاء، کونسلرز اور خواتین و حضرات کثیر تعداد میں شرکت کیں۔ شرکاء کی طرف سے بہت سے مسائل کی نشاندہی کی گئی ۔ جن کے حل کیلئے ایم پی اے نے اپنی طرف سے ہر ممکن کوشش کی یقین دہانی کی ۔ ان مسائل میں زلزلہ سے متاثرہ باقی ماندہ افراد کی امداد ، چترال ضلعے کو ہارڈ ایریا میں دوبارہ شامل کرنا، کوغذی تھانہ کی چاردیواری یا گاؤں سے باہر منتقلی ، گائنی ہسپتال جنگ بازار میں پرائیویٹ رومز کی فراہمی، چترال بونی روڈ کی دیکھ بھال ، سیلاب سے متاثرہ زرگراندہ پل کی دوبارہ تعمیر، موڑدہ میں زنانہ انتظار گاہ اوربازار میں پبلک لیٹرین کی تعمیر، ایون درخناندہ کیلئے پانی کی فراہمی، شیاقو ٹیک میں کوڑا کرکٹ کو ٹھکانہ لگانے سے پیدا شدہ مسائل، کجو گاوں میں ڈسپنسری ، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے محروم مستحقین کو شامل کرنا، بمبوریت روڈکی مرمت کے علاوہ سیلاب سے متاثرہ انفراسٹرکچر کی فوری بحالی شامل تھے۔ چےئرمین ڈیڈک ایم پی اے سلیم نے کہاکہ بعض مسائل ضلعی انتظامیہ کے زریعے حل کرنے کیلئے مارچ کے مہینے دوبارہ سرکاری سطح پر کھلی کچہری رکھی جائیگی ۔ سلیم خان نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت تعلیم اور صحت کے شعبے میں انقلاب لانے کا بلند بالا دعوے تو کررہی ہے مگر زمینی حقائق انکے بالکل برعکس ہیں۔ تین سالوں کے اندر صوبے میں ایک ڈسپنسری بھی نہیں دی گئی ہے جبکہ سال میں ایک ایم پی اے کو صرف ایک پرائمیری سکول اے ڈی پی میں دی جاتی ہے ۔ جس کو انتہائی ضرورت کے مقام پر رکھا جاتا ہے۔ ایم پی اے نے عوامی مسائل کے حل کیلئے آواز فورم کی کوششوں کی تعریف کی ۔ کھلی کچہری سے سید احمد خان نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہاکہ نواز شریف کی حکومت میں چترال کی طرف خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ مرکزی سطح کے مسائل مرکزی حکومت کے نوٹس میں لائے جائیں گے ۔ اس سے قبل ڈسٹرکٹ کوراڈنیٹر سیب محمد اسماعیل اور ڈسٹرکٹ پروگرام آفیسر اسیہ اجمل نے خطاب کرتے ہوئے ادارے سے متعلق تفصیل سے روشنی ڈالی ۔ آواز فورم کے ضلعی صدر قاضی سجاد احمد ایڈوکیٹ نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق