ارشاد اللہ شاد

(رُموز شادؔ )….نجانے کیا ہوگا ہمارے اس ملک کا۔۔۔؟؟

 (ارشاد اللہ شادؔ ۔۔بکرآباد چترال)
عالمی میڈیا اور حالات حاضرہ پر نظر رکھنے سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ ہماری تہذیب ، ہماری ثقافت اور ہمارے نظریات مغرب سے امپورٹ کئے ہوتے ہیں ۔ جن پر بیرونی اثرات کی چھاپ اور ان کے اصولوں کی مہر لگی ہے۔ فائلوں کی پلندے ان کی لینگوئج کی عکاسی کرتے ہیں ، عدالتوں کی رکھ رکھاؤ ان کی محبت کا ثمرہ دکھائی دیتے ہیں ۔ وضع قطع اور سیرت و کردار ان کی کسوٹی نظر آتا ہے۔ہر چینل گویا ہمارے ملک سے محبت کرتا ہے ۔ دیکھا دیکھی کے بھاگتے دوڑتے اور گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے اس دور میں مغرب کی چھاپ نے جو اثر ہمارے قلوب و اذھان پر کیا ہے اس کی توقع فرنگی گوروں کو کم از کم اس حد تک نہ تھی جس حد تک ہم جا چکے ہیں۔ بیرونی اشارات کو عملی زبان دینے کا جور رجحان ہماری اس مملکت خداداد میں دیکھنے کو ملتا ہے شاید ہی ایسی کوئی اور لیبارٹری ہو۔۔۔ قسمت کے رکھوالے اور سیاہ سفید کے مالک جو حکمران ہمیں ملے ہیں اور ملتے ہیں شاید ایسے حاکموں کو مغرب ترستا ہوگا کہ جو اشارہ آبرو پہ اچلھیں ، انگلی کی پوروں سے ٹھمکیں، لب کے ہلنے سے لپکیں، زبان کی جنبش سے تڑپیں، غصہ نگاہ سے ٹھرکیں ، ٹیلی فون کال پہ ناچیں اور حکم کے آگے سر تسلیم خم کر دیں۔ ایسے حکمران کسی قسمت والے ہی کو ملیں گے ۔۔ یہ تو ہماری قسمت ہے نا۔۔۔۔!
انہو ں نے جو ستیا ناس کرنا تھا ، کرلیا ۔ رہی سہی کسر الیکٹرانک میڈیا نے پوری کردی ۔ عریاں بازؤں والی تصاویر کے رنگ برنگے رسائل ، ٹی وی چینلز پہ دکھائی جانے والے عشق و محبت کے من گھڑت کردار آج خود ہمارے درمیان موجود نظر آتے ہیں۔ بازاروں اور پارکوں میں چہل پہل کرتی ہمارے اس ملک کی ماؤں اور بہنوں کو نظر بصیرت سے دیکھا جائے تو شرم سے آنکھیں جھکا چاہتی ہیں۔ سینڈلوں کی ٹھکا ٹھک ، زیوروں کی جھنکار اور ملبوسات کی نمائش کرتے ہوئے آج کی انٹر نیشنل خواتین گھروں پر راج کرنے کی بجائے پرستاروں کے جھرمٹ میں رہنا پسند کرتی ہیں اور میڈیا اسکو اسقدر اچھالتا ہے کہ الامان والحفیظ۔
آج نئے نئے چہرے سامنے آرہے ہیں ، لباس مختصر سے مختصر ہوتا چلا جارہا ہے اور بنیا ن فیشن ایبلمنٹ کا حصہ بن چکی ہے۔ سوسائٹی کو دیکھ کر فرانسسکو اور نیو یارک کی بیہودگی بھی کونے کھدروں میں چھپتی نظر آتی ہے۔ نمود و نمائش کی خاطر اشتہارات و پبلسٹی آج کی عورت کا حصہ نظر آتی ہے۔ جدیدیت اور ماڈریت دنیا نے عورت کو شوبیس بنا دیا ہے جسکی وجہ سے آج عورت عورت نہیں رہی بلکہ عورت کے نام پہ سماج پر ایک دھبہ بن چکی ہے۔ غالبؔ نے خوب کہا ہے کہ شرم تم کو مگر نہیں آتی۔۔۔
مجھے اس میں تھوڑی سی ترمیم کی اجازت دیجئے اور شاید مجھے اس کا حق بھی ہے کیونکہ جہاں مطلق العنان صدر کو قانون میں پان اور نسوار کی ڈبیا کے بھاؤ میں ترمیم کرنے کی اجازت ہو تو مجھے بھی فقط ایک شعر میں تبدیلی کی اجازت تو ہونی چاہیے۔۔۔ کہ شرم ہم کو مگر نہیں آتی۔۔۔ کیونکہ اس میں ہم سب شریک ہیں آج ہمارے ملک کی باگ ڈور سنبھالنے والے حکمران ان مسندوں تک کیسے پہنچے ہیں؟ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے شکنجوں میں پھنسنے والے ان حاکموں کے ہاتھوں میں تقدیر کی ڈور کس نے تھمائی ہے؟ یہ سب ہمارا کیا دھرا ہے۔۔۔۔۔۔
پاکستا ن کی عمر 65سال سے تجاوز کر چکی ہے ۔ لیکن ہم بارے جواری کی مانند ابھی تک ٖڈگمگا رہے ہیں ، ایک حصہ ہم کھو چکے ہیں ایک کا فیصلہ ابھی باقی ہے۔ نجانے کیا ہوگا ہمارے اس ملک کا۔۔۔؟ آج جدھر دیکھئے ، ہم پر نگاہیں کڑی ہیں، کوئی حملہ کی دھمکی دیتا ہے ، تو کوئی اقتصادی بائیکاٹ کی۔۔۔
بیرونی من گھڑت آقاؤں کے پروردہ پیادے جیسے مرضی ہوتی ہے کرتے چلے جاتے ہیں ۔ اپنے وقار اور اپنی علامات تشخص کو خود ہم نے اپنے ترقی کے خوابوں کے بوٹوں تلے مسلا ہے۔۔۔ تہذیب کو داؤ پر لگا کر ثقافت کی منڈی میں کریلوں کی چھاپڑی لیکر ترقی کی منزل ڈھونڈے چلے ہیں۔۔۔ارے ہاں ترقی تو ہم میں آگئی ہے کہ آج ہمیں دیکھ کر یورپ بھی شرماتا ہے ، �آج رسائل پر فحش تصاویر دیکھ کر کسی طور پر بھی یہ نہیں لگتا کہ یہ کسی مسلمان کے گھرانے میں پرورش پانے والی عورت ہے۔ کیا یہی ہے وہ معاشرہ جس کے خواب اقبال نے دیکھے تھے۔۔۔؟ ہر گز نہیں۔ وہ تو مسلم نوجوان کو طارق، ٹیپو، غزنوی بنانے کے خواہاں تھے، وہ تو ہر عورت میں خنساء اور عماّرہ کی جھلک دیکھنا چاہتے تھے۔ ۔۔ مگر افسوس کہ اس کی ہمیں بھی خبر ہے لیکن ’’ شرم ہم کو مگر نہیں آتی‘‘ ۔۔۔


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق