ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

صدا بصحرا ……امریکہ میں نفرت انگریزی

…….ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ ……..


لوگو ں کا خیال یہ ہے کہ گزشتہ 40سالوں کے اندر پا کستان میں نفرت انگیزی کا سارا جال امریکہ نے بچھا یا ہے ۔امریکہ بڑی طاقتوں میں شمار ہوتا ہے ۔اس کا انٹیلی جنس نیٹ ورک بہت وسیع ہے ۔.وہ منشیات ، اسلحہ اور انسانی سمگلنگ کے کاروبار کا سارا منافع پاکستان اور دیگر مسلمان ممالک میں نفرت انگیز تنظیموں کی تربیت کے بعد ان کو اسلحہ ، مو ٹر ، تنخوا ہ وغیرہ دینے پر لگاتاہے اور دہشت گردی کو امریکیو ں نے با قاعدہ کا روبار کا درجہ دیدیا ہے ۔90 فیصد پاکستانیوں کی یہ رائے ہے اور اس رائے کی بے شمار وجوہات ہیں ۔اس رائے کو قائم ہونے میں 40 سال سے زیادہ عرصہ لگا ہے ۔سرد جنگ کے زمانے سے اب تک پاکستان میں غیر ملکی فنڈ نگ سے 200 کے قریب دہشت گرد تنظیمیں نفرت کی بنیاد پر قائم ہو ئی ہیں ۔مذہبی نفرت ، لسانی نفرت ، نسلی منا فرت اور دیگر نفرتوں کو ہوا دے کر دہشت گرد گروہوں کی فنڈنگ کا کام 1951 ء سے شروع ہوا تھا ۔لیاقت علی خان کے دورہ امریکہ کے دوسال بعد پاکستان میں نفرت پر مبنی دہشت گردی شروع ہو ئی تھی ۔صفدر محمود ، روئیداد خان ، قدرت اللہ شہاب ، فیلڈ مارشل ایوب خان اور دیگر نا مور شخصیات کی ڈائریوں سے اندازہ ہو تا ہے کہ پاکستان میں منافرت پر مبنی لڑیچر پھیلانا امریکیوں کا اولین ایجنڈا تھا ۔ 1978ء میں افغان خانہ جنگی کے لئے امریکیوں نے پاکستان کو اپنا کیمپ بنالیا ۔اس کیمپ میں جو کچھ ہو ا وہ موجودہ نسل سے پوشیدہ نہیں ۔ایک حالیہ رپورٹ میں ہمارے مشاہدات اور تجربات کے برعکس انکشافات کئے گئے ہیں۔ہیور ریسرچ نامی عالمی ادارے کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ا مریکہ کے اندر نفرت انگیزی پر مبنی گروہوں اور تنظیموں کی تعداد میں 2014 کے مقابلے میں2015 ء کے دوران 14 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔عالمی تنظیم کے سروے میں کہا گیا ہے کہ 2014 ء میں امریکہ کے اندر نفرت پھیلانے والی تنظیموں کی تعداد 784 تھی ۔2015 ء میں یہ تعداد 892 ہو گئی ۔گویا 14فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔892 دہشت گرد تنظیموں میں 180 گروہوں کا تعلق سیاہ فام اقلیت سے ہے ۔ 712 گروہوں کا تانا بانا سفید فام اکثریت سے جاملتا ہے ۔سب سے زیادہ دہشت گردتنظیمیں فلوریڈ ا میں ہیں ۔یہ وہ ریاست ہے ۔جہاں افغانستان ، صومالیہ ، سوڈان ، الجزائر اور پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے والے عرب جنگجوؤں کے لئے تربیتی کیمپ قائم کئے گئے ہیں ۔ 1978ء سے اب تک مسلمان ملکوں میں جو دہشت گردی ہوئی اس کا ہیڈ کو ارٹر فلوریڈ ا کی ریاست کے اندر قائم ہے۔ فلوریڈا کے بعد ٹیکساس ،کیلی فور نیا ، نیو یارک ، ہیو سٹن ،اٹلا نٹا ، پنسلو ا نیا اور دیگر شہروں یا ریا ستوں کا نمبر آتا ہے جہاں نفرت انگیز تنظیموں اور دہشت گردی کرنے والے گروہوں کی بڑی تعداد کام کرتی ہے ۔شاعر کا مشہور مصرعہ ہے ” لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا ” یہ مصرعہ 2016ء میں امریکہ پر ہو بہو صادق آتا ہے۔ سو فیصد درست بیٹھتا ہے ۔اگر 1978ء میں امریکہ سے دہشت گردی درآمد نہ کی جاتی۔ نسلی اورمذہبی منافرت پر مبنی تنظیموں کو اسلحہ اور تربیت دینے کا کام شروع نہ کیا جاتا اور پاکستان میں بم دھماکوں ، خود کش حملوں کے ذریعے خانہ جنگی شروع نہ کرائی جاتی ۔تو پاکستان گزشتہ 38 سالوں میں ترقی کرکے اٹلی ، سپین ، برازیل ، جاپان اورآسٹریلیا کی پو زیشن پر آچکا ہوتا ۔پاکستان کی ترقی کا سارا عمل دہشت گردی ، نفرت اور خانہ جنگی نے روک دیا ۔2015 ء کے آخر میں ایک عالمی رپورٹ منظر عام پر آئی ۔رپورٹ میں187 عالمی اقوام کی عزت اور قومی وقار کا جا ئزہ لیا گیا ہے ۔ پاسپورٹ کے حوالے سے سروے کیا گیا ہے کہ دنیا میں کس ملک کا پا سپورٹ سب سے زیادہ ” نا پسندیدہ” تصور ہو تا ہے ۔سروے کے نتائج ہمارے لئے بھیا نک ہیں ۔سروے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ مشکوک اور نا پسندیدہ پا سپورٹ افغا نستان کا ہے ۔ شک اور ناپسندیدگی کے اعتبار سے دوسرا نمبر پاکستانی پاسپورٹ کا ہے عالمی سطح پر ہوائی اڈوں اور سرحدی چوکیوں میں جو ایڈوائزری لسٹ دی گئی ہے ۔ان میں 186 واں نمبر پاکستانی پاسپورٹ کا ہے۔ 187 واں نمبر افغانستانی پا سپورٹ کا ہے دونوں ممالک کو میا نمر، بھو نان، نکارا گوا اور روانڈا سے بھی پیچھے دھکیلنے والی صفت کیا ہے؟ ان کا مشترکہ جرم یہ ہے کہ دونوں ممالک امریکی فوج اورسی آئی کے اڈے ہیں۔ دونوں ممالک نے گزشتہ 38 سالوں میں امریکہ کا ساتھ دیاہے اور جواب میں پوری دنیا سے قابل نفرت اور مشکوک ہونے کی سند حاصل کی ہے ۔ اپنے قومی پاسپورٹ کی مٹی پلیدکرکے رکھ دی ہے۔ شا عر کا مصرعہ ہے” ہوئے تم دوست جسکے دشمن اس کا آسمان کیو ں ہو! ” عالمی سروے میں امریکہ کے اندر نفرت انگیزتنظیموں کی تعداد میں ہر سال 14فیصد اضافے کا انکشاف اس بات کا پتہ دیتا ہے کہ نفرتوں کے بیج بولنے والا خود بھی نفرت کا نشانہ بنتا ہے۔ مسلمانوں کے خلاف ، داعش ، بوکو حرام ، القاعدہ ، الشباب اور دیگر ناموں سے دہشت گردتنظیمیں قائم کرنے والا امریکہ آج خود نفرت انگیز گروہوں کے نشانے پر آگیا ہے تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق