ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

صدا بصحرا…..نئے کشمیر کا نعرہ مستانہ

……..ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ؔ

پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے کوٹلی آزاد کشمیر میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے نئے کشمیر کا نعرہ مستانہ بلند کیا ہے ۔ اب آزاد کشمیر میں نئے خیبر پختونخوا کی طرح نئے کشمیر کا نعرہ گونج رہا ہے اگر نئے کشمیر کا نعرہ سونامی کی طرح چل گیا تو بیرسٹر سلطان محمود آزاد کشمیر میں پاکستان تحریک انصاف کے نامزد وزیر اعظم ہونگے ۔ اب تک آزاد کشمیر کے عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہیں ہوا۔ اس وقت مسلم لیگ( ن )اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان آزاد کشمیر کے اندرووٹر لسٹوں کا جھگڑا چل رہا ہے۔ مسلم لیگ( ن) پر اور پی ٹی آئی نئی لسٹوں کی تیاری چاہتی ہیں۔ پیپلز پارٹی پرانی لسٹوں پر انتخابات کرانا چاہتی ہے ۔ جماعت اسلامی ، جمعیت العلماء اسلام اور مسلم کانفرنس خاموشی سے تماشا دیکھ رہی ہیں ۔ پاکستان تحریک انصاف فوج کی نگرانی میں انتخابات کرواکر سونامی کو آزاد کشمیر میں داخل کراناچاہتی ہے۔ لاہور ، کراچی اور اسلام آباد کی طرح مظفر آباد بھی پی ٹی آئی کا نعرہ کرپٹ نظام اور کرپٹ الیکشن کمشنر ہے۔ الیکشن کمیشن پر پی ٹی آئی کا اعتماد نہیں ہے۔ خان صاحب فرماتے ہیں کہ الیکشن کمیشن ہر حال میں فوج کے ذریعے انتخابات کروائے۔ ہمارے کرم فرما پروفیسر ایس این فاطمی نے اس پر گرہ لگائی ہے اور تجویز دی ہے کہ ایک لیفٹیننٹ جنرل کو چیف الیکشن کمشنر مقرر کیا جائے۔ چھ میجر جنرنلوں کوالیکشن کمیشن کے ممبر کے طور پر نامزد کیا جائے۔ کوئی چالیس برگیڈےئر فوج سے لے کر ریٹرنگ آفیسر لگائے جائیں۔ میجر سے لے کر کرنل رینک تک کے فوجی حکام کو پریذائڈنگ آفیسر بنایا جائے۔ نائب صوبیدار سے لے کر کیپٹن رینک تک کے آفیسروں سے اسسٹنٹ پریذائڈنگ آفیسر اور پولنگ آفیسر کی ڈیوٹی لی جائے۔ اس صورت میں الیکشن آزادانہ ،منصفانہ ، صاف شفاف اور ازروئے انصاف ہونگے۔ نہ بھی ہوئے تو کسی کو انگلی اٹھانے کی اجازت نہیں ہوگی ۔ سب مہر بہ لب ہونگے ۔ سونامی نہ بھی آیا خان صاحب انتخابات کی شفافیت کو تسلیم کریں گے۔ “امپائر کی انگلی “پر انہیں اعتبار ہوگا۔ یہ جملہ معتر ضہ تھا۔آج کا موضوع نیا کشمیر ہے۔خان صاحب نے اپنی کو ٹلی والی تقریر میں کہا ہے کہ نئے خیبر پختونخوا کے بعداب ہمارا مشن نیا کشمیر بنانا ہے ۔یہاں تھوڑی سی گڑ بڑ نظر آتی ہیں ۔اس میں دو بڑی روکاٹیں ہیں ۔پہلی رکاوٹ یہ ہے کہ کشمیری مہاجرین خیبرپختونخوا میں بھی آباد ہیں ۔یہاں ان کا حلقہ انتخاب ہے ۔دوسری روکاوٹ یہ ہے کہ ریڈیو ،ٹیلی وژن اور اخبارت نے آزاد کشمیر میں نیا خیبر پختونخوا کا بھانڈ ا پھوڑ دیا ہے ۔اب وہ کہیں گے کہ نیا نہیں ہمیں گھسا پٹا، لٹا پٹا پرانا کشمیرہی چاہیے۔چوہا لنڈورا ہی بھلا۔اک فلمی گیت میں ٹیپ کا بند ہے “اللہ نہ کرے ” نئے خیبر پختونخوا کا حال دیکھ کر کو ٹلی اور مظفر آباد کے ووٹر کہتے ہیں “اللہ نہ کرے” ایک منچلے نے “کشمیر بنے گا پاکستان ” کا نعرہ لگایاتو ہمارے محروم دوست پروفیسر عبید الرحمن نے کہا اس نعرے کی تاثیر اب الٹی ہو گئی ہے ۔ہم بڑے بڑے جلسوں اور ریلیوں میں بڑے جوش و خروش کے ساتھ نعرہ لگایا کرتے تھے “کشمیر بنے گا پاکستان “ہمارے نعروں کا مطلب تھا کہ کشمیر کو پاکستان جیسا بنا ئینگے ۔مگر اللہ کو کچھ اور منظور تھا ۔اللہ پاک نے امریکہ کو بھیجا سعودی عرب کے لوگوں کو یہاں اتارا، افعان مہاجرین کی فوج ظفر موج کو لاکر پاکستان میں بسایا۔پھر امریکہ سے اسلحہ آیا ۔خود کش جیکٹ آگئے اور پاکستان بھی کشمیر کی طرح آگ کی لپیٹ میں آگیا ۔گو یا پاکستان کو کشمیر بنادیا گیا ۔اب” کشمیر بنا ہے پاکستان “کیونکہ اب تو بھارتی فوج اور راء کے کا رندے سول لباس میں پاکستان کے اندر آکر ڈٹ گئے ہیں ۔سری نگر، اودھم پور ، جموں اورامیراکدل کی طرح اسلام آباد ،لاہور ،پشاور ،کراچی،کوئٹہ میں ھارتیوں نے مورچے قائمکئے ہو تے ہیں ۔گلگت اور مظفرآباد میں ان کے مضبوط قلعے قائم ہو چکے ہیں ہمارے نعرے کی تاثیر الٹی ہو گئی ہے ۔اگر کشمیر میں بھی خیبرپختونخوا کی طرح سونامی لانا ہے۔تو اس کا ایک ہی طریقہ ہے۔کم از کم انتخابات تک آزاد کشمیر میں اخبارات، ریڈیو اور ٹی وی پر پابندی لگا ئی جائے ۔پشاور کے کشمیری مہاجرین پر بھی پابندی لگائی جائے۔ پھر آزاد کشمیر میں جاکر اعلان کیا جائے کہ خیبر پختونخوا جنت کا نمونہ بن چکا ہے۔ دودھ اور شہد کی نہریں نظر آرہی ہیں۔تاکہ آزاد کشمیر والوں کو یہ معلوم نہ ہو کہ خیبر پختونخوا میں ترقی کا عمل تین سال سے رکا ہوا ہے۔دفتر ات کا کا م ٹھپ ہو چکا ہے۔لو کل گورنمنٹ کے منتخب نا ظمین اور کونسلر حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔چھوٹے ہسپتالوں کو پرائیویٹائز کیا جا رہا ہے۔ کا لجوں کو نجی تحویل میں دیا جا رہا ہے ۔یو نیورسٹیوں کا حلیہ بگاڑ دیا گیا ہے ۔بڑے ہسپتال کھنڈرات میں تبدیل ہو چکے ہے۔سالانہ ترقیاتی پروگرام کے پیسے ہر سال واپس کئے جاتے ہیں ۔بے روز گاری کی شرح میں 30فیصد اور غربت کی شرح میں 35فیصد اضافہ ہو اہے۔اور سب سے بڑی بات یہ ہے۔کہ کمیونکیشن گیپ یعنی اطلاعات کا خلا بہت بڑ گیا ہے۔خان صاحب کو خیبر پختونخوا کے حالات کا بالکل علم نہیں ہے۔کسی زمانے میں ایوب خان، بھٹو شہید ، جنرل ضیاء اور جنرل مشرف کو اسی طرح تاریکی میں رکھا جاتا تھا۔نئے کشمیر کا نعرہ مستانہ خوب ہے۔لیکن ہمیں ڈر ہے کہیں اس کا انجام کشمیر بنے گا پاکستان کی طرح بھیانک نہ ہو۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

مزید دکھائیں

متعلقہ آپڈیٹ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى
إغلاق