
دھڑکنوں کی زبان….’’ کمال الدین پرنسپل ‘‘ جی سی ایم ایچ ایس برائے طلباء چترال
….تحریر: محمد جاوید حیات …..
گورنمنٹ سنٹینل ماڈل ہائی سکول برائے طلباء چترا ل کے موجودہ پرنسپل کمال الدین 52 سال کے
ایک پر عزم باصلاحیت شخصیت ہیں۔ ان کو عہد ہ کمیشن میں ملا اور پھر اتنے تاریخی اور بڑے ادارے کے سربراہ ہونے کا اعزاز خود ملا۔ جی سی ایم ایچ ایس چترال ضلع کا اولین مادر علمی ہے اس کی درد دیوار سے تاریخی جھلکتی ہے۔کتنے سور ما یہاں سے اُٹھے کتنے زال یہاں سے پرورش پائے۔ کتنے شمع فروزاں نے یہاں سے علم کی روشنی حاصل کی۔یہ پوری ایک تاریخ ہے۔اور اپنے آپ کو مزید تاریخی بنانے کا منتظر ہے۔میں سوچتا ہوں کہ لوگ آآکر کیوں اس کے درد دیوار کو بوسہ نہیں دیتے ہیں ۔ مجھے یہاں پر پڑھانے پر جو فخر ہے وہ اس میں پڑھے ہوئے کوکیوں نہیں ہے۔ یہ قوم کی زیارت گاہ ہے اور پر خلوص اسلاف کایادگار تحفہ ہے۔ اس ادارے کی روایات ہیں، اس کے میعارات ہیں۔اس کے بچوں کی شناخت ہے۔یہاں کے اساتذہ کو ایک گونہ احساس برتری ہے مگر اس برتری کوکوئی کش کر ئے تو۔۔۔ اس لئے یہاں کے سربراہ کو بہت ارفع مقام کو کش کر نا ہوتاہے۔کمال الدین صاحب علاقہ کوشت میں محمد بیگے قوم کے معزز خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔خاندانی روایات ، پولو ، شکار مزارع اور جائیداروں کی رکھوالی کی روایات اب بھی برقرار ہیں ۔حویلی کی روایات جس کے اندر بڑھوں،چھوٹوں بزرگوں کے مقام کی روایات اب بھی برقرار ہیں۔کمال الدین صاحب نے گاؤں کے سکول سے تعلیم حاصل کی ۔چترال کالج سے ایف ،اے کیا ،کراچی یونیورسٹی ہے گریجو یشن اور ایم اے اسلامیات اور پھر ایم اے عربی کیا ایم اے عربی میں پوری یونیورسٹی میں دوسری پوزیشن حاصل کی، بی ایڈ کیا ۔علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے ای پی ایم کیا ایم فل کیا کمیشن میں پہلے ایس ایس ٹی پوسٹ پر تعینات ہوئے پھر گریڈ 18 میں کمیشن میں کامیابی ہوئی ۔ پرائمری کے( ایس ڈی او)رہے۔ کمال لدین صاحب انگریزی اردو عربی میں دسترس رکھتے ہیں۔تحریر اور تقریر کا ملکہ ہے۔انتطامی امور میں’’نو کمپرومائیزیشن ‘‘کے قائل ہیں ۔موجودہ سکول میں اگست 2015 ء میں چارچ لیا۔ ان کو انتظامی امور کا تجربہ ہے انہوں نے ایسٹس کو کوری شیڈول کیا ۔سکول ہال کی توسیع کی تکمیل اور سکول لان کی تعمیر وآرائش کاکام شروع کیا اور اس تاریخی ادارے کو شاندار اور دیدہ زیب بنانے میں تن من دھن سے مصروف ہیں۔سکول سکوریٹی کو بہتر بنانے کی طرف توجہ دی ۔سکول پرنسپل ہاؤس تعمیر کرنے کے لئے دوڑ دھوپ شروع کی ۔ان تھک کو ششوں سے سکول کو ہائیر سکینڈری بنا نے کی کاؤش پھل لائی اور انشاء اللہ اس سال 2016 ء کو سکول ہائیر سکینڈری بنے گا ۔ اس کی تاریخی حیثیت او رروایات برقرار رکھنے کے لئے اس میں مختلف پروگرامات کا آغاز کیا ۔ماہانہ بزم ادب تقریب کا آغاز کیا ۔کلاس وائز ٹورنامنٹ کر وایا اور اس سال (آئی ایس ایس ایف) انٹر سکولز سپورٹس فیسٹول میں سکول کی فٹ بال اور کرکٹ ،ٹیم نے ضلع میں ٹورنامنٹ جیت کر سب ڈویزثل مقابلوں کے لئے سوات گئیں ۔ان کے علاوہ اردو تقریر میں سکول کے طالب علم نے صوبے میں دوسری پوزیشن حاصل کی ۔ مضمون نویسی اردو ، انگریزی میں ، ڈرائینگ میں قومی ترانہ میں ضلع میں مقابلے جیت گئے ۔ سکول میں صفائی کا انتظام ،لائٹنگ اوردوسرے سکیورٹی انتظامات درست کرنے پر توجہ دی۔ ۔ اساتذہ کو اُن کا مقام دینے اور سکول میں تعلیم و تعلم کی سرگرمیوں میں توجہ اور دلچسپی لیتے ہیں ۔سکول میں کلاس فوراسٹاف کو فعال بنا نے کی سعی کی ۔ دوسرے محکموں اور این جی اوز کے ساتھ ادارے کے معیار کے مطابق ڈیل کرتے ہیں ۔سالانہ بورڈ ا متحانات میں اپنے اساتذہ کے فعال کردار پر کمپرو مائز نہیں کرتے ۔ ان کو ڈیو ٹیاں دلوانے ان کے حق کے لئے لڑنے میں کمانڈر کاکردار ادا کرتے ہیں ۔ماہانہ میٹنگز ہوتی ہیں ان میں سکول سے متعلق ہر مسئلے کی نشاند ہی ہو تی ہے اس کا حل ڈھونڈا جاتاہے۔ ہر کامشورے سے کرتے ہیں ہر سٹاف ممبر کی رائے کا احترام کرتے ہیں سکول میں بزم ادب، سپورٹس کمیٹی ، سائنس پروجیکٹس لا ئبر یری انچارج کی سرگرمیوں کی سرپرستی کرتے ہیں۔ سکول کے اندر کنٹین کھول کر بچوں کوسب خوردونوش کی اشیا ء مہیا کی جاتی ہیں اساتذہ کا سٹاف روم باقاعد ہ فنکش کررہا ہے ۔ سکول میں سٹاف روم میں ٹی وی اور لائبر یر ی میں ہرقسم کی کتا بیں مہیا ہے ۔دفترمیں کمپیوٹر ، پرنٹر، نیٹ کی سہولیات ہیں۔اخبار ہے۔۔ کمال الدین صاحب اپنی زات کے محترم ومہذب شخصیت ہیں سب کا دل سے احترام کرتے ہیں۔اپنے دفتر میں سب کا کھڑے ہوکر استقبال کرتے ہیں ۔ ہر کام کو سٹاف کے حوالے سے بیان کرتے ہیں ۔اور تعاؤن کے متعارف ہیں ۔وہ اپنے ادارے کو مختلف تحفظات سے پاک رکھے ہوئے ہیں ۔اس کے اندر خالص تعلیمی ماحول پیدا کرنے کے لئے کوشان ہیں ۔داخلی امتحانات میں معیار برقرار رکھنے اور باہر سے داخلوں میں میرٹ پر عمل کر نے پر زور دیتے ہیں ضلعی سطح پر مختلف فلاحی کاموں میں سکول میں بوائی سکاوٹ دستے کے ساتھ ہراول دستے کا کردار ادا کرتے ہیں ۔اپنے سٹاف کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔مشور ہ لیتے ہیں مگر ان کی رائے آخری ہوتی ہے۔ وہ مذہبی اور پڑھا کوشخصیت ہیں ۔اہل علم ہیں ان کو موجودہ دور کے ابگینیوں کااحساس ہے اس لئے اپنے طلباء کی بہتررہنمائی کرتے ہیں،۔
