ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

دادبیداد……قمری مہینہ اور عجیب اتفاق

……..ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ ……


جمادی الاول 1437ہجری میں قمری مہینے کی تاریخیں سعودی عرب اور پاکستان میں ایک بار پھر ایک جیسی تھیں۔ جما د ی الآخر کی تاریخیں بھی مکہ معظمہ اور پشاور میں ایک جیسی ہیں۔ کراچی اور لاہور والوں نے قمری سال کا تیسرا مہینہ 30دنوں کا مقرر کیا اور تاریخ میں گڑ بڑ ہو گئی۔ ابھی چار مہینے مزید رہتے ہیں۔ جن کو 30دنوں کا مقرر کیا جانے والا ہے۔ کراچی اور لاہور کے لوگ قمری سال کے 7 یا 8مہینے 30دنوں کا مقرر کر تے ہیں۔ 4یا5مہینے 29دن کا ہوتے ہیں۔ پشاور اور چارسدہ کی تاریخ یہ ہے کہ یہاں قمری سال کے 10مہینے 29دن اور 2مہینے 30دن کے ہوتے ہیں ۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ قمری سال کا تیسرا مہینہ 29دنوں سے بڑھ کر 30دن کا ہوا ہو۔ 1437ہجری ایسا سال ہے جب ہم لوگ پرنٹ اور الیکڑانک میڈیا کے دور سے ایک قدم آگے جا کر سوشل میڈیا کے دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ لیکن غضب کی بات یہ ہے کہ رمضان اور محرم کے علاوہ کسی بھی مہینے عوام اور نئی نسل کو ہجری سال کے اسلامی مہینوں کے نام اور ان مہینوں کی تاریخوں کا علم نہیں ہوتا۔ ہمارے بچے گریجویٹ لیول تک جانے کے باوجود عربی اور اردو کے ہندسے نہیں جانتے۔ آپ ستاسی، اکیانوے، ستانوے کہتے ہیں تو وہ نہیں سمجھتے۔ آپ کو مجبوراً ایٹی سیون، نائنٹی ون اور نائنٹی سیون کہنا پڑتا ہے۔ ماسٹر لیول پر دوسرا یا تیسرا سمسٹر پڑھنے والے نوجوان کے سامنے، پیر ، منگل اور بدھ کا نام لیا جائے تو وہ ان ناموں کو نہیں پہچانتا۔ آپ کو مجبوراً منڈے، ٹیوز ڈے اور ونیز ڈے کہنا پڑتا ہے۔ ماں با پ کے خوبصورت الفاظ بچے یا بچی کو یاد نہیں کرائے جاتے۔ ممی، ڈیڈی، پاپا، مما سے کام چلایا جاتا ہے۔ الوادع اور خدا حافظ کے الفاظ کسی بچے کو نہیں آتے۔ بائی بائی اور ٹا ٹا ہمیں بہت اچھے لگتے ہیں۔ اس کو ہم ثقافتی یلغار اور بیرونی سازش کی جگہ اگر اپنی بے حسی، احساس کمتری اور ضمیر کی موت کا نام دیں تو زیادہ مناسب ہو گا۔ اس ضمن میں اسلامی سال اور اسلامی مہینوں کا ذکر بھی آتا ہے۔ اگر ہمارے سیاسی لیڈر، ہمارے سرکاری آفیسر، ہمارے فوجی حکام، ہماری خفیہ ایجنسیوں کے ذمہ دار لوگ، ہمارے اخبارات سے وابستہ احباب اور ہماری کاروباری دنیا کے بڑے بڑے سورما اسلامی ہجری سال، اسلامی قمری مہینوں کے حوالے سے تھوڑے بہت حساس ہوں گے تو ہمارے ہاں ہر سال رمضان شریف کے چاند اور عید کے چاند کا کوئی جھگڑا نہیں ہوگا۔ افغانستان، تاجکستان، ایران اور بھارت کی طرح پاکستان میں بھی رمضان المبارک ، عید وغیرہ کے چاند کبھی متنازعہ نہیں ہوں گے۔ جمادی الاول کا مہینہ گزر گیا۔ اس ماہ کی پہلی تاریخ سعودی عرب اور پاکستان میں ایک ہی دن ہوتی تھی۔ جمادی الآخر کا چاند بھی دونوں ملکوں میں ایک ساتھ نظر آیا۔ کراچی اور لاہور میں چاند دیکھنے کی کوئی قدیم روایت نہیں ہے۔ کوئی دستور نہیں ہے۔ اسلئے وہ لوگ اپنی مرضی سے کسی مہینے کو29دن اور کسی مہینے کو 30دن کر لیتے ہیں۔اس دستور کے تحت کراچی والوں نے مہینہ30دن کا کر لیا۔ سعودی عرب میں جما دی الآخرکی پہلی تاریخ ہوئی۔ پاکستان میں نہیں ہوئی۔ اس سے پہلے بعض حلقوں کی طرف سے یہ دلیل دی جاتی تھی کہ سعودی عرب کا مطلع الگ ہے۔ پاکستان کا مطلع الگ ہے۔ دنیا ایک سے دو ہو جائیگی۔ قیامت قائم ہو گی۔ سورت مغرب سے طلوع ہو گا۔ مگر پاکستان اور سعودی عرب میں ایک ساتھ چاند رات نہیں ہوگی۔ یہ ناممکن ہے۔ محال ہے۔ حالانکہ ہر سال ایسا ہوتا ہے۔ ایران اور افغانستان ہمارے پڑوسی ممالک ہیں۔ تاجکستان اور ازبکستان شمال میں ہمارے قریبی ہمسائے ہیں۔ چاروں ممالک میں قمری مہینے کی تاریخیں سعودی عرب کے ساتھ مطابقت رکھتی ہیں۔ ہر مہینے کی چاند رات سعودی عرب کے ساتھ ہوتی ہے۔ شاذ و نادر اسکے خلاف واقع ہو جائے تو عجیب لگتا ہے۔ پاکستان میں ایسا کیوں نہیں ہو سکتا۔ یقیناًہمارے ملک میں بھی اس کا واضح امکان پہلے سے موجود ہے۔ جب رسل و رسائل کے ذرائع نہیں تھے۔ جب دنیا سمٹ کر قریب نہیں آئی تھی۔ جب فون، ای میل اور فیکس کا نظام نہیں آیا تھا۔ تب بھی سعودی عرب اور پاکستان میں ایک روز عید ہوتی تھی۔ 1950ء کے عشرے میں جن لوگوں نے سمندری جہاز کے ذریعے حج کا سفر کیا ان میں کچھ لوگ اب تک زندہ سلامت ہیں۔ ان بزرگوں کا تجربہ یہ ہے۔ جس روز سعودی عرب میں عید ہوتی۔ واپسی پر معلوم ہوا اس روز پاکستان میں بھی بقر عید تھی۔ یعنی چاند رات ایک تھی۔ ایسے خوش قسمت بہت ہیں۔ جن کے بعد سعودی عرب اور پاکستان کے مشترکہ چاند رات کا پورا ریکارڈ سن اور تاریخ کے ساتھ دستیاب ہے۔ اس سال جمادی الاول اور جمادی الثانی 1437ہجری کے دو چاند رات اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان اور سعودی عرب میں ایک دن روزہ اور ایک دن عید ہوسکتی ہے۔ ایک ہی رات دونوں ممالک کی چاند رات ہو سکتی ہے۔ اگر اس ماہ کراچی اور لاہور والے جمادی الاول کی 30تاریخ پر ضد اور اصرار نہ کرتے۔ تو سرکاری سطح پر پاکستان کی چاند رات سعودی عرب کے ساتھ مل کر ایک ہی رات منائی جا سکتی تھی۔ لیکن مسئلہ وہی پرانا ہے۔ جس کی طرف مرزا غالب نے اشارہ کیا ۔
وہ اپنی خو نہ چھوڑ ینگے ہم اپنی وضع کیوں بدلیں
سبک سر بن کے کیا پوچھیں کہ ہم سے سرگراں کیوں ہو
ہماری حکومتوں پر جمود طاری ہے۔ علماء پر جمود طاری ہے۔ پارلیمنٹ پر جمود طاری ہے۔ بیوروکریسی پر بھی جمود کا غلبہ ہے۔ نئی سوچ اور نئی فکر کا فقدان ہے۔ گزشتہ 55سالوں سے رویت ہلا ل کمیٹی کی قیادت کراچی والوں کے پاس ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا چاند صرف کراچی میں نکلتا ہے؟ اگر ایک بار رویت ہلال کمیٹی کی سربراہی خیبر پختونخوا کے کسی مکتبہ فکر کو دی گئی تو قیامت نہیں آئے گی۔ جمادی الاول اور جماد ی الثانی 1437ہجری کی دو چاند راتیں سعودی عرب کے ساتھ ہونے کے بعد رویت ہلال کے پورے سسٹم پر نظر ثانی کی ضرورت پیدا ہو گئی ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق