ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

صدا بصحرا……قاق لشٹ ہاؤسنگ سکیم کا قضیہ

……ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ ……



خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی میں ایک قرار داد کے ذریعے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ چترال میں قاقلشٹ ہاؤسنگ سکیم کا منصوبہ فی الفور بند کیا جائے۔ اس منصوبے سے ماحولیاتی مسائل کے ساتھ عوام میں بے چینی پھیلے گی جو امن و امان کے لئے نقصان دہ ہوگی۔ صوبائی اسمبلی کی قرار داد آنے کے بعد اخباری حلقوں میں پوچھا جا رہا ہے کہ سکیم کس مرحلے میں تھی؟ اس پر کتنی لاگت آتی تھی؟ منصوبے کو روک دینے سے حکومت کا کتنا نقصان ہوگا؟ حقیقت میں یہ منصوبہ ابھی کاغذات میں ہے۔ اعلانات میں ہے۔ بیانات میں ہے۔ اس سے بات آگے نہیں بڑھی۔ جن لوگوں نے 2014ء میں اس منصوبے کی تجویز پیش کی تھی۔ وہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو راستے سے ہٹانا چاہتے تھے۔ حکومت کے لئے مشکلات پیدا کرنا چاہتے تھے۔ وہ لوگ اپنے مقاصد میں کامیاب ہو گئے ہیں ۔ضلع چترال میں پاکستان تحریک انصاف کو قومی اسمبلی کی نشست پر 26ہزار اور صوبائی اسمبلی کی دو نشستوں پر 15ہزارووٹ پڑے تھے۔ جنرل مشرف کی غیر معمولی مقبولیت کی وجہ سے پی ٹی آئی کا امیدوار قومی اسمبلی کی نشست پر معمولی مارجن کے ساتھ ہار گیا تھا۔ اندازہ یہ تھا کہ صوبائی حکومت 26ہزار ووٹوں کے بدلے چترال میں ترقیاتی سکیموں کا جال بچھائے گی۔ اس کو روکنے کے لئے مخالفین نے پی ٹی آئی حکومت کو نان ایشو پر لگا دیا۔ ہر سال ترقیاتی سکیموں کے فنڈ واپس کئے گئے۔ 3سالوں کے اندر ضلع چترال میں کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوا۔ 2012ء کے سیلاب میں جو سڑکیں متاثر ہوئی تھیں وہ بحال نہ ہوسکیں۔ 2013ء اور 2014ء میں مزید تبائی آگئی ۔ 2015ء کے سیلاب میں پل اور سڑکیں مزید برباد ہوئیں۔ پورا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہوا۔ اس پر توجہ نہیں دی گئی۔ سکولوں کی جو عمارتیں 2012میں مکمل ہونی تھیں۔ ان کو سٹاف نہیں ملا۔ جو عمارتیں 2012ء میں 95فیصد مکمل تھیں۔ ان کے بقیہ 5فیصد کام پر کسی نے توجہ نہیں دی۔ ترقی کا م کا پورا پہیہ جام کر دیا گیا۔ اس صورتحال میں چترال کے اندرہاؤسنگ سکیم کا منصوبہ بار بار سننے میں آرہا ہے۔ قاقلشٹ مقامی زبان میں خشک میدان کو کہتے ہیں۔ یہ خشک میدان چترال کے سابق ضلع مسوج کی تین تحصیلوں کو ملاتا ہے۔ 4کلومیٹر طویل اور 2کلومٹر چوڑے میدان کے مشرق میں تورکھو، مغرب اور جنوب میں تحصیل مستوج جبکہ شمال میں تحصیل موڑکہو آتا ہے۔ تاریخی اور ثقافتی لحاظ سے یہ میدان تین تحصیلوں کے عوام کی شاملات کا حصہ ہے۔ قدرتی آفات کی صورت میں تینوں تحصیلوں کے لوگ یہاں پناہ لیتے ہیں۔ اب بھی لوگوں کے خیمے قاقلشٹ میں موجود ہیں۔ تقریباً 70گھرانوں نے یہاں پناہ لی ہوئی ہے۔ اگر ماحولیاتی جائزہ لیا جائے تو قاق لشٹ نایاب نباتات اور نایاب پرندوں کے لئے مشہور ہے۔ باز یہاں ڈیرہ ڈالتا ہے۔ ڈی آئی خان، صوابی ، رحیم یار خان اور دیگر علاقوں کے لوگ باز پکڑنے کے لئے پرمٹ لے کر قاق لشٹ آتے ہیں۔ اگر جدید دور کی ترقی کا ذکر کیا جائے تو پانی فراہم ہونے کے بعد یہ جگہ کیڈٹ کالج، ایئر پورٹ اور فوجی چھاؤنی کے لئے مناسب جگہ ہے۔ اس مقام سے دو شنبہ، خوروگ اور مرغاب کے شہروں کا ہوائی فاصلہ 25منٹ سے لے کر 35منٹ تک کی پرواز تک ہے۔ اشک آباد ، کاشغر، سمر قند، بخارا ، کابل اور ارومچی کے تاریخی شہر بھی زیادہ دور نہیں ہیں۔ قاق لشٹ کا ہوائی اڈہ وسطی ایشیاء کا گیٹ وے کہلائے گا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی اہم جگہ ہاؤسنگ سکیم کے خلاف صوبائی اسمبلی میں قرار داد کیوں منظور کی گئی؟ آخر اس کی کیا وجہ ہے؟ قرار داد کا پس منظر بہت دلچسپ ہے۔ جب سے ہاؤسنگ سکیم کا شوشہ چھوڑا گیا۔ اس وقت سے پورے علاقے میں احساس محرومی جنم لے رہی ہے۔ علاقے کی ڈھائی لاکھ آبادی ہمیشہ سے پر امن رہی ہے۔ یہ آبادی ایک ہی نسل سے تعلق رکھتی ہے اور خیبر پختونخوا میں نسلی اقلیت تصور کی جاتی ہے۔ اس وجہ سے اس کو حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے۔ ہاؤسنگ سکیم آنے کے بعد باہر سے 50ہزار کی آبادی کو لاکر یہاں آباد کیا جائے گا اور سرمایہ دار طبقہ اپنے سرمائے کے ذریعے علاقے کے محدود قدرتی وسائل پر قبضہ کر لے گا۔ نسلی اور لسانی اقلیت مزید محرومیوں کا شکار ہو جائے گی۔ کیونکہ باہر سے آنے والے نئے لوگوں کی بڑی تعداد میں آباد کاری سے علاقے کی ڈیمو گرافی بدل جائے گی۔ جرائم کی شرح بڑھے گی اور علاقے کا پرامن ماحول بربادی سے دوچار ہو جائے گا۔ قرار داد کے پس منظر میں دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ علاقے کے لوگ غریب ہیں۔ یہاں شرح غربت 65فیصد سے زیادہ ہے۔ ان کی گلہ بانی کا دارو مدار ان شاملات پر ہے۔ یہ شاملات اگر باہر سے آنے والے سرمایہ دار طبقے کے ہاتھ میں دے دئے گئے تو قاقلشٹ کے اطراف میں واقع 27دیہات کے لوگ گلہ بانی کو خیر آباد کہہ دیں گے۔ ان کی موروثی ، دستوری چراہ گاہ پر دوسروں کا قبضہ ہو جائے گا۔ غربت کی شرح مزید بڑھے گی۔ نسلی اور لسانی اقلیت کواور بھی زیادہ محرومیوں کا سامنا ہو گا۔ قرار داد کے پس منظر میں اہم بات یہ بھی ہے کہ قاقلشٹ ہاؤسنگ سکیم کا اب تک ماحولیاتی سروے نہیں ہوا۔ ماحولیاتی ماہرین کے جائزے (EIA) کے بغیر ہاؤسنگ سکیم آگئی تو علاقے کی ماحولیات پر اس کے تباہ کن اثرات پڑیں گے ۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ 10مقامات پر سڑکیں اور پل سیلاب میں بہہ گئی ہیں۔ 25مقامات پر سکولوں کی عمارتیں 3سالوں سے ادھوری پڑی ہیں۔ 87مقامات پر سیلاب سے بچاؤ کے پشتوں کی تعمیر کا کام حکومت کی توجہ کا منتظر ہے۔ 140مقامات پر آبپاشی کی نہریں متاثر ہوئی ہیں۔ ریشن کے مقام پر 4میگا واٹ کا بجلی گھر سیلاب میں تباہ ہو گیا ہے۔ ان تمام کاموں کو چھوڑ کر حکومت قاقلشٹ ہاؤسنگ سکیم کو کس بنیاد پر اولیت دے رہی ہے۔؟ یہ بات عوام کے دلوں میں شکوک اور خدشات پیدا کرتی ہے۔ صوبائی اسمبلی کی قرار داد ان خدشات کا نتیجہ ہے۔ اسلئے صوبائی حکومت کو چاہیئے کہ قاقلشٹ ٹاؤن شپ سکیم سے دست برداری کا اعلان کر کے چترال کی تعمیر و ترقی اور ضلع کے پر امن ماحول کی بحالی پر توجہ دے۔ یہ منصوبہ پی ٹی آئی کے خلاف گہری سازش کا نتیجہ ہے۔ یہ پی ٹی آئی کے ہمدردوں کی سکیم نہیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

اترك تعليقاً

إغلاق