ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

صدا بصحرا……ایم فل اور پی ایچ ڈی

……..ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ؔ ……



خیبر پختونخوا کے کالجوں میں بحث چھڑ گئی ہے کہ ایم فل اور پی ایچ ڈی اساتذہ اور استانیوں کی ضرورت ہے یا ان کے لئے شجر ممنوعہ ہے۔ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اور ان کے دست راست مشتاق غنی کہتے ہیں کہ ایم فل اور پی ایچ ڈی اساتذہ اور استانیوں کے لئے ضروری ہے۔ ان کو2لاکھ اور 3لاکھ روپے کے خصو صی سکالر شپ تنخواہ کے ساتھ دیکر ایم فل اور پی ایچ ڈی کے لئے بھیجا جا رہاہے ۔ حکومت اگلے 3سالوں میں چار سالہ بی ایس پروگرام کو کامیابی کے ساتھ کالجوں میں نافذ کر کے دو سالہ ڈگری پروگرام کو ختم کرنا چاہتی ہے۔ اسکے لئے اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ایم فل اور پی ایچ ڈی اساتذہ کی بڑی تعداد سے کام لیا جائے گا۔ ماتحت حکام مکھی پر مکھی مارتے ہیں۔ حکام کہتے ہیں کہ بی ایس پروگرام فضول ہے۔ ایم فل اور پی ایچ ڈی کی کوئی ضرورت نہیں۔ کام جاری رکھو۔ تنخواہ لے لو۔ اپنی ترقی کا انتظار کرو۔نوکری مل گئی ہے۔ اس پر شکر کرو۔ پی ایچ ڈی کر کے کیا کرو گے؟ کوہستان، بٹگرام، کرک ، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان یا چترال سے فزکس، کمپیوٹر سائنس یا انگلش کی ہونہار اور گولڈ میڈلسٹ لیکچرر ایم فل میں داخلے یا سکالر شپ کی درخواست کسی بڑی یونیورسٹی کو ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے توسط سے ارسال کرتی ہے تو خاتون لیکچرر کو داخلہ مل جاتا ہے۔ سکالر شپ مل جاتی ہے لیکن ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ این او سی نہیں دیتی۔ اجازت نہیں دیتی۔ لیکچرر سے کہا جاتا ہے۔ ایم فل کا شوق ہے تو ملازمت سے استعفیٰ دے دو۔ خاتون لیکچرر بحث اور تکرار نہیں کر سکتی۔ خاموش رہتی ہے۔ مرد لیکچرر دفتر میں بحث و تکرار کرتا ہے۔ قوانین کے حوالے دیتا ہے ۔ وزیر اعلیٰ اور دیگر رہنماؤں کی تقریروں کے حوالے دیتا ہے ۔عمران خان کی تقریروں اور پی ٹی آئی کے منشور کا حوالہ دیتا ہے تو اس کو ایک کاغذ تھما دیا جاتا ہے۔ کاغذ پر لکھا ہے کہ بٹگرام، بونی، چترال، لکی مروت یا کرک کے کالج کا ٹائم ٹیبل نسٹ (NUST)، قائد اعظم یونیورسٹی ، پشاور یونیورسٹی، پنجاب یونیورسٹی یا انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے ٹائم ٹیبل کے ساتھ نتھی کر کے لے آؤ۔ اگر ایم فل او رپی ایچ ڈی کے کورس ورک کے دوران تم اپنے کالج میں باقاعدگی کے ساتھ کلاسیں لے سکتے ہو تو تمہیں این او سی ضرور ملے گی۔ یہ تمہارا حق ہے۔ ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ لوگ اس کو بیوروکریسی کا حربہ کہتے ہیں۔ میرے تجربے کے مطابق یہ بابو کریسی کا حربہ ہے۔ ہمارے دفتری نظام میں پڑھے لکھے لوگوں کا داخلہ ممنوع ہے۔ میٹرک پاس لڑکا جونیئر کلرک بھرتی ہوا تھا۔ وہ لڑکا 55 سال کی عمر میں ڈائیریکٹر یا ڈپٹی سیکریٹری بن گیا ہے۔ اسکا کام مکھی پر مکھی مارنا ہے۔ اس کا کام جوہر قابل کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔ پشاور، مردان، نوشہرہ، ایبٹ آباد اور کوہاٹ جیسے شہری ماحول کے کالجوں میں پڑھانے والے اساتذہ نے”بابوؤں”کی اس علم دشمنی کا آسان حل نکال لیا ہے۔ وہ کسی پرائیویٹ ادارے کی شام کی کلاسوں میں داخلہ لیتے ہیں۔ اپنے کالج کے صبح کا ٹائم ٹیبل اور نجی ادارے کے شام کا ٹائم ٹیبل لے آتے ہیں۔ گھنٹہ، ڈیڑھ گھنٹے کا سفر ہے۔ آسانی سے کام ہو جاتا ہے۔ بٹگرام ، کوہستان، کرک، لکی مروت، چترال، بونی وغیرہ سے کسی شہر کے نجی ادارے میں کلاس کے لئے شام کو آنا 6گھنٹے سے لے کر 12گھنٹے تک کا سفر ہوتا ہے۔ یہ ممکن ہی نہیں ہوتا۔ اسلئے دیہی علاقوں کے کالجوں میں تدریسی خدمات انجام دینے والی گولڈ میڈلسٹ لیکچرر خاتون ایم فل اور پی ایچ ڈی سے محروم رہ جاتی ہے۔ 2لاکھ اور3لاکھ روپے کے سکالر شپ سے بھی محروم ہو تی ہے۔ آئندہ ترقی اور پیشہ ورانہ مہارت سے بھی محروم ہوتی ہے۔ مرد لیکچرر بھی اس سہولت سے محروم رہتے ہیں۔ قصور اور گناہ یہ ہے کہ دیہی اور پہاڑی علاقوں میں فزکس، ریاضی، کیمسٹری، کمپیوٹر سائنس یا انگریزی پرھاتی ہیں۔ دفتر کا بابو شہری علاقوں کے تدریسی عملے کو جو سہولت دیتا ہے۔ پہاڑی علاقوں کے عملے کو وہ سہولت نہیں دیتا۔ عمران خان، پرویز خٹک اور تحریک انصاف کے لیڈروں کے وژن کی رو سے یہ امتیازی قانون ہے۔ 5سال بعد شہری علاقوں میں خدمات انجام دینے والے 200اساتذہ شام کی کلاسوں میں داخلہ لے کر ایم فل اور پی ایچ ڈی کریں گے۔ جبکہ پہاڑی علاقوں میں نو نہالوں کو پڑھانے والی 200خواتین اور 300مرد لیکچرر اس سہولت سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔ کالجوں کا بی ایس پروگرام چار سالہ پروگرام ہے۔ اسکا آخری سمسٹر ریسرچ کے لئے وقف ہے۔ بی ایس پروگرام میں ریسرچ کون پڑھائے گی؟ اس کی نگرانی کون کرے گی؟ دفتری بابو کا ان امور سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ دفتری بابو ان پڑھ آدمی ہے۔ اسکو یہ بھی نہیں معلوم کہ ایم فل اور پی ایچ ڈی کیا ہوتا ہے؟ اسکو صرف یہ معلوم ہے کہ ایم فل اور پی ایچ ڈی کے بعد استاد کو الاؤنس ملتا ہے۔ ترقی ملتی ہے۔ دفتری بابو اس ترقی اور الاؤنس کو ہر حال میں روکنا چاہتا ہے۔ لوگ اس کو بیوروکریسی کہتے ہیں۔ میں اس کو بابو کریسی کہتا ہوں۔ بابو لوگ مکھی پر مکھی مارنے اور ہر اچھے کام کا راستہ روکنے میں ماہر ہوتے ہیں۔ اسلئے وہ پشاور، مردان اور دیگر شہری کالجوں کے اساتذہ کو ایم فل کی اجازت دیتے ہیں۔ بٹگرام، کوہستان، لکی مروت، کرک اور چترال یا بونی میں خدمات انجام دینے والی گولڈ میڈلسٹ خاتون لیکچرر کی درخواست مسترد کر دیتے ہیں۔ مرد لیکچرر سے سے کہتے ہیں کہ تم 30روپے کے سٹامپ پیپر پر ضمانت دو کہ نسٹ (NUST) اسلام آباد میں کلاس لے کر بونی چترال یا لکی مروت کے کالج میں اپنی کوئی کلاس مس نہیں کرو گے۔ “بابو” ٹائپ کے آفیسر کو یہ بھی پتہ نہیں کہ کالج میں پڑھائی کا یومیہ دورانیہ 6گھنٹہ ہوتا ہے۔ جبکہ اسلام آباد سے چترال کا دو طرفہ سفر 22گھنٹے لیتا ہے۔ پرائیویٹ یونیورسٹی میں شام کی کوئی کلاس بھی 10گھنٹے کے سفر سے کم فاصلے پر دستیاب نہیں ہے۔ اس پر ایک دل جلے نے فقرہ کسا تھا۔ مساوات اور انصاف کی بات نہ کرو۔ بابو کریسی کو زندہ باد کہو۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

اترك تعليقاً

إغلاق