اسداللہ حیدرچترالی

نوائے دل …..انٹرنیشنل ویمن ڈے

……حافظ اسداللہ حیدر چترالی


آٹھ مارچ کو پاکستان سمیت پوری دنیا میں خواتین کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔اس دن کے منانے کا بنیادی مقصد نہ صرف خواتین کو ان کے بنیادی حقوق کے بارے میں آگاہی دینا بلکہ ان کی معاشرتی اہمیت کو بھی اجاگر کرنا ہے۔ویمن ڈے کو کب سے منا یا جاتا ہے اوراس کی کیا حقیقت ہے ؟اس کے بارے میں بتایا جاتاہے کہ 8مارچ 1907ء میں نیو یارک میں لباس سازکی صنعت میں مسلسل دس گھنٹے کام کرنے والی خواتین نے اپنے کام کے اوقات کار میں کمی اور اجرت میں اضافے کے لیے آواز اٹھائی تو ان پر پولیس نے نہ صرف لاٹھی چارج اور وحشیانہ تشدد کیا بلکہ ان خواتین کو سڑکوں پرگھسیٹا گیا۔لیکن خواتین نے جبری مشقت کے خلاف تحریک جاری رکھی جس پر ریاست نے بے انتہا تشدد کیا۔ خواتین کی مسلسل جدوجہد اور قربانیوں کے نتیجے میں1910 ء میں کوپن ہیگن میں خواتین کی پہلی عالمی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں 17 سے زائد ممالک کی سو کے قریب خواتین نے شرکت کی جس میں عورتوں پر ہونے والے ظلم واستحصال کا عالمی دن منانے کا فیصلہ کیا گیا۔پہلی بار ڈنمارک، جرمنی اور سوئٹزرلینڈ میں خواتین کا عالمی دن منایا گیا۔ابتداء میں اس دن کو ورکنگ وومین ڈے کی مناسبت سے منایا جاتا تھا۔1975ء میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام عالمی سطح پر خواتین کا سال منایا گیااور طے ہوا کہ ہر سال عالمی سطح پر خواتین کا ایک دن منایا جائے گاجس کے دو سال بعد یعنی1977ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اس دن کو منانے کی منظوری دے دی اور اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک کو اس بات کا پابند کیا کہ وہ روایتی اقدار کے تحت ہر سال 8مارچ کو خواتین کے دن کے طور پر منائیں۔ لیکن اس کے باوجودجنسی بنیاد پرہونے والے ظلم میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ایک اندازے کے مطابق دنیا کی ہر تیسری اورجنوبی ایشا کی ہر دوسری عورت آج تشدد کاشکار ہیں۔ امریکہ میں ہر چھ منٹ کے بعدایک عورت زیادتی کا نشانہ بنتی ہے۔ پاکستان میں ہر سال ایک ہزار عورتیں غیرت کے نام پر قتل کی جاتی ہیں۔ بھارت میں ہر چھ گھنٹے کے بعد ایک شادی شدہ عورت کو تشدد سے مار دیا جاتا ہے جبکہ بھارت میں ہی ہر روز سات ہزار بچیاں پیدائش سے پہلے مار دی جاتیں ہیں۔ جنوبی ایشا میں ساٹھ فیصد سے زیادہ عورتیں گھریلو تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔اور اسی خطے سے سالانہ ڈیڑھ لاکھ لڑکیاں جبکہ دنیا میں سالانہ بیس لاکھ بچیوں کو جنسی کاروبار کے لیے سمگل کیا جاتا ہے۔ عورت ماں ہے،بیٹی ہے،بہن ہے لیکن ان سب رشتوں سے بڑھ کر وہ ایک انسان بھی ہے۔عورت کا مقام اسلام نے واضح کر دیا ہے ۔ اسلام سے پہلے عورتوں کو کوئی مقام حاصل نہیں تھا ۔انہیں زندہ درگور کر دیا جاتاتھا ۔ سرور کائنات، فخر موجودات، محسن انسانیت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس روز دین کا پیغام لے کر دنیا میں تشریف لائے، اس روز، دنیا کے اندر نئی روشنی کا ظہور ہوا۔ اس نئی شمع کی برکت سے انسان کو وہ عقیدہ اور شعور عطا ہوا جو سرا سر مکارم اخلاق اور فضائل و محاسن کا مجموعہ ہے اور عورت کو جو انسانی معاشرے میں انتہائی پستی کے مقام پر گر چکی تھی عزت و تکریم کے اعلی مراتب سے ہمکنار کیا۔ اگر وہ بیوی ہے وہ دنیا کا سب سے بڑا خزانہ ہے، اگر بیٹی ہے، تو آتش دوزخ سے بچانے کا وسیلہ اور آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، ماں ہے تو اس کے پاؤں تلے جنت، غرض یہ کہ، اسلام نے عورت کو ہر حیثیت، چاہے وہ ماں ہو، یا بیٹی، بہن ہو، یا شریک حیات، انتہائی تکریم و اعزاز کا مستحق گردانا ہے۔ شرف انسانیت میں مرد و عورت کی تفریق روا نہیں رکھی گئی۔ عورت کو جو مقام اسلام نے دیا ہے وہ اسے کسی دوسرے مذہب سے نہیں ملا۔
اسلام سے پہلے لڑکی کا وجود عار تصور کیا جاتااور اسے زندہ در گور کر دیا جاتا تھا فرمان الٰہی ہے: وَإِذَا بُشِّرَ اَحَدُہُمْ بِالْأُنْثٰی ظَلَّ وَجْہُہُ مُسْوَدًّا وَّہُوَ کَظِیْمٌ * یَتَوَارٰی مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوْءِ مَا بُشِّرَ بِہٖ اَیُمْسِکُہُ عَلٰی ہُوْنٍ اَمْ یَدُسُّہُ فِیْ التُّرَابِ اَلاَ سَاءَ مَا یَحْکُمُوْنَ( النحل: 58،59 ) ’’اور جب ان میں سے کسی کو لڑکی کی خوشخبری سنائی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہو جاتا ہے اور دل ہی دل میں گھٹنے لگتا ہے، جو بری خبر اسے دی گئی ہے اس کی وجہ سے لوگوں سے منہ چھپائے پھرتا ہے۔ سوچتا ہے کہ کیا اس کو ذلت ورسوائی کے باوجود اپنے پاس رکھے، یا اسے زندہ در گور کر دے، آہ! کیا ہی برے فیصلے کرتے ہیں۔‘‘ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے زمانہ جاہلیت کے لوگوں کی حالت کو بیان فرمایا ہے کہ ان میں سے کسی کو جب اس کے گھر میں بیٹی پیدا ہونے کی خبر دی جاتی تو اس کا چہرہ کالا سیاہ ہو جاتا اور مارے شرم کے وہ لوگوں سے چھپتا پھرتا۔اور غم میں نڈھال ہو کر سوچتا رہتا کہ اب اس لڑکی کے وجود کو ذلت ورسوائی کے ساتھ برداشت کر لے یا اسے زندہ در گور کر دے۔
یہ تو تھا زمانہ جاہلیت میں کسی عورت کا مقام کہ اس کا وجود ہی عار تصور کیا جاتاجبکہ اسلام نے گھر میں بیٹی کی پیدائش کو باعث برکت قرار دیا اور اسے زندہ درگور کرنا حرام کر دیا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: إِنَّ اللہ حَرَّمَ عَلَیْکُمْ عُقُوْقَ الْأُمَّہَاتِ، وَوَاْدَ الْبَنَاتِ ( بخاری:الإستقراض باب ما ینہی عن إضاعۃ المال، 2408، مسلم: الأقضیۃ باب النہی عن کثرۃ المسائل، 1715 ) ’’اللہ تعالیٰ نے تم پر ماؤں کی نافرمانی کرنا اور بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا حرام کر دیا ہے۔‘‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹیوں کی تعلیم و تربیت کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا: مَنْ بُلِیَ مِنْ ہٰذِہِ الْبَنَاتِ شَیْءًا فَاَحْسَنَ إِلَیْہِنَّ کُنَّ لَہُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ (بخاری: الأدب باب رحمۃ الولد وتقبیلہ،5995، مسلم: البر والصلۃ باب فضل الإحسان إلی البنات، 2629 ) ’’جس شخص کو ان بیٹیوں کی وجہ سے کسی طرح آزمائش میں ڈالا جاتا ہے، پھر وہ ان سے اچھائی کرتا ہے، تو یہ اس کے لئے جہنم سے پردہ بن جائیں گی۔‘‘
اور سنن ترمذی کی روایت ہے آپ ﷺ نے فرمایا: مَنْ عَالَ جَارِیَتَیْنِ دَخَلْتُ اَنَا وَہُوَ الْجَنَّۃَ کَہَاتَیْنِ وَاَشَارَ بِاُصْبَعَیْہِ ] الترمذی: البر والصلۃ باب ما جاء فی النفقۃ علی البنات، 1914، وہو فی الصحیحۃ، 297، وفی صحیح الترمذی للألبانی:ج 2 ص 179 )’’جس نے دو لڑکیوں کی پرورش کی، وہ اور میں جنت میں ایسے داخل ہوں گے جیسے میری یہ دو انگلیاں ہیں۔‘‘
اسلام نے بحیثیت ماں عورت کو عظمت سے ہمکنار کیا ہے ۔ اسلام نے ماں کو بہت بڑا مقام عطا کیا ہے
عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ قال جاء رجل الی رسول اللہﷺقال !من أحق الناس بحسن صحابتی قال : ’’أمک ‘‘قال : ثم من قال : ’’ثم أمک ‘‘ قال ثم من قال ’’ثم أمک ‘‘قال : ثم من قال أبوک ۔
(مسلم شریف صفحہ نمبر۳۱۶جلدنمبر۲حدیث نمبر۶۵۰۰،کتاب البروالصلۃوالادب ،باب برالوالدین )
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضور ﷺ سے دریافت کیاکہ (رشتہ داروں میں) میرے حسن سلوک کاسب سے زیادہ مستحق کون ہے ؟اس کے جواب میں حضور ﷺ نے فرمایا: تمہاری والدہ حسن سلوک کی سب سے زیادہ مستحق ہیں ،سائل نے پوچھاپھر کون ؟آپ ﷺ نے فرمایا: تمہاری والدہ ،اس نے دریافت کیاپھر کون ؟آپ ﷺ نے فرمایا: تمہاری والدہ،سوال کرنے والے نے عرض کیا، پھر کون ؟فرمایاتمہارے والد۔
فائدہ : ماں کو باپ سے تین درجے بڑھ کر رکھاہے کیونکہ ماں بچہ پر بہت مصیبت اٹھاتی ہے نو مہینے پیٹ میں رکھتی ہے پھر پیداہونے کے بعد ایک مدت تک دودھ پلاتی ہے پیشاب وغیرہ سے ہر وقت صاف رکھتی ہے جب بڑاہوجاتاہے تو تب باپ تعلیم وتربیت کرتاہے اوراگر ماں تعلیم یافتہ ہوئی تو بچے کی تربیت اورتعلیم بھی ماں سے شروع ہوجاتی ہے اورایسے ہی بچے لائق نکلتے ہیں جن کی مائیں صاحب علم ہوتی ہیں اس لئے جو قوم اپنی بھلائی اورترقی چاہتی ہواس کو سب سے پہلے تعلیم نسواں کااہتمام کرناچاہیے ۔
عن اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالی عنھماقالت :قدمت امی وھی مشرکۃ فی عھد قریش ومدتھم أذعاھدواالنبی صلی اللہ علیہ وسلم مع أبیھا،فاستفتیت النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقلت :ان امی قدمت وھی راغبۃ ،قال : نعم صلی امک ۔(بخاری شریف ،کتاب الادب ،باب صلۃ المرأۃ امھا:۲/۸۸۴)
ترجمہ: حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنھافرماتی ہیں کہ جس زمانہ میں حضور ﷺکاقریش سے معاہدہ ہورہاتھا،اس وقت میری کافر والدہ (مکہ مکرمہ سے مدینہ طیبہ)اپنے والد کے ساتھ آئیں ۔ میں نے حضور ﷺسے دریافت کیاکہ میری والدہ (میری مددکی)طالب بن کر آئی ہیں ،ان کی مدد کردوں ؟حضور ﷺ نے فرمایا:ہاں ،اپنی ماں سے صلہ رحمی کر(خواہ وہ مسلمان نہ ہو)
اور عورت اگر بیوی ہو تو اسلام نے اس کے حقوق کی بھی پاسداری کی ہے اور اس کے چند حقوق درجِ ذیل ہیں: نکاح کے لئے اجازت طلبی: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: لاَ تُنْکَحُ الْاَیِّمُ حَتّٰی تُسْتَاْمَرَ،وَلَا تُنْکَحُ الْبِکْرُ حَتّٰی تُسْتَاْذَنَ ’’کسی بیوہ کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس سے مشورہ نہ کر لیا جائے اور کسی کنواری لڑکی کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس سے اجازت نہ لے لی جائے۔‘‘ ’’صحابہ کرامؓ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ؐ! کنواری لڑکی کی اجازت کیسے ہو گی؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی خاموشی اس کی اجازت سمجھی جائے گی۔‘‘
مہر کی ادائیگی :فرمانِ الٰہی ہے: وَآتُوْا النِّسَاءَ صَدُقَاتِہِنَّ نِحْلَۃً ( النساء:4) ’’اور عورتوں کو ان کے مہر راضی خوشی دو۔‘‘
نان و نفقہ :رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقعہ پر میدانِ عرفات میں صحابہ کرامؓ کے جم غفیر سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا: ’’تم عورتوں کے متعلق اللہ سے ڈرو کیونکہ تم نے انھیں اللہ کی امان کے ساتھ لیا ہے اور انھیں اللہ کے کلمہ کے ساتھ اپنے لئے حلال کیا ہے۔اور تمھارا ان پر حق یہ ہے کہ وہ تمھارے بستروں پر کسی ایسے شخص کو نہ آنے دیں جنھیں تم نا پسند کرتے ہواور ان کا تم پر حق یہ ہے کہ تم انھیں معروف طریقے کے مطابق کھانا اور لباس مہیا کرو۔‘
معروف طریقے کے مطابق بود و باش: فرمان الٰہی ہے: وَعَاشِرُوْہُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ فَإِنْ کَرِہْتُمُوْہُنَّ فَعَسٰی اَنْ تَکْرَہُوْا شَیْءًا وَیَجْعَلَُ فِیْہِ خَیْرًا کَثِیْرًا ( النساء: 19)’’اور ان کے ساتھ اچھے طریقے سے بود و باش رکھو، گو تم انھیں نا پسند کرو لیکن عین ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو برا جانو اور اللہ تعالیٰ اس میں بہت سی بھلائی کر دے۔‘‘ اور رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِأَہْلِہٖ، وَاَنَا خَیْرُکُمْ لِأَہْلِی( ترمذی: المناقب باب فضل ازواج النبی صلی اللہ علیہ وسلم، 3895، ابن ماجہ: 1977، ابن حبان، 4177 )ْ ’’تم میں سب سے بہتر شخص وہ ہے جو اپنے اہل کے لئے بہتر ہو اور میں تم سب کی نسبت اپنے اہل کے لئے زیادہ بہتر ہوں۔
‘بیوی کا حق بھی خاوند کے حق کی طرح ہے :فرمان الٰہی ہے: وَلَہُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْہِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَیْہِنَّ دَرَجَۃ’’( البقرۃ: 228)اور معروف طریقے کے مطابق عورتوں کے بھی ویسے ہی حق ہیں جیسے ان پر مردوں کے ہیں،ہاں مردوں کو عورتوں پر فضیلت ہے۔‘‘
بیویوں میں عدل و انصاف :فرمان الٰہی ہے: فَإِنْ خِفْتُمْ اَلاَّ تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃً اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ ذٰلِکَ اَدْنٰی اَلاَّ تَعُوْلُوْا (النساء: 3) ’’لیکن اگر تمھیں یہ خوف ہو کہ تم ان میں عدل وانصاف نہ کر سکو گے تو ایک ہی کافی ہے، یا تمھاری ملکیت کی لونڈی۔یہ اس اعتبار سے زیادہ مناسب ہے کہ تم بے انصافی کے مرتکب نہیں ہو گے۔‘‘ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: مَنْ کاَنَتْ لَہُ امْرَاَتَانِ فَمَالَ إِلیٰ اَحَدِہِمَا،جَاءَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَشِقُّہُ مَاءِلٌ ( ابوداؤد: النکاح باب فی القسم بین النساء،2133، الترمذی: النکاح باب ما جاء فی التسویۃ بین الضرائر،1141) ’’جس شخص کی دو بیویاں ہوں اور وہ ان میں سے ایک ہی کی طرف مائل ہوا (اور دوسری کو نظر انداز کر دیا) تو قیامت کے دن وہ اس حالت میں آئے گا کہ اس کے جسم کا ایک حصہ ایک پہلو پر جھکا ہو گا۔‘‘ موت کے بعد بھی بیوی سے وفا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ: ’’مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے کسی پر کبھی اتنی غیرت نہیں آئی جتنی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا پر آتی تھی حالانکہ میں نے انھیں نہیں دیکھا تھا۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر و بیشتر اس کا تذکرہ کرتے رہتے تھے۔اور بعض اوقات بکری ذبح کرتے تو اس کے گوشت کے کچھ ٹکڑے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی سہیلیوں کو بھی بھیجا کرتے۔اس پر میں کبھی کبھی یہ بھی کہہ دیتی کہ شاید دنیا میں اور کوئی عورت ہے ہی نہیں سوائے خدیجہؓ کے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: اس کے یہ یہ فضائل تھے اور میری اولاد بھی اسی سے ہوئی۔‘‘ بیٹی، ماں اور بیوی کے حقوق کے متعلق قرآن و حدیث کی جو نصوص ہم نے ذکر کی ہیں ایک طرف انھیں سامنے رکھیں اور دوسری جانب زمانۂ جاہلیت کی عورت کی حالت بھی مد نظر رکھیں۔اس سے آپ کو بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ اسلام نے عورت کو معاشرے میں کتنا بڑا مقام دیا ہے اور اس کی کس طرح سے تکریم اور عزت افزائی کی ہے۔
اللہ تعالی ہمیں ماؤں ، بہنوں ، اوربیٹیوں کا مقام سمجھ کر ان کے حقوق ادا کر نے کی توفیق عطا فرمائے ۔ امین

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق