مضامین

داد بیداد……پاکستان میں کھیلوں کا زوال

……..ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ؔ ………

وطن عزیز پاکستان میں کھیلوں کا زوال قوم کی اجتماعی زندگی کا آئینہ دار ہے۔ جہاں سیا ست ، جمہوریت ، تعلیم ، صحت ، معیشت او رمذہب کو زوال آیا ہے۔ وہاں کھیلوں کو بھی زوال آیا ہے۔ اس اس پر کسی کو تعجب کرنے کی ضرورت نہیں۔ پھر بھی ہم جذباتی لوگ ہیں۔ کرکٹ ٹیم بری طرح ہار جائے، ہاکی ٹیم ہار جائے تو آبدیدہ ہوجاتے ہیں۔ اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکتے۔ یہ ہمارا وطیرہ بھی ہے۔ المیہ بھی ہے۔ بے شمار ناکامیوں اور پے درپے شکست وریخت کے بعد ہماری کرکٹ ٹیم ایشیا ء کپ میں بری طرح ناکامی سے دوچار ہوئی تو قوم کو ایک بار پھر دکھ ہوا۔ ہربار سانپ گذر جاتاہے تو ہم لکیریں پیٹنے میں لگ جاتے ہیں ۔ اب کی بار یہی عمل دہرایا جارہاہے۔وسیم اکرم ، عامر سہیل ، سرفراز نواز ، شاہد آفریدی، سکندر بخت اور دوسرے لوگ کرکٹ پر بات کرتے ہیں تو شہریار خان اور نجم سیٹھی کو غصہ آجاتا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کرکٹ سے ان لوگوں کا کیا کام ہے۔ یہ کوئی نہیں کہتا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ وسیم اکرم اور عامر سہیل کے اختیار میں ہونا چاہئیے ۔ شہریار اور نجم سیٹھی وغیرہ کا اس میں کوئی دخل نہیں ہونا چاہئیے۔ تاریخ کا مطالعہ بعض اوقات حقائق سے پردہ اٹھاتا ہے اور بعض اوقات زوال کے اسباب بتا دیتا ہے۔وطن عزیز کے اخبار بین حلقوں کو اچھی طرح علم ہے کہ 20سال پہلے تک پاکستان کے کھلاڑی ہر میدان میں دیگر اقوام پر چھا ئے ہوئے تھے۔ سکواش ، ہاکی اور کرکٹ میں پاکستان کا اونچا مقام اور بڑا نام تھا۔ ہاکی میں پاکستان کا شمار دنیا کی صف اول کی ٹیموں میں ہوتا تھا۔ سکواش کی دنیا میں پاکستان کی بادشاہت تھی۔ پاکستانی کھلاڑیوں کا طوطی بولتا تھا۔ سید مظہر علی شاہ نے اپنی تحریروں میں پاکستانی کھلاڑیوں کے ایسے ایسے ریکارڈ کا ذکر کیا ہے جو اب تک ناقابل شکست ہیں۔ لیکن پھر کیا ہوا ؟ اس سوال کے دو جوا ب ہیں۔ پہلا جواب یہ ہے کہ کھیل کے اندر سیاست آگئی ، سیاسی مداخلت آگئی ۔ اس وجہ سے کھیلوں کو زوال آیا۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ پاکستان میں کھیلوں کا زوال ہماری اجتماعی زندگی کے زوال کا ایک حصہ ہے۔ جہاں اجتماعی زندگی میں ہماری قوم زوال سے دوچار ہے۔ وہاں کھیل کے میدان میں بھی قوم زوال کا شکار ہے اور یہ زوال ایک دن میں نہیں آیا۔ دو وہائیوں کی غلط پالیسیوں کے نتیجے میں یہ زوال ہمارا مقدر بن گیا۔ اب ہم کو اس پر صبر اور شکر کرکے رہنا ہے۔ اس سے بچنے کی کوئی تدبیر ہمارے پاس نہیں ہے۔ سکواش کے میدان میں جہانگیر خان اور جان شیر خان کی رائے کو کسی نے اہمیت نہیں دی۔سکواش فیڈریشن کے معاملات غیر متعلقہ اور ناتجربہ کار لوگ چلارہے ہیں۔اس وجہ سے سکواش کو وہ اہمیت نہیں ملی جو پہلے ملتی تھی۔ ہاشم خان اور قمر زمان کے ادوار میں سکواش کو جو ترقی ملی۔ بابو لوگوں کے ہاتھوں میں ایسی ترقی کا ملنا محال ہے۔ اس بناء پر سکواش کو زوال آیا اور پاکستان کا نام سکواش کی دنیا سے نکال دیا گیا۔ اب اس میدان میں پاکستان کا ذکر نہیں ہوتا۔ ہاکی کے مسئلے پر ایک ریٹائرڈ فوجی آفیسر کے ساتھ ہاکی سے وابستہ کھلاڑیوں کی ایسو سی ایشن کا جھگڑا ہوا۔ پاکستان اولمپک ایسو سی ایشن پر فوجی افسر کے قبضے نے طول پکڑ لیا اور پاکستان ہاکی فیڈریشن اس جھگڑے میں پڑ کر بے جان ہو گئی۔ ہاکی کا میدان بھی پاکستان کے نام سے خالی ہو گیا ۔ ہاکی ٹیم کی پوزیشن کمزور ہوتے ہوتے موجودہ حال تک پہنچ گئی۔ اس طرح پاکستان فٹ بال فیڈریشن کو فیصل صالح حیات کے نام کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ چند سال موصوف کے قبضے میں رہنے کے بعد پاکستان فٹ بال فیڈریشن زوال سے دوچار ہو گئی۔ لے دے کے ایک کرکٹ کا کھیل رہ گیا تھا۔ 2009ء میں بینک سے ایک جیالے کو لا کر پی سی بی کا سربراہ بنا یا گیا۔ جیالے کی سربراہی کو مسلم لیگ (ن) کی حمایت یافتہ نجم سیٹھی نے چیلنج کیا۔ 4سالوں تک عدالتوں میں یہ معاملہ مضحکہ خیز طور پر چلتا رہا۔ تین بار نجم سیٹھی کے حق میں اور تین بار اس کے خلاف فیصلے آئے۔ اس چکر میں بہت کچھ داؤ پر لگ گیا۔ اس کے بعد کرکٹ کی دنیا سے تعلق یا معمولی واقفیت رکھنے والے کسی پروفیشنل کی جگہ شہریار خان کو گھر سے بلا کر یہ ڈیوٹی سونپ دی گئی۔ سال بھر میں کم ازکم 6 کروڑ روپے کی تنخوا ہ اور دیگر مراعات کا مسئلہ ہے ۔اس قدر فائدہ اور مراعات حکمران ہر حالت میں اپنی پسند کی شخصیت کو دینا چاہتے ہیں ۔کسی پر وفیشنل کو دینا گوارا نہیں کرتے ۔یہ قومی مفاد کا معاملہ نہیں ۔ذاتی مفاد کا معاملہ ہے ۔ حکمرانوں نے حلف اُٹھایا ہے کہ وہ اہم قومی امور میں فیصلہ کرتے وقت ذاتی مفاد کو ہر حال میں قومی مفاد پر ترجیح دینگے ۔اگرچہ حلف کے الفاظ اس کے برعکس تھے مگر حلف کا مطلب یہی تھا ۔اس لئے حکمرانوں نے ہر حال میں پاکستان سے کرکٹ کا صفایا کرنے کا تہیہ کرلیا ہے ۔اور یہ کام کسی دشمن سے نہیں بلکہ پی سی بی سے لیا جا رہا ہے ۔پاکستان میں کھیلوں کے زوال کی کہانی بہت اندو ہناک اور حسرت ناک ہے ۔زندہ قومیں صفر سے ترقی کر کے ہزار اور لاکھ کے ہندسوں تک سفر کرتی ہیں ۔پاکستانی قوم نے کھربوں کے ہند سے کو لات مار کر صفر کا انتخاب کر لیا ہے ۔ہاکی ، سکواش اور کرکٹ کے شاندار ماضی کو سامنے رکھ کر آج پاکستان میں کھیلوں کے معیار کا جا ئزہ لیا جائے تو چُلّو بھر پانی میں ڈوب مرنے کو جی چاہتا ہے ۔جس طرح واٹر پروف اور ائیرپروف کی ٹیکنالوجی ہے۔اگر شیم پروف کی کوئی ٹیکنا لوجی ہو تی تو وہ یقیناًپاکستانی لیڈروں کے پاس ہو تی اور ہمارے حکمرانوں کے کام آتی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى