ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

ٓٓٓٓدادبیداد…..ملک کا نام روشن کرنے والیاں

……..ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ؔ …….



لاس اینجلس امریکہ کے سالانہ فلمی میلے میں پاکستان کی بیٹی شرمین عبید چنائے نے ایک بار پھر آسکر ایوارڈ حاصل کرلیا ہے۔ یہ فلمی دنیا کا سب سے بڑا ایوارڈ ہے ۔شر مین عبید چنائے کو پہلا ایوارڈ “سیونگ فیس ” نامی دستاویزی فلم پر ملا تھا ۔جس میں پاکستان کے اندر عورتوں کے چہروں پر تیزآب پھینکنے کے واقعات کو موضوع بنایا گیا تھا ۔اس سال ان کو جس فلم پر آسکر ایوارڈ ملا اس کا نام “اے گرل ان ریور”ہے۔ اس فلم میں پاکستان کے اندر غیرت کے نام پر قتل کو مو ضوع بنایا گیا ہے ۔ایوارڈ کی تقریب میں دنیا بھر سے فلم ، آرٹ اور فنوں لطیفہ کی اہم شخضیات کو بلایا گیا تھا۔ لاکھوں کروڑوں لو گوں نے اس تقریب کو براہراست دیکھا ۔دنیا بھر کے ٹی وی چینلوں نے اس کو دکھایا اور دنیا بھر کے اخبارات میں اس کی تصویریں شائع ہوئیں ۔اب یہ فلم کروڑوں کی تعداد میں فروخت ہو گی اور پاکستان کی بیٹی کو اربوں کے حساب سے ڈالروں میں تولا جائے گا ۔وہ شاہ رخ خان ،سلمان خان ،امتیابھ بچن اور سنجے دت سے زیادہ امیر بن جائینگی۔ جو پاکستان کے لئے ایک اعزاز ہوگا ۔آسکر ایوارڈ کی تقریب میں کروڑوں ناظرین کے سامنے شرمین عبید چنائے نے کہا کہ میں نے پاکستان کا نام روشن کیا ۔انہوں نے کہا کہ ملالہ یوسفزئی نے بھی نوبل انعام حاصل کرکے پاکستان کا نام روشن کیا ہے ۔پاکستان کی بیٹیاں آئندہ بھی پاکستان کا نام اسی طرح روشن کرتی رہینگی ۔اگر پاکستان کا نام روشن کرنے کا سلسلہ جاری رہا ۔تو اگلے سال کاروکاری پر فلم بنے گی ۔پھر وٹہ سٹہ پر فلم بنے گی ۔پھر اس قسم کے شازونادر واقعات کو لیکر پاکستان میں عورت کی مظلومیت اور اسلام کی زن دشمنی کا ڈھنڈورا پیٹا جائے گا ۔پاکستان اور اسلام کے قوانین کا مذاق اڑاکر ہر سال کو ئی نہ کوئی بیٹی ملک اور قوم کا نام روشن کرے گی اور ڈالروں میں تولی جائیگی ۔وجہ یہ ہے کہ پاکستان کے پاس جوہری صلاحیت ہے اور اس قوم کو ہر حال میں دنیا کے سامنے رسوا یا ذلیل کرکے پیسہ کمانا قوم کی ہونہار اور لائق بیٹیوں پر لازم ہو گیا ہے ۔ہمارے دوست پر وفیسر ایس این فاطمی کہتے ہیں کہ اس طرح کی فلمیں بنا کر امریکہ سے ایوارڈ لینے والی لڑکیاں پاکستان کا منہ کالا کرتی ہیں ۔قوم کے چہرے پرکالک مل دیتی ہیں اور اس کے بدلے میں دولت کماتی ہیں۔ اس سے پہلے میراں مائی نامی خاتون نے ” ڈس گریسڈ “کے نام سے فلم بنواکر دولت کمائی تھی ۔ملالہ یوسفزئی نے اسلام اور مسلمانوں کو جاہل یا تعلیم دشمن ثابت کرنے کیلئے ڈرامہ رچا کر دولت اور شہرت کمائی۔ شرمین عبید چنائے نے بھی اسی راستے کا انتخاب کیا۔ “بات چل نکلی ہے۔ دیکھئے کہاں تک پہنچے ” پاکستان ، افغان اور بھارت میں فلم بنانے کے لئے بے شمار موضوعات ہیں ۔بھارت میں شوہر مر جائے تو اس کی بیوی کو زندہ جلا دیا جاتا ہے۔اس کو” ستی”کی رسم کہتے ہیں ۔بھارت کی کسی بیٹی نے اس پر فلم بنا کر ملک کا نام روشن نہیں کیا ۔شرمین عبید چنائے اگر پاکستان کی محبت میں ملک کا نام روشن کرنے کے لئے فلم بناتی اور عورتوں پر ظلم کے خلاف جدوجہد میں مخلص ہو تی تو بھارت میں “ستی”کی ظالمانہ اور جاہلانہ رسم کے خلاف فلم بنا کر عالمی فلمی میلے میں لے جاتی۔ پاکستان میں سالانہ ایک یا دو واقعات تیزاب پھینکنے یا غیرت کے نام پر قتل کے رونما ہو تے ہیں۔ بھارت میں ہر سال 10ہزار سے زیادہ لڑکیاں “ستی “کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں۔شرمین عبید چنائے اگر خواتین پر تشدد کے خلاف فلم بنانے میں مخلص ہو تی تو عافیہ صدیقی کی زندگی پر فلم بناتی جس کو امریکہ نے درندگی کا نشانہ بنایا ۔اس کے دو بچوں کو اس کی نظروں کے سامنے قتل کیا اور پاکستانی سائنسدان خاتون کو 8 سالوں تک مسلسل ٹارچر کر نے کے بعد 92 سال قید کی سزا سنائی۔شرمین عبید چنائے کو علم ہے کہ امریکیوں نے افغانستان اور پاکستان میں 1978 ء سے اب تک35سالوں میں 50 ہزار عورتوں اور بچوں کو قتل کیا۔ 20 ہزار کو تشدد کا نشانہ بنا کر عمر بھر کے لیے معذور کردیا۔امریکی فوج یا ان کے کارندوں ،مزدوروں اور ٹھیکہ داروں کے تشدد سے مرنے یا معذور ہو نے والی ہر خاتون کی زندگی پر فلم بن سکتی ہے۔ مگر ایسی فلم کو آسکر ایوارڈ نہیں ملے گا ۔2003ء سے لیکر2015 ء تک امریکہ کے ڈرون حملوں میں جتنی عورتیں اور جتنے بچے مارے گئے ان کی زندگیوں پر فلمیں بن سکتی ہیں۔مگر ان فلموں کو آسکر ایوارڈ کے لئے منتخب نہیں کیا جائے گا ۔اسرائیل نے بیروت کے اندر شتیلہ کیمپ اور مسلم ہسپتال میں جن عورتوں اور بچوں پر بم برسائے اس کی فلمیں موجود ہیں۔ افغانستان اور پاکستان میں امریکہ نے گلی میں کھیلتے ہوئے بچوں پر جو بم برسائے اس کی فلمیں بھی موجود ہو نگی ۔مگر ایسی فلموں پر آسکر ایورڈ نہیں ملے گا ۔اربوں ڈالر کی دولت ہاتھ نہیں آئیگی ۔امریکہ میں جاکر ایورڈ حاصل کرنے، دولت اور شہرت کمانے کا طریقہ یہ ہے کہ پاکستان اور اسلام کو بدنام کرنے کا کو ئی موضوع ڈھونڈو اور اس پر فلم بناڈالو تو دولت بھی ملے گی اور شہرت بھی ملے گی ۔میں شرمین عبید چنائے کو دعوت دیتا ہو ں کہ کابل، جلال آباد ، پشاور یا کوئٹہ میں امریکی جارجیت کا نشانہ بننے والی کسی لڑکی پر فلم بنائے ۔ وزیرستان ، مہمند ، باجوڑ اور خیبر ایجنسی میں امریکی حملوں میں معذور ہونے والی کسی خاتون کی زندگی پر فلم بنائے ۔ عافیہ صدیقی کی زندگی پر فلم بنائے اور اس فلم پر آسکر ایوارڈ جیت کر دکھائے۔ تب کہیں جاکر پاکستان کا نام روشن ہوگا ۔اب تک پاکستان کا نام روشن کرنے والیوں نے ملک اور قوم کے چہرے پر کالک مل دی ہے۔شاعر نے سچ کہا “ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو “

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

اترك تعليقاً

إغلاق