اسداللہ حیدرچترالی

نوائے دل ……مدر زڈے

……حافظ اسداللہ حیدر چترالی …….


پاکستان سمیت آج دنیابھر میں ماؤں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔اس دن کے منانے کا مقصد معاشرے میں ماں سے محبت اور ان کے احترام کو فروغ دینا ہے مگر بہت سی مائیں ایسی بھی ہیں جوناخلف اولاد کی نافرمانی کی وجہ سے زندگی اولڈہاوس میں گزارنے پر مجبور ہیں۔ماں اپنی اولاد کو انگلی پکڑ کر چلنا سکھاتی ہے، بچپن سے لے کر جوان ہونے تک قدم قدم پر رہنمائی کرتی ہے، مصیبتیں جھیلتی ہے مگربہت سے بدنصیب بڑھاپے میں ان کا سہار ا بننے کی بجائے اولڈ ہاوس چھوڑ جاتے ہیں مگر ماں ہے کہ پھر بھی اپنے بچوں کو دعائیں دیتی ہے ۔یاد رہے کہ ماؤں کے عالمی دن منانے کی تاریخ بہت قدیم ہے اور اس کاسراغ سب سے پہلے یونانی تہذیب میں ملتا ہے جہاں تمام دیوتاؤں کی ماں ’’گرہیا دیوی‘‘ کے اعزاز میں یہ دن منایا جاتا تھا۔ سولہویں صدی میں ایسٹر سے 40 روز پہلے انگلستان میں ایک دن ’’مدرنگ سنڈے‘‘ کے نام سے موسوم تھا۔ امریکہ میں مدرز ڈے کا آغاز 1872ء میں ہوا۔ 1907ء میں فلاڈیفیا کی اینا جاروس نے اسے قومی دن کے طور پر منانے کی تحریک چلائی جو بالآخر کامیاب ہوئی اور 1911 ء میں امریکہ کی ایک ریاست میں یہ دن منایا گیا۔ یوں مغربی دنیا میں 16ویں صدی سے ہر سال ایسٹر کے بعد چوتھے اتوار کو یہ دن منایا جاتا ہے۔ایک روایت کے مطابق ماؤں کا د ن منانے کا آغاز ایک امریکی خاتون اینا ہاروس کی کوشش کا نتیجہ ہے۔اینا چاہتی تھیں کہ اس دن کو ایک مقدس دن کے طورپر سمجھا اور منایا جائے۔ ان کی کوششوں کے نتیجے میں 8 مئی 1914 ء کو امریکا کے صدر ووڈرو ولسن نے مئی کے دوسرے اتوار کو سرکاری طورپر ماؤں کا دن قرار دیا۔بطور مسلمان ہم کتنے خوش قسمت ہیں کہ ہمیں سال میں ایک دن نہیں بلکہ ہر دن مدرڈے اور ہر لمحہ مدر مومنٹ منانے کا حکم اور اس پر اجروثواب کی نوید سنائی گئی ہے۔
سورۃ بقرہ میں ارشاد ہے :
واذاخذنامیثاق بنی اسرائیل لاتعبدون الااللہ وباالوالدین احسانا(البقرہ )
ترجمہ: ’’اور(وہ زمانہ یاد کرو)جب ہم نے بنی اسرائیل سے قول وقرارلیا، کہ (کسی کی )عبادت مت کرنا، بجز اللہ کے ، اورماں باپ کی اچھی طرح خدمت گزاری کرنا۔‘‘
واعبدواللہ ولاتشرکو بہ شیئا وبالوالدین احسانا(النساء )
ترجمہ: ’’اورتم اللہ تعالی کی عبادت اختیار کرواوراس کے ساتھ کسی چیز کو شریک مت کرو اوروالدین کے ساتھ اچھامعاملہ کرو۔ ‘‘
اورسورۃ انعام میں ارشاد ہے :
قل تعالو اتل ماحرم ربکم علیکم الاتشرکو بہ شیئاوبالوالدین احسانا(الانعام)
ترجمہ: ’’آپ فرمادیجئے کہ آؤ میں تم کو وہ چیزیں پڑھ کر سناؤں جن کو تمہارے رب نے تم پر حرام فرمایا ہے ، وہ یہ کہ اللہ تعالی کے ساتھ کسی چیز کو شریک مت ٹھہراؤ اورماں باپ کے ساتھ احسان کیاکرو۔ ‘‘
اللہ تعالی نے سورہ لقمان کی اس آیت میں ارشاد فرمایاکہ ہم نے انسانوں کو ماں باپ کے متعلق تاکید کی اورساتھ ہی ماں باپ کے دکھ اورتکلیف کاتذکرہ بھی فرمایا،جووہ اولاد کے لئے برداشت کرتے ہیں ، سب سے زیادہ محنت ومشقت ماں پر پڑتی ہے جو زمانہ حمل میں کمزور ہوتی چلی جاتی ہے اور ضعف پر ضعف برداشت کرتی ہے ، پھر پیدائش کاوقت بھی بہت کٹھن ہوتاہے اوراس وقت ماں کو بہت زیادہ تکلیف ہوتی ہے ، جس کو اللہ تعالی نے سورہ احقاف ذکر فرمایا:
(حملتہ امہ کرھاووضعتہ کرھا)(الاحقاف)
ترجمہ : ’’اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھااورتکلیف برداشت کرکے اسے جنا۔ ‘‘
حمل اوروضع حمل کے بعد پرورش کامسئلہ سامنے آتاہے، باپ کماکر لاتاہے ، ماں گھر کے اندر پرورش میں لگی رہتی ہے ۔۔دودھ پلاتی ہے ۔۔۔گرمی سردی اوردکھ درد میں کلیجہ سے لگائے رہتی ہے ۔۔بچہ جب بیمار ہوجاتاہے تو ماں باپ کی نیندیں حرام ہوجاتی ہیں ۔۔۔گود میں لئے بیٹھے رہتے ہیں ۔ڈاکٹروں اورحکیموں کے یہاں چکر لگاتے ہیں ، منّے جان ماں باپ کی گود میں پیشاب کررہے ہیں اوروہ دونوں بشاشت سے برداشت کرتے ہیں ، صاحبزادے کو دست لگ گئے ہیں بستر پر پاخانہ کررہے ہیں ماں باپ کے کپڑے ناپاکی سے بھرے ہوئے ہیں ، بے چارے دھوتے ہیں سب کچھ برداشت کرتے ہیں ، اس محنت اورمشقت کاصلہ ظاہر ہے شکر گزار ہوناچاہیے ۔
سب سے بڑا شکر اللہ جل شانہ کاجس نے وجود بخشا، اس کے بعد شکر ماں باپ کاجنہوں نے پرورش کے لئے مصیبتیں جھیلیں اورتکلیفیں اٹھائیں ، اسی کو فرمایا:
ان اشکر لی والوالدیک (لقمان )
جس طرح اللہ جل شانہ کاشکر صرف زبان سے شکر کے کلمات نکالنے سے ادانہیں ہوجاتا، بلکہ پوری زندگی میں ظاہر وباطن سے احکام کی تعمیل کانام شکر ہے ۔ اسی طرح ماں باپ کی شکر گزاری ان کے حق میں اچھے بول، بول دینے سے اوران کی تعریف کردینے سے اوران کی تکلیفوں کااقرار کر لینے سے ادانہیں ہوتی ، بلکہ ماں باپ کی فرماں برداری اورجان ومال سے ان کی خدمت گزاری اوران کی نافرمانی سے بچنے سے ان کی شکر گزاری ہوتی ہے ۔
عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ قال جاء رجل الی رسول اللہﷺقال !من أحق الناس بحسن صحابتی قال : ’’أمک ‘‘قال : ثم من قال : ’’ثم أمک ‘‘ قال ثم من قال ’’ثم أمک ‘‘قال : ثم من قال أبوک ۔(مسلم شریف صفحہ نمبر۳۱۶جلدنمبر۲حدیث نمبر۶۵۰۰،کتاب البروالصلۃوالادب ،باب برالوالدین )
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضور ﷺ سے دریافت کیاکہ (رشتہ داروں میں) میرے حسن سلوک کاسب سے زیادہ مستحق کون ہے ؟اس کے جواب میں حضور ﷺ نے فرمایا: تمہاری والدہ حسن سلوک کی سب سے زیادہ مستحق ہیں ،سائل نے پوچھاپھر کون ؟آپ ﷺ نے فرمایا: تمہاری والدہ ،اس نے دریافت کیاپھر کون ؟آپ ﷺ نے فرمایا: تمہاری والدہ،سوال کرنے والے نے عرض کیا، پھر کون ؟فرمایاتمہارے والد۔
فائدہ : ماں کو باپ سے تین درجے بڑھ کر رکھاہے کیونکہ ماں بچہ پر بہت مصیبت اٹھاتی ہے نو مہینے پیٹ میں رکھتی ہے پھر پیداہونے کے بعد ایک مدت تک دودھ پلاتی ہے پیشاب وغیرہ سے ہر وقت صاف رکھتی ہے جب بڑاہوجاتاہے تو تب باپ تعلیم وتربیت کرتاہے اوراگر ماں تعلیم یافتہ ہوئی تو بچے کی تربیت اورتعلیم بھی ماں سے شروع ہوجاتی ہے اورایسے ہی بچے لائق نکلتے ہیں جن کی مائیں صاحب علم ہوتی ہیں اس لئے جو قوم اپنی بھلائی اورترقی چاہتی ہواس کو سب سے پہلے تعلیم نسواں کااہتمام کرناچاہیے ۔
*عن اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالی عنھماقالت :قدمت امی وھی مشرکۃ فی عھد قریش ومدتھم أذعاھدواالنبی صلی اللہ علیہ وسلم مع أبیھا،فاستفتیت النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقلت :ان امی قدمت وھی راغبۃ ،قال : نعم صلی امک ۔(بخاری شریف ،کتاب الادب ،باب صلۃ المرأۃ امھا:۲/۸۸۴)
ترجمہ: حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنھافرماتی ہیں کہ جس زمانہ میں حضور ﷺکاقریش سے معاہدہ ہورہاتھا،اس وقت میری کافر والدہ (مکہ مکرمہ سے مدینہ طیبہ)اپنے والد کے ساتھ آئیں ۔ میں نے حضور ﷺسے دریافت کیاکہ میری والدہ (میری مددکی)طالب بن کر آئی ہیں ،ان کی مدد کردوں ؟حضور ﷺ نے فرمایا:ہاں ،اپنی ماں سے صلہ رحمی کر(خواہ وہ مسلمان نہ ہو)
*عن المغیرہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال ان اللہ حرم علیکم عقوق الامھات (بخاری شریف جلد نمبر ۲/ ۸۸۴))
ترجمہ:’’ حضرت مغیر ہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں نبی کریم ﷺسے ۔آپﷺ نے فرمایا:اللہ تعالی نے تم پر ماؤں کی نافرمانی کو حرام قرار دیاہے ‘‘۔
الغرض انسان کی پرورش میں ماں باپ کاکردار بنیادی اورفیصلہ کن ہوتاہے ۔ استقرار حمل سے لیکر ولادت اوررضاعت تک اورپھر بچپن سے ؒ ؒ لے کر بلوغت تک بچے کی دیکھ بھال ، تربیت اورنشونما کاکام انتہائی کٹھن ،نازک اورصبر آزماہوتاہے اوروالدین اپنے بچوں کی خاطر ان سب تکالیف کوبرداشت کرتے ہیں ۔بچے کی پرورش میں والدہ کاکردار بطور خاص اہم اورنازک ہے۔اسی لئے اس کامقام والد سے بھی بلند تر ہے ۔ یہ تین حرفی لفظ بڑی محبت ،عزت اوراحترام کاحامل ہے ۔ ماں کہتے ہی ذہن میں خلوص وایثار بے لوث محبت اورسراپاخیروبرکت کاایک پیکر ابھرتاہے ۔ ماں ایک ایسی ہستی ہے جس کی کمی کو کوئی پورانہیں کرسکتا۔ ماں کی اولاد اچھی ہویابری اس اولاد کو ماں ہمیشہ اچھی نظر سے دیکھتی ہے۔ جب کوئی بچہ بیمار ہوتاہے تو ماں راتوں کو جاگ کر اس کی دیکھ بھال کرتی ہے ۔ ماں ہمیشہ اپنی اولاد کاخیال رکھتی ہے ۔دنیامیں کوئی رشتہ ماں سے زیادہ پیارانہیں ۔
بدقسمتی سے آجکل ہمارے معاشرے کی اکثر نوجوان نسل ماں کے بلند مقام کو پہنچاننے سے محروم ہے ۔وہ سمجھتی ہے کہ شاید گھرمیں ایک ملازمہ ہوتی ہے ۔ اس کانام ماں ہے ۔ایسی بات ہرگز نہیں ہے ۔ماں کا اللہ تعالی کے ہاں بہت بڑامقام ہے ۔ جن لوگوں کے دلوں میں ماں کی عظمت کااحساس نہ ہووہ یقیناًبدقسمت اوربدبخت ہیں ۔ماں وہ ہستی ہے جس کی عظمت کابیان الفاظ میں ممکن نہیں ۔ بچے جب ماؤں کی شفقت کی آغوش میں ہوتے ہیں تو ماؤں کی محبت اورشفقت ہمہ وقت بچے کی تعاقب میں رہتی ہے ۔ اکثروبیشتر ماں کے مرتبے کااس وقت پتہ چلتاہے کہ جب ماں اس سے جداہوچکی ہوتی ہے ۔ شاعر نے کیاخوب کہاہے :
تربیت سے تیری میں انجم ہم قسمت ہوا
گھر میرے اجداد کا سرمایہ عزت ہوا
عمر بھر تیری محبت میری خدمت گررہی
میں تیر ی خدمت کے قابل جب ہواتوچل بسی
ہم مسلمانو ں کے لئے ماں کے پاوں تلے جنت ہے۔ ہم جس قدر بھی اپنی ماں کی خدمت کریں کم ہے کیونکہ انسانوں میں صرف وہی ذات ہے جو ہمارے تمام عیب اپنے سر لے لیتی ہے اور اپنے آرام کو ہمارے لئے قربان کردیتی ہے اور خود بھوکا رہ کر ہمارے شکم کو پرکرکے بھی شکر الحمد للہ کہتی ہے۔یا اللہ ہم سب کی ماؤں کا سایہ ہمارے سر پر قائم رہے اور ہمیں ماں کی خدمت بجا لانے کا موقع عطا فرمااور ہمارے وسائل میں اضافہ فرما ،تاکہ ہمیں اپنی ماں کو پھولوں کی طرح رکھنے میں آسانی ہو۔یا اللہ جن کی مائیں فوت ہوچکی ہیں ان کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطافرما۔امین

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق