تازہ ترین

پاکستان تحریک انصاف انٹراپارٹی الیکشن میں صوبائی صدارت کے امیدوار نوجوان لیڈر ظفریاب خان سے خصوصی ملاقات۔

ظفریاب خان کا تعلق خیبر پختونخوا کے سب سے زیادہ تعلیم یافتہ اور ترقی کی لحاظ سے سب سے پسماند ہ ضلع مالاکنڈایجنسی سے ہے ۔
مالاکنڈ میں بے روزگاری اور نوجوانوں کی بڑھتی مشکلات اور ایسے میں ایک نوجوان ظفریاب خان کا پختونخواہ کی سیاست میں دبنگ انٹری مالاکنڈ کے عوام اور تحریک انصاف کے کارکنوں میں خوشی اور مسرت کا باعث بن رہاہے ۔
Zafaryab Khan 07خصوصی نشست میں ہوئی گفتگو قارئین کو پیش کر رہے ہیں۔
س:
پختونخواہ میں آنے والے انٹراپارٹی الیکشن میں حصہ لینے کا خیال کیسے آیا ؟
ج:
2004 سے پی ٹی آئی کے ساتھ ہوں ہمیشہ پارٹی کے لیے کام کیا اورانشاء اللہ آگے بھی کرتا رہونگا۔پارٹی ورکرز اور نوجوانوں کو سپورٹ کرنے کے لیے میدان میں اترے ہیں کیونکہ عمران خان اور پارٹی کا منشور نوجوان نسل پر مرکوز ہیں اور یہی موقع ہے کہ نوجوان لیڈرشپ کو آگے لایا جائے۔
س:
اس وقت آپ کو کہاں سے سپورٹ مل رہاہے ۔
ج:
اس وقت تو ہمارا پورا دھیان ممبرشپ پر مرکوز ہیں کیونکہ ہم الیکشن جیتنے کے ساتھ ساتھ پارٹی کو گراس روٹ لیول میں مظبوط کرانے پر کام کر رہے ہیں۔رہا سوال سپورٹ کا تو پختونخواہ کے نوجوانوں اور کارکن کی سپورٹ کے علاوہ کیسے بھی دوسرے سپورٹ کی ضرورت محسوس نہیں کرتے ۔
س:
مقاصد کیاہیں؟
ج:
ہمارا مقصد صرف اور صرف پارٹی کی قیادت نوجوان نسل کو ٹرانسفر کرنا ہے۔تاکہ عمران خان اور پی ٹی آئی کے نئے پاکستان کے ویژن کو عملی طور پر نافذ کرسکیں۔
ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے نوجوان نسل میں وہ سب صلاحیتیں موجود ہیں جو پارٹی اور پاکستان کو کم وقت میں آگے لے جا سکے ۔
س:
کیا آپ صوبائی سطح پر پارٹی میں موجود بڑے گروپس کو زیر کرنے میں کامیاب ہو جاؤ گے ؟
Zafaryab Khan 08ج:
ہم نوجوانوں کے حقوق کا جنگ لڑ رہے ہیں اور سب جانتے ہیں کہ ہمارے نوجوان اور پارٹی کارکنان عمران خان کے ویژن اور نئے پاکستان کا خواب لیے پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ ہیں اور وو خوب جانتے ہیں کہ پارٹی کو اب نئے دور کے نوجوان قیادت ہی ترقی کے راہ پر گامزن کرسکتے ہیں۔
ہم پختونخواہ میں پارٹی کو مضبوط کرنے کے لیے ایک جامعہ پروگرام رکھتے ہیں جو پارٹی کارکنان اور پروفیشنلز کے ساتھ ملکر ترتیب دیا گیا۔انشاء اللہ اسے پروگرام پر آگے بڑھ رہے ہیں اور کامیابی کے لئے پرعزم ہیں۔
س:
کیا آپ پارٹی میں موجود اختلافات کو ختم کرنے کے لیے بھی کوئی پروگرام رکھتے ہیں؟


ج:
پاکستان تحریک انصاف ایک سیاسی پارٹی ہے اختلاف رائی جمہوریت کی حسن ہے اس کے علاوہ پارٹی میں کوئی اختلاف نہیں، لیکن اگر کسی کو بھی پارٹی کے اندر کسی کے کام کرنے پر اعتراضات ہیں تو اس کو خوش اصلوبی کے ساتھ اینڈل کرنے اور مل جل کر نئے پاکستان کے لیے کام کرنے پر آمادہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اور انشاء اللہ جب موقع ملے گا سب کو ایک ساتھ مل کر چلیں گے۔
س:
کیا پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا میں چینج لانے میں کامیاب رہی ہے؟
ج:
دیکھیے ، جب تک ہم خود چینج لانے کے لئے خود میں چینج نہیں لائنگے چینج کا خواب خواب ہی رہ جائیگا۔پاکستان تحریک انصاف پہلی پارٹی ہے جس نے اپنے منسٹرز کو احتساب کیلئے پیش کیاصحت اور تعلیم کے محکمے میں انقلابی اقدامات کئے گئے ہیں جس کے ثمرات جلد عام عوام تک پہنچ جائے گی۔ محکمہ پولیس اور ریونیو ڈیپارٹمنٹس میں اصلاحات سے عوام مستفید ہو رہے ہیں۔
س:
کیا پاکستان تحریک انصاف صحیح سمت پر گامزن ہے ؟
ج:
بالکل درست سمت میں جا رہے ہیں پاکستان تحریک انصاف پاکستان کی پہلی پارٹی ہے جو اپنے عہدیدار عام ورکرز کے ووٹنگ سے منتخب کرآنے جارہا ھے ۔۔۔ پاکستان تحریک انصاف واحد جماعت ہے جس کے چیئرمین عمران خان پر کرپشن کا کو الزام بھی نہیں لگا سکتا۔اور انشاء اللہ آنے والے انٹراپارٹی الیکشن
کے ذریعے جو لیڈرشپ سامنے آئی گی وہ بالکل عام عوام سے ہوگی ۔
س:
کیا پاکستان تحریک انصاف انٹراپارٹی الیکشن کے ذریعے شفاف لیڈرشپ آگے لانے میں کامیاب ہوگی؟
Zafaryab Khan 09ج:
عمران خان نے یہ موقع فراہم کیا ہے کارکنان کواب یہ کارکنان پر فرض بنتاہیک وہ ووٹ کے ذریعے عوام دوست اور شفاف لیڈرشپ کا چناؤ کریں۔اور میں تمام کارکنان اور نوجوانوں کو یہ بات کرتا ہوں کہ وہ انٹراپارٹی الیکشن میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔۔۔اور اپنے لیے صالح قیادت کا انتخاب کریں۔
س:
پختونخواہ میں امن و امان کے صورتحال پر آپ کی کیا رائے ہے ؟

ج:
اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت پختونخواہ حکومت کے لیے سب سے بڑا مسئلہ امن و امان کا ہے اور امن و امان کے بغیر ترقی کرنا ناممکن ہے ۔پولیس اصلاحات کے بعد کیسے حد تک تو حالات پر قابو پایا جا سکا ہے لیکن پھر بھی حکومت کو مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
س:
آپ کے خیال میں نوجوانوں کی بے روزگاری کے پیچھے کن عوامل کاہاتھ ہے ؟
ج:
پیچلے کئی دہائیوں سے نوجوان نسل کے مسائل پرکسی نے بھی توجہ نہیں دی اس وقت دنیا سائنس اور ٹیکنالوجی کے استعمال سے ترقی کے منازل طے کر رہے ہیں جبکہ ہمارے ہاں وہی روایتی انداز سے تعلیم و تدریس کا طریقہ رائج ہے جوہمارے نوجوانوں کو نئے وقت کے مطابق تیار کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے ۔دوسراکسی بھی حکومت نے نئے انڈسٹری لگانے پر کوئی توجہ نہیں دی کوئی بھی سیاسی اور عسکری حکومت نیک نیتی سے روزگار کے مواقع فراہم کرنے پر کام نہیں کیا جس کی وجہ سے بے روزگاری میں اضافہ ہوتارہااورہمارے بہت ہی قابل اور ٹیلینٹیڈ نوجوان دوسرے ممالک روزگار کے حصول کیلئے شفٹ ہوتے رہیے جو ایک لمحہ فکریہ ہے ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
مزید دیکھائیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق