ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

داد بیداد…..شریعت میں قصاص کا حکم

…….ڈکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ ……



پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کو اُن کے سیکورٹی گارڈ نے قتل کیا تھا ۔ قتل کے عینی شاہدین نے گواہی دی ۔ ممتاز قادری نے قتل کا اقرار کیا۔ وہ رنگے ہاتھوں گرفتار ہوا تھا۔ مقدمہ چلا ۔ شرعی قوانین کے تحت قصاص کاحکم دیا گیا ۔ قصاص پر عملددرآمد ہوا۔ تو لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ احتجاج کیا گیا۔ احتجاج کرنے والے شریعت کے پابند اور شرعی قوانین کے نفاذ کا مطالبہ کرنے والے لوگ ہیں۔ اگر سلمان تاثیر گورنر نہ ہوتے ۔ تب بھی اُن کا قتل جائز نہیں تھا۔ کسی کا قتل صرف ایک صورت میں جائز ہوتا ہے جب مجاز عدالت اس قتل کا حکم دے۔ اس کے سوا قتل کا کوئی بھی مقدمہ عدالت میں پیش ہو۔ شریعت میں گواہوں کو دیکھا اور پرکھا جاتا ہے۔ واقعاتی شہادتوں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی حیات طیبہ میں شہادتوں کی بنیا د پر فیصلے صادر کئے ہیں۔ جن میں غیر مسلم کے حق میں اور مسلمانوں کے خلاف فیصلہ آیا ہے۔ خلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم نے بھی پر عمل کیا ہے۔ اسلامی عہد کے مشہور قاضیوں نے اس کی پیروی کی ہے۔ شریعت کی اصطلاح میں قرآن اور حدیث کے واضح حکم کو “نص ” کہا جاتا ہے۔ قصاص کے بارے میں نص موجود ہے۔پارہ 2میں سورہ بقرہ آیت 178اور آیت 179دو آیتیں ہیں جن میں قصاص کو فرض کیا گیا اور قصاص کی علت بھی بیان کی گئی ۔پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے اے ایمان والو ! قتل کے مقدمات میں قصاص تم پر فرض کیا گیا ہے۔ دوسری آیت میں فرمایا گیا کہ قصاص میں تمہارے لئے زندگی کا راز پوشیدہ ہے۔ علمائے تفسیر نے ان آیات کریمہ کی تشریح جو فرمائی ہیں۔ اس میں کوئی ابہام یا تضاد نہیں ہے۔ مسلمانوں کے مختلف فقہی مسالک کے اندر اس پر اختلاف نہیں ہے۔ یہ ایسا مسئلہ ہے جو اختلافات سے بالاترہے۔زیر بحث مقدمے کے اندر ممتاز قادری محکمہ پولیس کا ملازم تھا۔ وردی والا ملازم قسم پریڈ کے دن حلف اٹھاتا ہے کہ میں اپنی ڈیوٹی پر دیانت دار کے ساتھ کاربند رہونگا۔ واردات کے وقت اس نے حلف کی خلاف ورزی کی۔ حلف کو توڑا ۔ اور حلف کو توڑنا شریعت کی رُو سے جائز نہیں ہے۔ یہ جرم ایسا جرم ہے جس کوشریعت میں حرام قرار دیا گیا ہے۔اس کا کفارہ ادا کرناپڑتا ہے۔ کسی بھی مفتی سے فتوٰی لیا جائے وہ حلف توڑنے کے جرم کا کفارہ ادا کرنے کا حکم دے گا۔ ڈیوٹی کے دوران پولیس کا ملازم وردی میں تھا۔اس کے ہاتھ میں سرکاری بندوق تھی ۔ سرکاری کارتوس تھے اور اس کو جو فرض سونپی گئی تھی وہ سلمان تاثیر کی حفاظت کی ذمہ داری تھی۔ سلمان تاثیر کی جان بھی امانت تھی۔ بندوق ، کارتوس ، وردی سب امانت کے ذیل میں درج تھے۔ پولیس کے باوردی ملازم نے امانت میں خیانت کی۔ شریعت کی رُو سے امانت کی حفاظت کا حکم ہے۔یہاں تک کہ اگر کسی ایک مسلمان کے پاس دس دس روپے کے دس نوٹ امانت رکھے وہی دس نوٹ واپس کرنا امانت کی حفاظت ہے۔ اگر کسی ضرورت مند کو ٹوٹے پیسے دے کر 50کے دو نوٹ یا 100کا ایک نوٹ لے لیا تو امانت میں خیانت ہوئی۔ جو شریعت کی رُو سے جرم ہے۔ پولیس کے ملازام نے سلمان تاثیر کی جان لے کر امانت میں حد درجے کی خیانت کی۔ کسی بھی فقہ کا مفتی اس کی خیانت کا دفاع نہیں کرسکے گا۔ اس کے ساتھ عمداً کسی کو قتل کرنے کا جرم اپنی جگہ بہت بڑا جرم ہے۔ شریعت نے اپنی صوابدید پر اپنی مرضی سے کسی کو ایمان اور کسی کے اسلام یا کسی کی نیت پر شک کرنے سے منع کیا ہے۔ شریعت مطہرہ میں دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ مسلمان اور مومن کے لئے خون ناحق حرام ہے۔ علمائے حق نے اسلام کی سب سے بڑی خوبی یہ بیان کی ہے کہ اسلام سلامتی کا دین ہے۔ نزول قرآن سے پہلے عرب کے لوگ خونریزی کرنے والے تھے۔ خاندانوں اور قبیلوں کی باہمی دشمنیان صدیوں تک جاری رہتی تھیں۔ جانوروں کو پانی پلانے کے جھگڑے پر لوگوں کی جانیں لی جاتی تھی۔ راستہ نہ دینے پر لوگوں کو قتل کیا جاتا تھا۔ اسلام کی آفاقی تعلیمات نے عرب کے قبائل کو باہم شیروشکر کردیا۔ وہ آپس میں بھائی بھائی بن گئے۔ صدیوں کی دشمنیاں اسلام کی برکت سے ختم ہوگئیں۔برصغیر پاک وہند میں اولیائے کرام نے محبت اور اخوت کے ذریعے اسلام کو پھیلایا۔ حضرت معین الدین چشتی رحمہ اللہ ، حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ ، حضرت علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ ، حضرت فریدا لدین شکر گنج رحمتہ اللہ علیہ اور دیگر اولیائے کرام کی صحبت میں ہندو ، پارسی ، عیسائی اور دیگر مذاہب کے پیرو کار کئی سالوں تک شریک رہے۔ کئی سالوں کی صحبت کے بعد اُن کو ایمان کی دولت نصیب ہوئی۔اولیائے کرام نے اُن کو نفرت کی نظر سے کبھی نہیں دیکھا۔ شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کی سچائی، صداقت اور فرمان برداری سے متاثر ہو کر خطرناک ڈاکووں نے توبہ کیا۔ ہمارے بزرگوں نے ہوش میں یاد خدا کے ساتھ جوش میں خوف خدا کا درس دیا ہے۔ قصاص پر احتجاج کرنا شریعت مطہرہ کے احکام اور اولیائے کرام کے طرز عمل کی خلاف ورزی ہے۔ ایسے معاملات میں پھونک پھونک کر قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ پارہ 26سورہ حجرات آیت نمبر 6میں افواہوں اور سنی سنائی باتوں پر کان دھرنے سے منع کیا گیا ہے۔ آیت کریمہ کا ترجمہ یہ ہے کہ “جب کوئی فاسق تمہارے پاس خبر لے کر آجائے تو اس کی تحقیقات کرو” اسی ایک حکم پرعمل کیا جائے تو ہمارا معاشرہ امن اور سکون کا گہوارہ بن سکتا ہے

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

اترك تعليقاً

إغلاق