ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

صدا بصحرا ……..مدینہ منورہ کی مثال

……….ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ؔ
جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے پشاور کے المرکز اسلامی میں بلدیاتی کنونشن سے اپنے خطاب میں خیبر پختونخواہ کے بلدیاتی نظام کو مدینہ منورہ کی اسلامی ریاست سے تشبیہ دی ہے اور کہا ہے کہ ہم نے صوبے میں بلدیاتی اداروں کے ذریعے مدینہ منورہ کا اسلامی نمونہ دکھادیا ہے۔ جماعت اسلامی کی قیادت عمومی لحاظ سے اور برادرم سراج الحق خصوص طور پر محتا ط رویہ رکھنے کے لئے مشہور ہے۔اُ ن کی زبان بہت کم پھسلتی ہے ۔ ضیاء الحق کو امیر المومین کا خطاب دیتے وقت میاں طفیل محمد کی زبا ن پھسل گئی تھی۔ پاکستان کے مسلح افواج اور مسلمانوں کے خلاف دہشت گردی کرنے والوں کا موازنہ کرتے ہوئے سید منور حسن کی زبان ایک بار بُری طرح پھسل گئی تھی۔ اب ویلج کونسل اور نیبر ہُد کونسل کو مدینہ منورہ کے پاکیزہ اور صاف ستھرے اسلامی نظام حکومت سے تشبیہ دے کر برادرم سراج الحق نے حد کردی ہے۔ اگر محبت کا رشتہ نہ ہوتا تو اس میں توہین رسالت کا پہلو بھی نکالا جا سکتا تھا۔ بہرحال محبت کا رشتہ ہے اور برادرم سراج الحق خود منجھے ہوئے پڑھے لکھے سیاسی کارکن ہیں۔ ان سطور کی اشاعت تک انہوں نے توبہ کرکے اپنے بیان کو واپس لے لیا ہوگا۔ اگر نہیں لیاتو لازم ہے کہ اپنا بیان واپس لے لیں اور خیبر پختونخوا میں دوچار ہفتے گذار کر دیکھیں کہ ویلج اور نیبر ہُڈ کونسل میں کیا ہورہاہے ؟ کیا اس کا موازنہ پشاور میں ابو طویلے کی حکومت سے یا لارڈ کننگھم کی سرکار سے کیا جاسکتا ہے؟ کیا اس کا موازنہ پشاورمیں مغل دور کے مہابت خان کی صوبیداری سے کیا سکتا ہے ؟ کیا اس کا موازنہ پشاور میں فیلڈمارشل ایوب خان کے بی ڈی نظام سے کیا جاسکتا ہے؟ معقول لوگ اور غیر جانبدار مبصرین کہتے ہیں کہ موجودہ نظام کا موازنہ سابقہ دور کے کسی بھی سسٹم سے کرنا سابقہ نظاموں کی توہین ہوگی۔ جنرل ضیا ء اور جنرل مشر ف کے دور کا لوکل گورنمنٹ سسٹم بھی موجودہ سسٹم سے بہتر تھا۔ اس میں کرپشن موجودہ سسٹم سے کم تھی۔ ویلج کونسل اور نیبر ہڈ کونسل کے نام سے جو نظام دیا گیا ہے یہ جنرل ضیا ء کے نظام زکوٰۃ کی طرح کرپشن آلود ہے۔اس سسٹم نے کرپشن کو گاؤں اور محلے کی سطح پر لا کر گھر گھر پہنچادیا ہے۔ گذشتہ سال کے سیلاب اور پھر زلزلے کی آفتوں کے بعد لوگوں نے دیکھا کہ لوکل گورنمنٹ کے منتخب نمائندے گدھ بن کر “مردار” کے گرد منٖڈلاتے ہیں ۔ مدینہ منورہ کی اسلامی ریاست کتنی پاکیزہ ریاست تھی ؟ یہ تاریخ کی کتابوں میں صراحت کے ساتھ آئی ہے۔ المسعودی اور الطبری نے واضح طورپر مدینہ طیبہ کی اسلامی ریاست کے خدوخال پر روشنی ڈالی ہے۔ امام غزالی ؒ ، شاہ ولی اللہ دہلوی ؒ مولانا مودودی ؒ نے بھی مدینہ منورہ کی سلامی ریاست کا خاکہ بیان کیا ہے۔ ذرا تصور فرمائیں نبی کریم ﷺ کی مبارک زندگی ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا مبارک دور ، خلافت راشدہ کے 41سال ، یہ سب کچھ مدینہ منورہ کی اسلامی ریاست کا نمونہ ہے۔ کم و بیش51 سالوں پر محیط یہ دور “خیروالقرون ” کہلاتا ہے۔ چار موٹی موٹی باتیں ہیں۔ مدینہ منورہ کی اسلامی ریاست سود سے پاک تھی ۔ شراب اور جوئے سے پاک تھی۔ ہمارے ویلج کونسل اور نیبر ہڈکونسل کے نظام کی بنیاد سود ، شراب اور جوئے پر رکھی گئی ہے۔ آمدن کے یہ تین بڑے ذرائع ہیں۔ مدینہ منورہ کی اسلامی ریاست میں تمام فیصلے شریعت کے مطابق ہوتے تھے۔ ہمارے نیبر ہڈ اور ویلج کونسل میں تمام امور انگریزوں کے قانون کے مطابق نمٹائے جاتے ہیں۔ مدینہ منورہ کی اسلامی ریاست میں رشوت ، کمیشن ، سفارش اور اقرباپروری کا کو ئی شائبہ تک نہیں تھا۔ ہمارے نیبر ہڈ کونسل اور ویلج کونسل میں رشوت ، کمیشن، اقرباء پروری اور ناجائز سفارش کے بغیر پانی کا کنکشن بھی نہیں ملتا اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ مدینہ منورہ کی اسلامی ریاست میں زمام کار بہترین لوگو ں کے ہاتھوں میں ہوتی تھی۔ ہمارے نیبر ہڈ اور ویلج کونسلوں میں صورت حال اس کے بالکل برعکس نظر آتی ہے۔ اگر اس کے باوجود آپ موجودہ سسٹم کو ” خیرالقرون ” کی مثال قرار دینے پر بضد ہیں تو ہمیں یہ مثال ایک شرط پر قبول ہوگی۔ شرط یہ ہے کہ سیرت نبوی ﷺ کی تمام کتابوں کو موجودہ سسٹم کے مطابق دوبارہ لکھوائیں۔تاریخ المسعودی اور الطبری کو دوبارہ لکھوائیں۔ظاہر ہے آپ موجودہ سسٹم کو مدینہ کے نمونے پراستوار نہیں دکھا سکتے ۔ کم از کم اسلامی تاریخ کا حلیہ بگاڑ کر اس کو موجودہ سسٹم کے قریب تر دکھانے کی سعی جمیل فرمائیں تو ہمیں تسلی ہوگی کہ واڑی، براول بانڈہ ، سواڑی اور کالام میں مدینہ منورہ کی اسلامی ریاست کا نمونہ آگیا ہے۔



جنون کو خرد کا نام دیاخرد کو جنون کہا جوچاہے ترا حسن کرشمہ ساز کرے

حقیقت یہ ہے کہ لوکل گونمنٹ کا جو سسٹم خیبر پختونخوا میں لایا گیاہے۔اس سسٹم سے بی ڈی کا نظام بھی بہتر تھا۔ جنرل ضیاء اور جنرل مشرف کا نظام بھی بہتر تھا ۔ اس کی خرابیاں ہر ماہ نئے انداز میں سامنے آجاتی ہیں۔ پھررولز میں ترمیم ہوتی ہے۔ اس کے بعد نئی خامیاں نظر آتی ہیں پھر نیاایکٹ آجاتاہے۔ اس کے باوجودنقائص دور ہونے کا نام نہیں لیتے۔پھر ترمیم در ترمیم ہوتی ہے۔ پھر بھی نقائص دور نہیں ہوتے۔ بقول مرزا غالب:
آرائش جمال سے فارغ نہیں ہنوز پیش نظر ہے آئنیہ دائم نقاب میں
تقاضا تو ہر سیاسی لیڈر سے یہ تو ہوتا ہے کہ بات کہتے ہوئے احتیاط کا دامن ہاتھ سے جانے نہ دے ۔جماعت اسلامی کے لیڈوں سے احتیاط کا زیادہ تقاضاً کیا جاتا ہے اور ہمیشہ یہ توقع کی جاتی ہے کہ جماعت اسلامی کی قیادت غیر محتاط زبا ن استعمال نہیں کریگی۔ خاص کر خیرالقرون کی مثال دیتے ہوئے 100بار نہیں بلکہ ہزار بار سو چے گی اور پھر مثال دے گی۔ باٹم لائن یہ ہے کہ نیبرہڈکونسل اور ویلج کونسل کا موجودہ سسٹم فیلڈمارشل کے بی ڈی نظام سے بھی زیادہ ابتر اور بد تر ہے۔ اس کو مدینہ منورکی اسلامی ریاست سے تشبیہ دینا حقائق کے خلاف ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

اترك تعليقاً

إغلاق